ہمارے ملک میں لوگ خاندانی نظام میں رہتے ہیں اور اس بات کے خواہاں نظر آتے ہیں کہ ان کی اولاد کی شادی ان کی ذات، برادری، فرقے اور خاندان میں ہی ہو۔
اگر جوڑ اچھا بن رہا ہو تو کوئی مضائقہ نہیں کیوں کہ گھر کے بچوں کے رویے اور کردار سے سبھی واقف ہوتے ہیں تو ایک اطمینان ہوتا ہے، لیکن پاکستان میں اکثر ذات برادری کے نام پر نوجوان نسل کو مسائل کے دلدل میں دھکیل دیا جاتا ہے۔
کبھی جائیداد، کبھی رسومات تو کبھی پرانے وعدوں کی قیمت نئی نسل ادا کرتی ہے۔ کبھی کبھی بزرگ بستر مرگ پر بے جوڑ شادی کی فرمائش کردیتے ہیں، جو ان کے خاندان کے بچے رد نہیں کر پاتے۔
اکثر خاندان کے نام پر بے جوڑ رشتے کیے جاتے ہیں اور زبردستی شادیاں کروائی جاتی ہیں۔ زیادہ تر نوجوان خاموشی سے اس ناانصافی کو برداشت کرلیتے ہیں لیکن کچھ باغی بن کر اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کچھ کمزور لمحات میں دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر زندگی کا خاتمہ کر لیتے ہیں۔ ہمیں بطور معاشرہ نوجوانوں کی خواہشات کا احترام کرنا چاہیے۔ ہمیں ان کی بات، ان کی پسند نا پسند کو اہمیت دینا چاہیے لیکن اکثر ایسا نہیں ہوتا، ان کو یہ کہہ کر چپ کروا دیا جاتا ہے کہ تم لوگوں نے دنیا کب دیکھی ہے، ہمارا تجربہ ہے۔ تمہاری بات تو بچپن میں ہی طے ہوگئی تھی۔ ایموشنل بلیک میلنگ کی جاتی ہے۔
نوجوان اپنی پسند سے شادی کرنا چاہتے ہوتے ہیں، وہ اس بات کا اظہار بھی کردیتے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ پھر وہ انتہائی قدم اٹھا کر گھر چھوڑتے ہیں اور عدالت یا مسجد میں جاکر شادی کر لیتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں یہ عمل پسند نہیں کیا جاتا اور اس کو بھاگ کر شادی کرنے جیسے تذلیل والے جملے سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ جیسے جیسے بات پھیلتی ہے لوگ بھی اس کو خوب ہوا دے کر گھر والوں کو اشتعال دلاتے ہیں۔
’وہ دیکھو ان کی لڑکی گھر سے بھاگ گئی، ان کا کا لڑکا دیکھو کیسا بدکردار نکلا، دوسروں کی لڑکی نکال کر لے گیا۔‘ اس طرح کے جملے اہل خانہ کی تذلیل کے لیے بولے جاتے ہیں۔
یوں اہل خانہ جو پہلے ہی اس رشتے پر راضی نہیں ہوتے وہ اسے غیرت کا معاملہ بنا کر مزید اشتعال میں آجاتے ہیں۔ یہاں سے نئے جوڑے کی بدقسمتی کا آغاز ہوتا ہے۔
معاملات یہاں تک آنے ہی نہیں چاہییں۔ گھر کے بڑوں کو گھر کے چھوٹوں کی خواہشات کا احترام کرنا چاہیے۔ اگر وہ خود کوئی قدم اٹھا بھی لیں تو خاندان کو چاہیے کہ اس پر اپنی رضامندی کی مہر لگا دیں۔
بعد میں تقریب کا اہتمام کرکے تمام احباب کو دعوت دے دیں، لیکن ایسا نہیں ہوتا اور زیادہ تر لوگ نئے جوڑے کے دشمن بن جاتے ہیں۔
بات مقدمے بازی اور پولیس تک چلی جاتی ہے۔ جب یہ جوڑا مقدمے پر کورٹ آتا ہے تو وہیں اس کو رشتہ دار نشانہ بناتے ہیں۔ کراچی کے بدقسمت جوڑے کو بھی عدالت میں پیشی کے بعد نشانہ بنایا گیا۔
نجیع اللہ اور نادیہ نے پسند کی شادی کی تھی۔ لڑکی کے اہل خانہ نے لڑکے پر اغوا کا الزام لگایا۔ جس پر یہ جوڑا نکاح نامے سمیت کورٹ میں پیش ہوا۔ جب یہ عدالتی کاروائی سے فارغ ہوکر گھر جانے لگے تو لڑکی کے بھائی نے ان کو نشانہ بنا ڈالا۔
اس بدقسمت جوڑے کی آخری تصاویر دیکھ کر بہت افسوس ہوا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو بچانے کی غرض سے پکڑ رکھا تھا اور خون میں لت پت دونوں کے سر ڈھلکے ہوئے تھے۔ ان کے بے گناہ چہروں پر سوال تھا کہ ہمارا کیا قصور تھا کہ ہم پر یوں نو گولیاں برسائی گئیں۔
یہ کوئی پہلا یا آخری واقعہ نہیں، سندھ میں ہی مئی میں غیرت کے نام پر تین قتل ہوئے۔ پاکستان بھر کے کیسز کا حساب کرنے لگیں تو گنتی ختم ہوجائے گی، کیسز ختم نہیں ہوں گے۔
جب پولیس نے نادیہ اور نجیع کے قاتلوں کو گرفتار کیا تو معاملہ معلوم ہوا کہ نادیہ کے بھائی نے بہن کا رشتہ ایک شخص کے ساتھ طے کرکے اس سے ساڑھے تین لاکھ روپے لے لیے تھے، اس لیے اسے نادیہ کے یوں کورٹ میرج کرنے اور گھر چھوڑنے پر شدید اعتراض تھا۔
یہ کیسی غیرت ہے جس میں بہن کے رشتے کے لیے بھائی پیسے لے۔ دن دیہاڑے اس جوڑے کو کراچی میں قتل کیا گیا اور کوئی کچھ کر نہیں سکا۔ ایسے جوڑوں کو تحفظ دینے کے لیے عدالت انہیں آن لائن حاضری کا بھی کہہ سکتی ہے۔
لیکن اس ملک میں غریب کی کوئی شنوائی نہیں۔ زیادہ تر جوڑے ایسی صورت حال میں چھپ جاتے ہیں۔ انہیں تبھی نشانہ بنایا جاتا ہے جب وہ عدالت حاضری پر آتے ہیں۔
کراچی میں قتل ہونے والے جوڑے کے گاڑی میں موجود بے جان جسم بار بار آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں۔ دونوں نے زندگی اور مستقبل کو لے کر کیا کیا خواب سجائے ہوں گے لیکن ان سے جینے کا حق چھین لیا گیا۔
قتل کرنے میں کوئی غیرت نہیں ہوتی، اس کے پیچھے صرف نفرت انا اور انتقام ہوتا ہے۔ اب ان کا کیس برسوں تک چلتا رہے گا اور کیا معلوم انصاف ہوگا یا نہیں؟
اگر کسی نامی گرامی وکیل نے کیس لے لیا یا کوئی این جی او بیچ میں آگئی تو شاید انصاف ہو۔ ورنہ یہ کیس بھی لاکھوں زیر التوا مقدمات میں گم ہوجائے گا۔
اس سے پہلے بھی جھوٹی غیرت کے نام پر بہت قتل ہوئے۔ اگر ان میں ملوث مجرموں کو سزا ہو گئی ہوتی تو آج شاید یہ صورت حال نہ ہوتی۔ ان مجرموں کو نشان عبرت بنایا گیا ہوتا تو آج یہ جوان جوڑا دن کے اجالے میں قتل نہ ہوتا۔
معاشرے کو خود بھی اس قتل و غارت کو روکنے کے لیے فرسودہ روایتی سوچوں کو بدلنا ہوگا۔ نئ نسل کی بات سنیں۔ ان کو فیصلہ کرنے کا موقع دیں۔ اگر وہ کسی کو پسند کرنے لگ گئے ہیں تو ان پر اپنی پسند مسلط نہ کریں۔
ہمارا مذہب ہمیں اس چیز کی اجازت دیتا ہے کہ شادی کرتے وقت لڑکے اور لڑکی رضامندی شامل ہونی چاہیے تو ہم کیوں اپنے فیصلے ان پر مسلط کریں۔ ایک بالغ، پڑھے لکھے شخص سے محبت اور شادی کا حق نہ چھینا جائے۔ اگر کوئی جوڑا محبت کی شادی کرلے تو پر خاندان کی رضامندی کی مہر لگا دیں۔ اسے کورٹ کچہری کے چکر نہ لگوائیں۔
زندگی نفرت کے لیے نہیں ملی، ہم سب کو اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے۔ ہم سب کو اسے دوسروں کے لیے آسان بنانا چاہیے۔ بچے بھی اپنے بڑوں کا احترام کریں لیکن بڑوں کو بھی بڑا پن دکھاتے ہوئے بچوں کی خواہشات کو مان لینا چاہیے۔
اس سلسلے کو رکنا چاہیے۔ نئی نسل کو انا کی بھینٹ مت چڑھائیں۔ اجتماعی سوچ کو بدلیں۔ شادی کے معاملے میں ذات برادری اورفرقوں کو بیچ میں مت لائیں۔ شادی بیاہ کے معاملے میں دولت کو بھی بیچ میں نہ لائیں۔ صرف یہ دیکھیں کہ سامنے انسان کیسا ہے۔
کبھی کبھی مجھے ایسا لگتا ہے ہمارے معاشرے میں سرعام مار پیٹ، گالی گلوچ اور قتل عام کی تو اجازت ہے لیکن پیار محبت اور پسند کی شادی ایک گناہ ہے۔ اگر ہمارے ملک میں بھی مساوی حقوق ہوتے تو شاید ہمارے ہاں بھی محبت پروان چڑھ سکتی۔
نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
