جب لوگوں نے پہلی بار سگریٹ کے بارے میں خبردار کرنا شروع کیا، تو انہیں بلاوجہ خوف پھیلانے والے کہہ کر نظرانداز کر دیا گیا۔
سگریٹ نوشی ایک عام بات بن چکی تھی۔ یہ ہر جگہ موجود تھی، ایسی جگہوں پر بھی جن کے بارے میں سوچ کر اب ہم حیران ہوتے ہیں، جیسے ہسپتالوں اور ہوائی جہازوں میں۔
کمپنیوں نے بے تحاشہ دولت کمائی۔ بچے اس کی لت میں مبتلا ہو گئے، اور معاشرے نے دہائیوں بعد اس کے نتائج کا سامنا کیا۔ سرطان، دل کی بیماریاں، ٹوٹے ہوئے خاندان اور صحت کی سہولیات پر حد سے زیادہ بوجھ پڑا۔
آج، ہم سوشل میڈیا کے حوالے سے بھی وہی غلطی کر رہے ہیں۔
بریانا گھے کی والدہ کی حیثیت سے، میں نے خود دیکھا ہے کہ سوشل میڈیا کسی بچے کی ذہنی صحت پر کس قدر تباہ کن اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
بریانا بے چینی، احساس کمتری، کھانے کی خرابی اور خود کو نقصان پہنچانے جیسے مسائل کا شکار تھیں۔
بہت سے دوسرے نوجوانوں کی طرح، وہ ایک ایسی آن لائن دنیا میں بڑی ہو رہی تھیں جو انہیں مسلسل یہ بتاتی تھی کہ وہ کسی قابل نہیں۔
اس دنیا نے امیروں کو مزید امیر بنانے کے لیے ان کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھایا۔
بچے جذباتی طور پر ان حالات کا سامنا کرنے کے قابل ہونے سے پہلے ہی بڑوں کے دباؤ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
انہیں خود کو نقصان پہنچانے والے خوفناک مناظر، خودکشی سے متعلق مواد، پرتشدد فحش مواد، عورتوں سے نفرت اور ایسے الگورتھمز کا سامنا ہے جنہیں اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ انتہائی نوعیت کا مواد دیکھتے رہیں، کیوں کہ غصہ اور تکلیف لوگوں کو جوڑے رکھتے ہیں، اور اسی سے پیسہ بنتا ہے۔
ہم سگریٹ کمپنیوں کو کبھی اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ سکولوں میں جا کر بچوں میں سگریٹ کی ڈبیاں بانٹیں۔
پھر بھی ہم ٹیک کمپنیوں کو دن کے 24 گھنٹے نقصان دہ مواد براہ راست نوجوانوں کے نشوونما پاتے ذہنوں میں انڈیلنے کی اجازت دے رہے ہیں۔
اور اس کا اثر صرف ایک بچے تک محدود نہیں رہتا۔ جس طرح سگریٹ کا دھواں سگریٹ پینے والوں کے آس پاس موجود لوگوں کو نقصان پہنچاتا ہے، اسی طرح اب سوشل میڈیا وسیع تر معاشرے کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
نوجوان اوسطاً ہفتے میں تقریباً 35 گھنٹے آن لائن گزار رہے ہیں۔ ان گھنٹوں کے دوران، بہت سے لڑکوں کے ذہنوں میں قطرہ قطرہ کر کے عورتوں سے نفرت پر مبنی ایسا مواد ڈالا جا رہا ہے جو انہیں سکھاتا ہے کہ عورتیں کنٹرول کرنے، ذلیل کرنے یا ان پر غلبہ پانے کی چیزیں ہیں۔ لڑکیاں خوبصورتی کے ناممکن معیار اور ایسے پیغامات کو قبول کر رہی ہیں جو انہیں بتاتے ہیں کہ ان کی قدر و قیمت کا انحصار مکمل طور پر ان کی ظاہری شکل و صورت پر ہے۔
ہم سکولوں میں ساتھی طلبہ کے درمیان تشدد کی بڑھتی ہوئی رپورٹس دیکھ رہے ہیں۔ خواتین اساتذہ کی تذلیل کی جا رہی ہے اور انہیں ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔
نوجوان خواتین گلا دبائے جانے کے زخموں کے ساتھ ہسپتالوں میں پہنچ رہی ہیں کیوں کہ آن لائن مواد کے ذریعے خواتین پر تشدد معمول بن چکا ہے۔
بچے رشتوں کے بارے میں فحش مواد اور ایسے انفلوئنسرز سے سیکھ رہے ہیں جو جسم فروشی، ظلم اور تذلیل سے پیسہ کماتے ہیں۔
یہ کوئی اکا دکا واقعات نہیں ہیں۔ ایسا صرف میری بچی کے ساتھ نہیں ہوا۔ یہ ہماری پوری نسل، یعنی ہمارے مستقبل کا رخ متعین کر رہا ہے۔
حال ہی میں، صحت کے ایک ماہر نے مجھے ایک کم عمر لڑکے کے بارے میں بتایا جس کا انہوں نے علاج کیا تھا، جو نقصان دہ آن لائن مواد کے خبط میں مبتلا ہو گیا تھا۔
جس بات کا آغاز تجسس سے ہوا تھا، وہ آگے چل کر مسلسل انتہائی پریشان کن مواد دیکھنے کی لت میں بدل گئی۔ آخر کار، اس بچے نے اپنے ہی جسم کو کاٹنا اور نقصان پہنچانا شروع کر دیا۔
جب میں نے یہ کہانی سنی، تو مجھے ان بچوں کا خیال آیا جنہوں نے بریانا کی جان لی تھی۔
قتل کے حوالے سے ان کا تجسس کہاں سے پیدا ہوا؟ میں نہیں جانتی، لیکن مجھے شک ہے کہ یہ سب کچھ اسی طرح ہوا ہو گا جس طرح بریانا کو سوشل میڈیا پر نقصان دہ مواد دکھایا گیا تھا۔
ہم مسلسل یہ دکھاوا نہیں کر سکتے کہ یہ محض اکا دکا واقعات ہیں یا ٹیکنالوجی کے افسوس ناک نقصانات ہیں۔ یہ ایک ایسے نظام کے متوقع نتائج ہیں جسے بناتے وقت بچوں کی حفاظت کو بنیادی اہمیت نہیں دی گئی۔
سگریٹ نوشی کے ساتھ موازنہ اس لیے اہم ہے کیوں کہ آخر کار سگریٹ نوشی کو محض ’ذاتی ذمہ داری‘ کا معاملہ سمجھنے کی بجائے صحت عامہ کا مسئلہ تسلیم کر لیا گیا تھا۔
حکومتوں نے مداخلت کی۔ اشتہارات پر پابندی لگائی گئی۔ عمر کی حدیں مقرر کی گئیں۔ عوامی شعور بیدار کرنے کی مہمات شروع کی گئیں۔
اب ہم اس مقام پر آ چکے ہیں جہاں عوامی مقامات پر بھی سگریٹ نوشی پر پابندی عائد ہے۔ ہم سب اس پر عمل کرتے ہیں کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ یہی درست اقدام ہے، اور بچوں کی زندگیاں اہمیت رکھتی ہیں۔
اب ہمیں اسی ہمت اور قیادت کی ضرورت ہے۔
گذشتہ کل، میں نمبر 10 پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی تھی، اور ہم نے وزیر اعظم سے درج ذیل مطالبات مکمل طور پر پورے کرنے کا کہا۔
نقصان دہ سوشل میڈیا کے لیے عمر کی حد بڑھا کر 16 سال کی جائے۔ جب تک ٹیک کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کو ایسا نہیں بناتیں جو لت لگانے اور خود بخود نقصان پہنچانے کے بجائے اپنے ڈیزائن کے لحاظ سے محفوظ ہوں، تب تک بچوں کو ان کے استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ تمام سکول فون سے پاک پالیسیوں پر مکمل عمل درآمد کریں۔
قانونی رہنمائی سے ’نظروں سے دور‘ کے اختیار کا خاتمہ کیا جائے اور سکولوں کو فون سے پاک پالیسیوں پر مکمل عمل درآمد کے لیے فنڈنگ دی جائے۔
آف کام کا فوری جائزہ لیا جائے۔ یہ انتہائی اہم ہے کہ اس کی قیادت کوئی ایسا شخص کرے جس پر سوگوار والدین کو بھروسہ ہو۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ای سیفٹی کمشنر کا عہدہ متعارف کرایا جائے۔ اس عہدے کے پاس ٹیک کمپنیوں اور آن لائن تحفظ کے ضوابط کی نگرانی کا اختیار ہو گا۔
یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور بچوں کی حفاظت کے لیے اس پر ہمہ جہت انداز میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ملاقات بہت مثبت رہی، اور مجھے واقعی اس معاملے کو فوری حل کرنے کی اشد ضرورت محسوس ہوئی۔
مجھے لگا کہ سوگوار خاندانوں کی بات سنی گئی اور وزیروں اور وزیر اعظم نے ہمارے مطالبات کو تسلیم کیا، اگرچہ ہمیں اس مرحلے پر کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔
جن لوگوں نے خود ان حالات کا سامنا کیا ہو، ان کے لیے مہم چلانا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ جب ہم سب کمرے سے باہر نکلے تو آخر کار ہمیں یہ امید تھی کہ حالات بدلنے والے ہیں۔
لوگ اکثر مجھ سے کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پوری طرح برا نہیں ہے۔ یقیناً ایسا نہیں ہے۔ ان کروڑوں بالغ افراد کے لیے سگریٹ بھی برے نہیں تھے جو سگریٹ نوشی کا لطف اٹھاتے تھے۔
لیکن جب کوئی چیز واضح طور پر بڑے پیمانے پر بچوں کو نقصان پہنچا رہی ہو، تو قیادت کا کام کمپنیوں کے منافع یا سہولت کا تحفظ کرنا نہیں، بلکہ نوجوانوں کی حفاظت کرنا ہوتا ہے۔
مجھے یقین ہے کہ ایک دن معاشرہ اس بات پر حیرانی سے پیچھے مڑ کر دیکھے گا کہ ہم نے اپنے نوجوانوں کو کس طرح آن لائن دنیا میں بڑے ہونے کی اجازت دی۔
ہم حیران ہوں گے کہ ہمیں قدم اٹھانے میں اتنا وقت کیوں لگا، اور ہم اس بات پر خوفزدہ ہوں گے کہ ہماری تاخیر کے دوران کتنی ہی نوجوان جانیں ضائع ہو گئیں۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
