پاکستان کے وزیراعظم نے آٹو پالیسی 2026-2031 کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد یہ سوال زبان زدعام ہے کہ کیا گاڑیوں کی قیمتیں کم ہو جائیں گی؟
نئی پالیسی میں نئی توانائی والی گاڑیوں (نیو انرجی وہیکلز) خصوصاً بیٹری الیکٹرک وہیکلز کے لیے غیر معمولی مراعات ہیں۔ ان گاڑیوں پر سیلز ٹیکس صرف ایک فیصد رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کیپیٹل ویلیو ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
درآمد ہونے والی گاڑیوں پر کسٹمز ڈیوٹی بھی آہستہ آہستہ کم کی جائے گی۔ اس وقت 1000 سی سی تک کی گاڑیوں پر 50 فیصد ڈیوٹی ہے، جسے 2030-31 تک کم کرکے 15 فیصد کر دیا جائے گا۔ 1001 سے 1800 سی سی گاڑیوں پر بھی ڈیوٹی 50 فیصد سے کم ہوکر 15 فیصد رہ جائے گی، جبکہ بڑی گاڑیوں اور ایس یو ویز پر ڈیوٹی 40 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد کی جائے گی۔
الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ سٹیشن درآمد کرنے پر بھی صرف ایک فیصد کسٹمز ڈیوٹی ہوگی۔ روایتی گاڑیوں کے موجودہ اسمبلرز کو مزید چار سال تحفظ مل سکتا ہے۔ نیو انرجی وہیکلز کے لیے قرض کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے اور قرض کی مدت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کی گئی ہے۔
گاڑیوں کی قیمت کم کرنے کے لیے نئی آٹو پالیسی پرکشش دکھائی دے رہی ہے لیکن یہ پالیسی اسی وقت کارآمد ہو گی جب آئی ایم ایف اس کی منظوری دے گا۔
آئی ایم ایف پہلے ہی پاکستان کی 1 فیصد سیلز ٹیکس والی این ای وی تجویز پر اعتراض کر چکا ہے۔ جون 2026 میں آئی ایم ایف نے 1 فیصد این ای وی سیلز ٹیکس کو مسترد کرتے ہوئے عمومی 18 فیصد جی ایس ٹی برقرار رکھنے پر زور دیا تھا، جس کے باعث اس وقت آٹو پالیسی کی منظوری میں تاخیر بھی ہوئی۔
حکومت نے این ای ویز کو تین مزید اہم ٹیکسوں ودہولڈنگ ٹیکس، ایف ای ڈی اور سی وی ٹی سے استثنا دینے کی تجویز دی ہے۔ آئی ایم ایف کا بنیادی نقطۂ نظر پاکستان میں ٹیکس بیس وسیع کرنے اور ٹیکس رعایتیں کم کرنے کا ہے۔ اس لیے ممکن ہے کہ وہ مکمل استثنا کے بجائے محدود یا مرحلہ وار رعایت پر زور دے۔اس لیے گاڑیوں کی قیمتوں میں بڑی کمی کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔
01 جولائی 2026 سے ہائبرڈ گاڑیوں پر 25 فیصد سیلز ٹیکس نافذ ہو چکا ہے کیونکہ آٹو پالیسی 2021-2026 ختم ہو چکی ہے اور اس کے ساتھ کم شرح والی رعایت بھی ختم ہو چکی ہے۔
زیادہ امکانات ہیں کہ سرکار اور آئی ایم ایف 10سے 15 فیصد رعایت پر متفق ہو سکتے ہیں۔ اس رعایت کے بعد بھی گاڑیوں کی قیمتیں 30جون 2026 کی قیمتوں سے زیادہ ہی رہیں گی کیونکہ 15فیصد رعایت دینے کے بعد بھی 10فیصد اضافی ٹیکس لاگو رہے گا۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ آئی ایم ایف 25فیصد تک سیلز ٹیکس کم کر دے گی جس کے امکانات انتہائی کم ہیں۔ اگر ایسا ہو بھی جائے تب بھی قیمتیں 30جون 2026 کی قیمتوں کے برابر آ جائیں گی لیکن اس سے کم نہیں ہوں گی۔
پالیسی کے نتیجے میں روایتی گاڑیوں کی قیمت میں جو کمی آئے گی اسے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگا کر پورا کیا جائے گا۔ اگر یہ کہا جائے کہ نئی آٹو پالیسی الیکڑک گاڑیوں کے لیے ہے تو غلط نہیں ہو گا۔ روایتی گاڑیوں کو مطلوبہ فائدہ نہیں مل سکے گا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
این ای ویز پر 1 فیصد سیلز ٹیکس، کیپیٹل ویلیو ٹیکس، ایف ای ڈی اور ودہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے سے سرکار کو فی گاڑی ٹیکس وصولی میں کمی کا سامنا ہوگا۔ ایف بی آر پہلے ہی ٹیکس اہداف حاصل نہیں کر سکا ہے۔
عام آدمی سوچ رہا ہے کہ کیا گاڑیوں پر ٹیکس کم کر کے جو ٹیکس وصولیوں میں کمی آئے گی اسے پیٹرولیم لیوی بڑھا کر پورا کیا جائے گا اور عام آدمی پر مزید بوجھ ڈالا جائے گا؟
اس کے علاوہ اس تبدیلی کے لیے صرف ایک فیصد سیلز ٹیکس کافی نہیں ہے۔ ملک میں ہزاروں چارجنگ سٹیشنز، سستی بجلی، معیاری بیٹری سروس، مقامی بیٹری مینوفیکچرنگ اور مضبوط ری سیل نظام کی بھی ضرورت ہے۔
صرف حکومت اور آئی ایم ایف کا قیمتیں کم کر دینا کافی نہیں ہو گا۔ ایران امریکہ کشیدگی، مہنگائی، ڈالر ریٹ میں تبدیلی اور آٹو سیکٹر کا بڑھتا ہوا منافع ایسے عناصر ہیں جو قیمتوں میں کمی کا فائدہ عام آدمی تک پہنچنے میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماضی کا تجربہ اس خدشے کو تقویت دیتا ہے کہ ٹیکس میں کمی کا پورا فائدہ شاید عوام کو نہ مل سکے۔
2021 کی آٹو پالیسی میں حکومت نے گاڑیوں پر مختلف ٹیکس کم کیے تھے۔ 1000 سی سی تک گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 2.5 فیصد سے ختم کی گئی، جبکہ 1001 سے 2000 سی سی گاڑیوں پر یہ 5 فیصد سے کم کرکے 2.5 فیصد کی گئی۔ چھوٹی گاڑیوں کے بعض پرزہ جات پر کسٹمز ڈیوٹی بھی کم کی گئی تھی۔
اس کے باوجود گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی مستقل طور پر برقرار نہ رہ سکی۔ اس کی ایک بڑی وجہ روپے کی قدر میں کمی، درآمدی آٹو پارٹس کی لاگت، مہنگائی اور دیگر اخراجات تھے۔ 2021 میں دی گئی بعض ٹیکس رعایتیں بھی چند ماہ بعد مالیاتی دباؤ اور زرمبادلہ کے بحران کے دوران واپس لے لی گئیں تھیں۔
پچھلی آٹو پالیسی سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ پرکشش تھی۔ شاید اسی لیے 2021-2026 تک تقریباً 100ارب روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے۔ بی وائے ڈی 15 کروڑ ڈالرز پاکستان میں اپنے پلانٹ پر خرچ کر رہی ہے۔ اگر ایم جی، چیری، جیکو، ٹویوٹا اور دیگر کمپنیوں کو شامل کر لیا جائے تو سرمایہ کاری 700ملین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
اگر آئی ایم ایف نئی آٹو پالیسی کی من و عن منظوری دے دیتا ہے تو سرمایہ کاری مزید بڑھنے کا امکان ہے لیکن گاڑیوں کی قیمتوں میں بڑی کمی کے امکانات کم ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
