ملازمت سے نکالنے کے لیے اے آئی کو بہانہ نہیں بنایا جا سکتا: چینی عدالت

چین کی ایک عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ مالکان اپنے ملازمین کو نوکری سے نکالنے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کو بہانہ نہیں بنا سکتے، جو مزدوروں حقوق کے لیے ایک بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔

ہانگژو انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ نے منگل کو یہ فیصلہ ایک ٹیکنالوجی کمپنی کے ملازم کے حق میں دیا، جنہیں 2022 میں کمپنی کی اے آئی آؤٹ پٹ کی نگرانی کے لیے بھرتی کیا گیا تھا۔

مگر بعد میں ان کی جگہ ایک بڑے لینگویج ماڈل نے لے لی، اور جب انہوں نے بہتر معاوضہ اور عہدے کا مطالبہ کیا تو انہیں برطرف کر دیا گیا۔

این پی آر کے مطابق عدالت نے کہا کہ ’کمپنی کی جانب سے دی گئی برطرفی کی وجوہات کاروبار میں کمی یا آپریشنل مشکلات جیسے منفی حالات میں شامل نہیں تھیں، اور نہ ہی وہ اس قانونی شرط پر پوری اترتی تھیں جس کے تحت ملازمت کا معاہدہ جاری رکھنا ناممکن ہو جائے۔‘

عدالت کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق، صرف ژو نامی اس ملازم کو ماہانہ 25,000 یوآن (£2,691) تنخواہ پر کوالٹی اشورنس سپروائزر مقرر کیا گیا تھا۔

ان کا کام اے آئی ماڈلز کی پیداوار کی نگرانی کرنا اور غیر قانونی یا پرائیویسی کی خلاف ورزی کرنے والے مواد کو فلٹر کرنا تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کچھ ہی عرصے بعد، جب ان کا کام ایک بڑے لینگویج ماڈل نے سنبھال لیا، تو ژو کو نچلے درجے کے عہدے پر تنزلی دے دی گئی اور ان کی تنخواہ کم کر کے تقریباً 15,000 یوآن (£1,614) کر دی گئی۔

جب ژو نے یہ تنزلی قبول کرنے سے انکار کیا تو ان کا معاہدہ ختم کر دیا گیا۔

کمپنی نے کہا کہ وہ تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی سے گزر رہی ہے، جس سے عملے کی ضرورت کم ہو گئی، اور ژو کو 311,695 یوآن (£33,558) بطور علیحدگی پیکیج دینے کی پیشکش کی۔

ژو نے یہ پیشکش مسترد کر دی اور معاملہ ثالثی پینل میں لے گئے، جس نے قرار دیا کہ ان کی برطرفی ’غیر قانونی‘ تھی اور زیادہ معاوضے کے دعوے کو بھی تسلیم کیا۔

اس کے بعد کمپنی ضلعی سطح کی پرائمری پیپلز کورٹ گئی، جہاں بھی فیصلہ ژو کے حق میں آیا۔ بعد ازاں کمپنی نے ہانگژو انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ میں اپیل کی۔

عدالت نے گذشتہ ہفتے فیصلہ دیا کہ اے آئی کا استعمال ملازمت کے معاہدے ختم کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔

عدالت نے یہ فیصلہ ’اے آئی کمپنیوں اور کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کی نمایاں مثالوں‘ کے ایک مجموعے کے ساتھ شائع کیا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *