مانسہرہ کی تاریخی ’دودھ والی مسجد‘ جس کے لیے دلی سے کاریگر آئے تھے

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے گاؤں گیدڑپور افضل آباد میں ’دودھ والی مسجد‘ کے نام سے مشہور ایک مسجد واقع ہے۔

مقامی افراد کے مطابق اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اس مسجد کی تیاری کے وقت پانی کی بجائے دودھ استعمال کیا گیا اور یہ مسجد اب تک اپنی اصل حالت میں قائم ہے۔

یہ مسجد 1902 کے آس پاس تعمیر کی گئی۔ اس مسجد کی تعمیر کے لیے حاجی محمد اکبر خان نے کاریگر مستری محمد بخش کو خاص طور پر دلی سے بلوایا، جو وہاں کی مشہور بادشاہی مسجد کے بھی کاریگر تھے۔

اس مسجد کی تعمیر میں پانی کی جگہ دودھ، مٹی اور روئی استعمال کی گئی۔ اس وقت دیہات میں لوگوں کے پاس بھینسیں بھی بہت ہوتی تھیں اور آپس میں اتفاق بھی تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب بھی دودھ کی ضرورت پڑتی تو گاؤں والے اپنی بھینسوں کا دودھ لا کر دے دیتے۔ اگر کبھی دودھ کم پڑ جاتا تو کچھ وقت کے لیے کام روک دیا جاتا۔

یہ مسجد آج تک اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔ اس کی مرمت بھی اسی زمانے کی ہے، اور زیادہ تر جگہوں پر رنگ بھی وہی پرانا ہے۔

دروازے اتنے پرانے ہونے کے باوجود اپنی اصل حالت میں قائم ہیں۔ مسجد کے ساتھ بنایا گیا کنواں بھی آج تک اسی طرح موجود ہے۔

امام مسجد کے لیے بنائی گئی رہائش بھی اسی حالت میں موجود ہے جیسی پہلے تھی۔ پرانے غسل خانے بھی اب تک اپنی اصل حالت میں موجود ہیں، لیکن اب استعمال میں نہیں ہیں۔

جس مستری نے یہ مسجد تعمیر کی، اسے اسی مسجد کے احاطے میں دفن کیا گیا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *