سعودی عرب میں دنیا بھر سے آئے لاکھوں عازمین حج نے منیٰ میں خیموں سے بنے شہر کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔
عازمین حج کی منیٰ آمد کا سلسلہ دن بھر جاری رہے گا جہاں وہ پیر کی شب قیام کریں گے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سعودی عرب میں حج 2026 کی تیاریاں عروج پر ہیں جہاں رواں سال اب تک بیرونِ ملک سے آنے والے عازمین کی تعداد 15 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
سعودی حج پاسپورٹ فورسز کے کمانڈر صالح بن سعد المربع نے جمعے کو بتایا تھا کہ بیرونِ ملک سے 15 لاکھ سے زائد عازمین سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔ ان کے مطابق عازمین کی آمد کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور مزید حاجیوں کی آئندہ دنوں میں آمد متوقع ہے۔
رواں سال حج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں ایران جنگ بندی کے باوجود کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب کا رخ کر رہے ہیں۔
سعودی حکام کے مطابق حج کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ مکہ مکرمہ، منیٰ، عرفات اور دیگر مقدس مقامات پر حاجیوں کو سہولیات کی فراہمی کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔
ان اقدامات میں حکومت کی جانب سے صحت، ٹرانسپورٹ اور مختلف زبانوں میں رہنمائی سمیت وسیع انتظامات شامل ہیں جبکہ سعودی وزارت صحت کے مطابق رواں سال پہلی مرتبہ عازمین حج کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ڈرونز کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شدید گرم موسم کے باوجود عازمین حج کی بڑی تعداد سعودی عرب میں موجود ہے جہاں انہیں گرمی سے بچانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں جن میں جگہ جگہ ٹھنڈا پانی، تھوڑے تھوڑے فاصلے پر پنکھے اور پانی کے چھڑکاؤ کا بندوبست بھی کیا گیا ہے۔
لاکھوں عازمین حج کے منیٰ پہنچنے کے ساتھ ہی مناسکِ حج کی ادائیگی سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ آئندہ چند روز کے دوران حجاج کرام کن مراحل سے گزریں گے:
1۔ منیٰ — 8 ذوالحجہ
حجاج مکہ مکرمہ سے تقریباً 8 کلومیٹر دور منیٰ پہنچتے ہیں۔ وہ یہاں دن اور رات عبادت، دعا اور ذکر و اذکار میں گزارتے ہیں۔ منیٰ کو خیموں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔
2۔ عرفات — 9 ذوالحجہ
9 ذوالحجہ کو حجاج منیٰ سے عرفات روانہ ہوتے ہیں، جو تقریباً 14 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ وہ میدانِ عرفات میں وقوف کرتے ہیں، دعائیں مانگتے ہیں اور غروبِ آفتاب تک عبادت میں مشغول رہتے ہیں۔ حج کا سب سے اہم رکن وقوفِ عرفہ ہے۔
3۔ مزدلفة — 9 ذوالحجہ کی رات
غروبِ آفتاب کے بعد حجاج مزدلفة پہنچتے ہیں، جو عرفات اور منیٰ کے درمیان واقع ہے۔ وہ رات یہیں گزارتے ہیں اور رمی کے لیے کنکریاں جمع کرتے ہیں۔
4۔ منیٰ — 10 ذوالحجہ
فجر کے بعد حجاج دوبارہ منیٰ روانہ ہوتے ہیں، جہاں وہ جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ہیں، جسے رمی کہا جاتا ہے۔
5۔ مسجد الحرام — 10 ذوالحجہ سے آگے
اس کے بعد حجاج مکہ مکرمہ واپس جا کر مسجد الحرام میں طوافِ افاضہ کرتے ہیں، یعنی خانہ کعبہ کا طواف، اور صفا و مروہ کے درمیان سعی ادا کرتے ہیں۔
6۔ منیٰ — 11، 12 اور 13 ذوالحجہ
حجاج دوبارہ منیٰ میں قیام کرتے ہیں اور تینوں جمرات — جمرہ اولیٰ، وسطیٰ اور عقبہ کو کنکریاں مارتے ہیں۔ یہ عمل تین دن تک جاری رہتا ہے۔
7۔ مکہ مکرمہ — اختتامِ حج
مناسک مکمل ہونے کے بعد حجاج مکہ مکرمہ واپس آ کر طوافِ وداع ادا کرتے ہیں، جو حج کا آخری مرحلہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد حجاج واپسی کا سفر شروع کرتے ہیں۔
یوں فریضہ حج اپنے اختتام کو پہنچتا ہے اور لاکھوں مسلمان روحانی سفر مکمل کرنے کے بعد اپنے اپنے ممالک کو روانہ ہوتے ہیں۔
