کوئٹہ میں اتوار کو ہونے والے دھماکے میں جہاں 30 سے زائد افراد جان سے گئے اور درجنوں زخمی ہوئے، وہیں جائے وقوع کے قریب بڑی تعداد میں رہائشی مکانات بھی شدید متاثر ہوئے۔
متاثرین کا کہنا ہے اکثر مکانات اب رہائش کے قابل نہیں رہے۔ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ 48 گھنٹے گزرنے کے باوجود متاثرین سکتے میں ہیں۔
متاثرین کے مطابق یہ ’قیامتِ صغریٰ کا منظر تھا، جو گزر تو گیا لیکن تباہی اور خوف کے باعث وہ اب تک ذہنی صدمے میں ہیں۔‘
ایسی ہی ایک کہانی عمران قریشی اور ان کے خاندان کی ہے، جن کا گھر دھماکے کی جگہ سے چند گز کے فاصلے پر واقع ہے۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو اتوار کے دھماکے کی صورت حال بتاتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سرکاری ملازم ہیں اور اتوار کی چھٹی ہونے کے باعث گھر کے کچھ افراد سو رہے تھے جبکہ کچھ جاگ کر ناشتہ بنانے کی تیاری میں مصروف تھے۔
انہوں نے بتایا کہ شام کو بچوں کے ساتھ قربانی کے جانور خریدنے جانے کا وعدہ کیا تھا، جس پر بچے بہت خوش تھے۔
عمران قریشی کے بقول: ’لیکن اللہ کو کچھ اور منظور تھا۔ صبح آٹھ بجے کے قریب ایک خوفناک دھماکہ ہوا جس سے ہمارے اوسان خطا ہو گئے۔ گھر میں اندھیرا چھا گیا اور گرد و غبار کے باعث کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ بچوں اور خواتین کی چیخ و پکار نے ہمیں مزید پریشان کر دیا۔ ہر طرف خوف و ہراس پھیلا ہوا تھا۔‘
’ہوش سنبھالتے ہی میں نے اپنے بزرگ والدین، بیوی، بچوں اور بھائیوں کا حال احوال پوچھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ کسی کو جانی نقصان نہیں پہنچا۔‘
عمران قریشی نے مزید بتایا کہ ’دھماکے سے گھر کی صرف دیواریں باقی رہ گئیں، باقی تمام اشیا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئیں۔ کوئی چیز سلامت نہیں رہی۔ دروازے، کھڑکیاں، شیشے، دو گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔
گھر کی حالت دیکھ کر تمام افراد شدید صدمے کا شکار ہیں۔ صدمہ اتنا شدید ہے کہ سمجھ نہیں آ رہی کہ گھر کو کیسے ٹھیک کریں اور کہاں سے آغاز کریں۔‘
عمران قریشی نے حکومتی بے حسی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب تک کوئی عہدیدار مدد کے لیے نہیں آیا۔ اگر حکومت ذمہ داری کا مظاہرہ کرے تو فوری طور پر ہماری مدد کرنی چاہیے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے بتایا کہ خواتین اور بچوں کو رشتہ داروں کے گھروں میں بھیج دیا گیا ہے اور عید کی قربانی کا ارادہ ترک کر دیا گیا ہے۔ گھر میں 22 افراد رہتے ہیں اور گھریلو معاملات بحال کرنے کے لیے کم از کم 36 لاکھ روپے درکار ہیں۔
متاثرہ گھر میں موجود نوجوان محمد عثمان نے بتایا کہ ’یہ بہت خوفناک لمحہ تھا، جس کی آواز اور خوف اب تک ذہن میں تازہ ہے۔ ہماری عید خراب ہو گئی۔ اتوار کو والد کے ساتھ قربانی کے جانور خریدنے منڈی جانا تھا، بہن بھائی بہت خوش تھے، لیکن اب سب کچھ ختم ہو گیا۔ رہنے کو گھر نہیں رہا اور پہننے کو کپڑے تک نہیں بچے۔‘
انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا، تاہم گھر کی کوئی بھی چیز استعمال کے قابل نہیں رہی۔
گھر کے بزرگ حاجی عیسیٰ خان نے بتایا کہ وہ شدید پریشان ہیں۔ سب کچھ تباہ ہو گیا۔ ان کی ایک بیٹی بیوہ ہے جس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اور ان کی کفالت ان کے ذمہ ہے۔ ایک ہی گھر تھا، وہ بھی تباہ ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔
