انڈیا: ’ڈونلڈ ٹرمپ ایونیو‘ پر امریکی صدر خوش، سیاسی جماعتوں کی تنقید

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈیا میں سڑک کو اپنے نام سے منسوب کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے تاہم نئی دہلی میں اس اقدام پر تنقید کی جا رہی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو ٹروتھ سوشل پر لکھا: ’حیدرآباد، انڈیا میں نیا ’ڈونلڈ ٹرمپ ایونیو۔‘ اس طرح کا اعزاز پانے والے پہلے امریکی صدر۔ شکریہ۔ صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ‘

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انڈیا میں حزب اختلاف کے زیر اقتدار ٹیکنالوجی مرکز حیدرآباد میں اہم سڑک کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام سے منسوب کرنے پر تنقید کی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی اپنی حکمران جماعت نے اس اقدام کو ’منافقت‘ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دور صدارت میں امریکہ اور انڈیا کے تعلقات خراب ہوئے ہیں۔ واشنگٹن نے انڈین مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کیے، روسی تیل خریدنے پر نئی دہلی کو سزا دی اور انڈیا کے روایتی حریف پاکستان کے ساتھ قریبی روابط بڑھائے۔

امریکی صدر کے نام سے منسوب کی گئی سڑک جنوبی ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت میں واقع ہے، جہاں مرکزی حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کی حکومت ہے۔

یہ سڑک امریکی قونصل خانے سے ملتی ہے اور مائیکروسافٹ، گوگل اور ایمازون جیسی بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے دفاتر کے قریب واقع ہے۔

اس سڑک کو رواں ہفتے منگل کو نیا نام ’ڈونلڈ ٹرمپ ایونیو‘ دیا گیا۔ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب کانگریس مودی پر الزام لگا رہی ہے کہ وہ محصولات سے لے کر ایران جنگ کے دوران انڈین عملے والے ٹینکروں پر امریکی حملوں تک، مختلف معاملات پر ٹرمپ کے سامنے سخت مؤقف اختیار نہیں کر رہے۔

مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ترجمان شہزاد پوناوالا نے بدھ کو ایکس پر کانگریس کے سینیئر رہنما کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا: ’راہل گاندھی کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ انڈین مفادات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے سوال کیا کہ ’پھر تلنگانہ میں ان کی حکومت ایک سڑک کا نام ٹرمپ کے نام پر رکھ کر انہیں اتنا بڑا خراج تحسین کیوں پیش کر رہی ہے؟‘

اس اقدام کا اعلان رواں ماہ کیا گیا تھا، جس پر دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی تنقید کی۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ نے اسے ’اشتعال انگیز‘ قرار دیتے ہوئے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

کانگریس کا کہنا ہے کہ سڑک کا نام تبدیل کرنے کا یہ اقدام دونوں ملکوں کی شراکت داری میں حیدرآباد کے بڑھتے ہوئے کردار کو ظاہر کرتا ہے۔

ٹرمپ اپنے دونوں ادوار صدارت میں حیدرآباد نہیں گئے، تاہم ان سے پہلے امریکی صدور بل کلنٹن اور جارج ڈبلیو بش دونوں اس شہر کا دورہ کر چکے ہیں۔

ٹرمپ اور مودی کی ملاقات گذشتہ ہفتے فرانس میں جی سیون سربراہ اجلاس کے موقعے پر ہوئی، جہاں دونوں رہنماؤں نے اس تجارتی معاہدے کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا، جس پر وہ مذاکرات کر رہے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *