راولپنڈی پاکستان کا چوتھا بڑا شہر ہے، اسے اسلام آباد کے ساتھ جڑواں شہر بھی کہتے ہیں اس حوالے سے یہ پاکستان کا تیسرا بڑا شہر بن جاتا ہے۔
اس شہر کی گذشتہ ایک صدی کی تاریخ کا سیاسی، سماجی یا کاروباری حوالے سے تجزیہ کیا جائے تو حیران کن مظاہر سامنے آتے ہیں مثال کے طور پر سو سال پہلے جن خاندانوں کا شہر میں سکہ چلتا تھا آج ان کی چوتھی نسل کو شہر میں وہ مقام و مرتبہ حاصل نہیں جو ان کے اجداد کو تھا۔
لگتا ہے کہ ہر25 سال بعد شہر اپنا حلیہ تبدیل کر لیتا ہے جو خاندان پیش منظر میں ہوتے ہیں وہ پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور جو پچھلی صفوں میں ہوتے ہیں وہ اگلی صفوں میں آجاتے ہیں۔
اس بات کو سمجھنے کے لیے ہم 90 سال پہلے کے راولپنڈی کو دیکھتے ہیں۔
قائد اعظم تقسیم سے پہلے تین بار راولپنڈی آئے، ظاہر ہے کہ وہ جن گھروں میں گئے وہ اس وقت شہر کی سیاسی، سماجی اور معاشی زندگی میں اہم ترین مقام پر تھے۔
محمد علی جناح پہلی بار1926ء میں راولپنڈی آئے جب وہ اپنی اہلیہ رتی جناح کے ساتھ سری نگر کے سیاحتی دورے پر گئے تو ایک رات وہ فلیش مینز ہوٹل راولپنڈی بھی ٹھہرے۔
یہ دورہ چونکہ نجی تھا اس لیے وہ کسی سے نہیں ملے۔ دوسری بار وہ 1936ء میں راولپنڈی آئے جس کا مقصد عام انتخابات کے لیے مسلم لیگ کے پارلیمانی بورڈ کی تشکیل تھی۔
وہ لاہور سے راولپنڈی پہنچے اور یہاں سے سری نگر روانہ ہو گئے جہاں سے انہوں نے چھ رکنی پارلیمانی بورڈ کا اعلان کیا جس میں علامہ اقبال کے علاوہ راولپنڈی کے مولانا اسحاق مانسہروی بھی شامل تھے۔
1944ء میں بھی انہوں نے سری نگر سے واپس آتے ہوئے یہاں قیام کیا۔
ایک طویل عرصہ میں اس بات کی کھوج میں رہا کہ قائد اعظم اس شہر میں جن لوگوں کی دعوت پر آئے، جن لوگوں کے گھروں میں ٹھہرے یا پھر جن لوگوں نے محمد علی جناح کو اس وقت عطیات دیے، وہ کون لوگ ہیں اور آج ان کی تیسری اور چوتھی نسل کس حال میں ہے؟
اس کا جواب بڑا دلچسپ ہے کہ آج تقریباً 90 سال گزرنے کے بعد ان کی نسلوں کو شہر میں سیاسی، کاروباری یا سماجی حوالے سے لوگ بالکل نہیں جانتے اور نہ ہی ان کی اولادیں اس ساکھ کو برقرار رکھ سکی ہیں جو انہیں ان کے بزرگوں سے ورثے میں ملی تھی۔
اس مطالعے میں میری دلچسپی کا مرکز پانچ اہم شخصیات تھیں جن میں شیخ محمد اسماعیل، سید مصطفیٰ شاہ خالد گیلانی، شیخ عبد الغنی، سیٹھ آدم جی اور جسٹس آغا محمد جان شامل ہیں۔
یہ پانچوں شخصیات ایک صدی پہلے کے راولپنڈی کی سب سے سرکردہ شخصیات تھیں جو ایک ایسے شہر میں مسلمانوں کی پہچان تھیں جہاں ہندو اور سکھ چھائے ہوئے تھے۔ محمد علی جناح جب مسلم لیگ کو ہندوستان بھر میں منظم کر رہے تھے تو ان کی توجہ کا مرکز بھی یہی شخصیات تھیں۔
شیخ محمد اسماعیل جن کے گھر قائدِ اعظم ٹھہرے
راولپنڈی صدر میں بنک روڈ پر ایک عمارت شیخ اسماعیل اینڈ سنز کے نام سے آج بھی موجود ہے جس کے اندر تقسیم سے پہلے کے سٹور کا کچھ بچا کھچا سامان شیشے کی الماریوں میں بند پڑا ہے یہاں شیخ امتیاز احمد بیٹھتے ہیں ملنے والوں کی چائے سے تواضح کرتے ہیں۔ اپنے وقت کا ایک بڑا سپر سٹور آج اس حالت میں کیوں ہے؟
اس مہنگے ترین علاقے میں انہوں نے کوئی مال کیوں نہیں بنایا اور آج تک یہ جگہ اسی پرانی حالت میں کیوں برقرار رکھی گئی ہے؟
شیخ امتیاز احمد کہتے ہیں کہ پیسہ کسے اچھا نہیں لگتا لیکن ہم اپنے بزرگوں اور محمد علی جناح کی یاد میں اس عمارت کو اسی طرح رکھنا چاہتے ہیں۔
1936ء کے دورے میں محمد علی جناح کا قیام اسی عمارت سے متصل ہمارے گھر میں تھا۔
رئیسِ وزیرآباد شیخ محمد ابراہیم نے جب دیکھا کہ راولپنڈی میں سب سے بڑی چھاونی قائم ہو چکی ہے جہاں کاروباری مواقع کی بہار آئی ہوئی ہے۔
ہندوستان بھر سے لوگ مواقع کی تلاش میں راولپنڈی کا رخ کر رہے ہیں تو انہوں نے اپنے بیٹے شیخ محمد اسماعیل کو راولپنڈی بھیج دیا جہاں انہوں نے راولپنڈی صدر میں ایک فرم ’احمد دین اینڈ برادرز جنرل مرچنٹ‘ کے نام سے شروع کی جس کا زیادہ تر کام برطانوی فوج کو مال کی سپلائی کا تھا۔
دوسری جنگِ عظیم تک شیخ محمد اسماعیل کا اثر و رسوخ اتنا پھیل چکا تھا کہ انگریز انتظامیہ نے شیخ محمد اسماعیل کو1925ء میں خان صاحب، 1930ء میں خان بہادراور 1939ء میں سی بی ای (Companion of the British Empire) کے خطاابات دیے اس کے ساتھ ہی آپ مجسٹریٹ درجہ اوّل اور سب جج بھی بنا دیے گئے۔
ریڈ کراس کے نائب صدر اور پھر ریڈ کراس سوسائیٹی پنجاب کے پیٹرن بھی بنائے گئے۔ راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ اور انجمن فیض الاسلام کے صدر رہے۔
آنریری مجسٹریٹ، پروونشیل درباری اور مری کا میونسپل کمشنر نامزد ہو گئے۔
انجمنِ اسلامیہ جس نے شہر میں اسلامیہ سکولوں کے ساتھ کئی اداروں کی بنیاد رکھی اس کے بھی آپ صدر رہے۔
جب راولپنڈی میں مسلم لیگ قائم ہوئی تو شہر اور ضلع راولپنڈی کے پہلے صدر بھی یہی شیخ محمد اسماعیل تھے۔ قائد اعظم جب 1936ء میں راولپنڈی تشریف لائے تو ان کا قیام شیخ اسماعیل کے گھر پر ہی تھا، سرادرعبد الرب نشتر، حسین شہید سہروردی، آئی آئی چندریگر، راجہ غضنفر علی خان، نواب بہادر یار جنگ بھی آپ کے قریبی ساتھیوں میں تھے یہ رہنما جب راولپنڈی تشریف لاتے تو آپ کے گھر ہی قیام کرتے۔
1957ء میں 82 سال کی عمر میں راولپنڈی میں ہی وفات پائی۔
ان کے چار بیٹے تھے۔ شیخ محمد یوسف ، شیخ محمد اسحاق ، شیخ رحمت اللہ اور شیخ یعقوب، شیخ محمد اسماعیل کے پوتے شیخ فیاض احمد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ شیخ اسماعیل صاحب ایک کاروباری شخصیت تھے جن کو قائدِ اعظم نے خود راولپنڈی مسلم لیگ کا صدر بنایا تھا۔ ان کے بعد ان کے کسی بیٹے یا پوتے نے سیاست میں حصہ نہیں لیا۔ ان کی بہن فرح رانی اسلام آباد فارن ویمن ایسوسی ایشن اور ویمن چیمبر کی ممبر ہیں جو ٹریول اور ہیریٹیج کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ شیخ فیاض احمد نے بتایا کہ شیخ صاحب کی اولاد کا ذریعہ آمدن اب پراپرٹی سے آنے والے کرایہ جات ہی رہ گئے ہیں۔
شیخ عبد الغنی آف ڈھیری حسن آباد
قائدِ اعظم جب 1944ء میں سر نگر سے واپسی پر راولپنڈی آتے ہیں تو مری میں انہیں جس استقبالیہ گاڑی میں بٹھایا جاتا ہے اسے شیخ عبد الغنی کے بیٹے شیخ منظور الحسن چلا رہے تھے۔
وہ محترمہ فاطمہ جناح کے ہمراہ راولپنڈی پہنچتے ہی شیخ عبد الغنی کے بیمار پرسی کے لیے ان کے ڈھیری حسن آباد والی حویلی جاتے ہیں جہاں شیخ عبد الغنی انہیں ایک خطیر رقم مسلم لیگ فنڈ میں عطیہ کرتے ہیں۔
راولپنڈی کینٹ میں واقع ڈھیری حسن آباد گجرات کے ایک رئیس شیخ حسن محمد کے نام پر ہے جو کہ 1896ء میں راولپنڈی رآئے اور ملٹری کنٹریکٹر کے طور پر کام کرنے لگے۔
ان کی کوئی اولادِ نرینہ نہیں تھی۔ شیخ عبد الغنی کا تعلق بھی گجرات سے تھا وہ راولپنڈی آئے تو شیخ حسن نے انہیں کام پر رکھ لیا انہوں نے اپنی محنتِ شاقہ سے اس کاروبار کو دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی دی جس سے خوش ہو کر شیخ حسن نے انہیں اپنی دامادی میں لے لیا۔
شیخ عبد الغنی کے دو بیٹے تھے شیخ منظورالحسن اور شیخ ریاض الحسن۔
شیخ منظورالحسن کی تعلیم و تربیت ان کے نانا شیخ حسن نے کی۔ شیخ منظور الحسن نے کاروبار کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی نام کمایا اور میونسپل کمیٹی مری کے مسلسل 26 سال ممبر رہے سنی بنک کی مشہور عمارت ان ہی کی ملکیت تھی وہاں پر انہوں نے ایک مسجد بھی تعمیر کی۔
اسلامیہ ہائی سکول راولپنڈی جب دیوالیہ ہونے کے قریب تھا تو انہوں نے 36,000 ہزار روپے کا عطیہ دے کر اسے بچا لیا۔
1941ء میں ہندوستان کی Who is Who ڈائریکٹری چھپی تو اس میں شیخ عبد الغنی کے اثاثوں کی مالیت ساڑھے تیرہ لاکھ لکھی گئی اور بتایا گیا کہ وہ ریڈ کراس کو سب سے زیادہ عطیہ کرنے والے ہندوستانی ہیں۔
مری مال روڈ کی پرائم پارپرٹی سنی بنک کی70 کنال اراضی انہوں نے 150 روپے فی کنال کے حساب سے خریدی۔ ان کی ٹرانسپورٹ کمپنی کی بسیں دہلی، آگرہ اور امرتسر تک چلتی تھیں۔
رئیسِ اعظم راولپنڈی سردار سوہن سنگھ اور سردار موہن سنگھ سے ان کے گہرے مراسم تھے بتایا جاتا ہے کہ تقسیم کے وقت دونوں بھائی شیخ عبد الغنی کے پاس آئے اور فاطمہ جناح یونیورسٹی والی اپنی کوٹھی انہیں دینے کی پیشکش کی تو شیخ عبدالغنی نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ان سے اپنی پہلے والی جائیداد نہیں سنبھالی جاتی مزید جائیداد لے کر وہ کیا کریں گے۔
1948ء میں شیخ عبدالغنی وفات پا گئے تو بھائیوں نے اپنی فرم کا نام ’شیخ عبالغنی اینڈ سننز‘ رکھ لیا۔
ان کے بیٹے شیخ منظورالحسن نے تحریک پاکستان اور تحریک آزادی کشمیر میں حصہ لیا1951 ء کے انتخابات میں مسلم لیگ راولپنڈی کے ٹکٹ پر شہر سے ایم ایل اے منتخب ہوئے۔
شیخ محمود الحسن شیخ منظور الحسن کے پڑنواسے اور پڑپوتے ہیں جو لندن میں آرکیٹیکٹ ہیں انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ شیخ عبد الغنی کے کاروباروں کے ان کی اگلی نسلیں سنبھال نہیں سکیں جبکہ شیخ منظورالحسن کی سیاست کی لیگیسی کو بھی کسی نے جاری نہیں رکھا۔
خاندان میں ان کی بھابھی نے ایوب خان کی مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی تھی جبکہ شیخ منظورالحسن کی ہمدردیاں فاطمہ جناح کے ساتھ تھیں۔ اس لئے وہ سیاست سے کنارہ کش ہو کر مری میں رہنے لگے۔
شیخ منظورالحسن کو کاروبار میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ اس لیے کاروبار چل نہیں سکا اور جائیدادیں تقسیم در تقسیم ہو گئیں۔
پہلی بار ان کی بہن اور شیخ منظورالحسن کی پڑنواسی اور پڑپوتی آمنہ شیخ مخصوص نشستوں پر پنجاب اسمبلی کی ممبر بنی ہیں انہوں نے بارکلے یونیورسٹی سے ایل ایل ایم کر رکھا ہے وہ شیخ عبد الغنی کی چوتھی نسل سے ہیں لیکن کوئی نہیں جانتا کہ ان کا تعلق اس خاندان سے ہیں جن کے گھر قائد اعظم اور فاطمہ جناح آئے تھے اور جن کے بزرگوں کی اس ملک کے قیام میں اہم ترین خدمات ہیں۔
سید مصطفیٰ شاہ خالد گیلانی ایک بے مثال سیاسی کارکن
ایک ایسا سیاسی ورکر جس کا شہر میں طوطی بولتا تھا۔ قائداعظم زیادہ تر خط و کتابت انہی کے نام کرتے تھے۔ سید مصطفیٰ شاہ خالد گیلانی 1907ء میں سیالکوٹ کے موضع دولو میں پیدا ہوئے۔
ان کے چچا کہوٹہ کے تحصیل دار تھے انہوں نے ہی مصطفیٰ کو تعلیم دلوائی اور کہوٹہ میں پٹواری تعینات کروا دیا لیکن اپنی آزاد منش طبیعت کی وجہ سے انہوں نے ملازمت سے استعفیٰ دے کر خلافت تحریک میں شمولیت اختیار کر لی۔
انہیں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنی پڑیں۔ مجلسِ احرارالسلام اور مولانا ظفر علی خان کی مجلس اتحاد امت کے بھی سرکردہ رہنما تھے۔
1938ء میں مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور ضلع راولپنڈی کے سیکرٹری بنائے گئے۔ جب آپ نیلی پوش تحریک کا حصہ تھے تب دہلی میں مسجد فتح پوری کو مندر میں تبدیل کیا جا رہا تھا جب آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ گئے اور مندر کی زیرِ تعمیر دیوار گرا دی جس پرآپ کو خالد کا لقب مولانا ظفرعلی خان نے عطا کیا۔
1936ء میں جب محمد علی جناح راولپنڈی تشریف لائے تو وہ استقبالیہ کمیٹی کا حصہ تھے۔
1944ء میں محمد علی جناح انہی کی دعوت پر راولپنڈی تشریف لائے۔ محمد علی جناح کا استقبال سترہ میل کے مقام پر مسلم لیگی زعما کے ساتھ انہوں نے ہی کیا تھا۔
محمد علی جناح جب راولپنڈی مری روڈ سے گزر کر ہوٹل فلیش مینز پہنچے تو جگہ جگہ ان کا استقبال کیا گیا ان کی گاڑی کی اگلی سیٹ پر سید مصطفیٰ شاہ خالد گیلانی ہی بیٹھے تھے۔
راولپنڈی میں ایک روزہ قیام کے بعد سید مصطفی شاہ خالد گیلانی قائداعظم کے ہمراہ لاہور تک گئے تھے۔
1951ء میں سید مصطفیٰ شاہ خالد گیلانی مسلم لیگ کے ٹکٹ پر ایم ایل اے بھی بنے۔ ان کا انتقال نومبر1989ء میں راولپنڈی میں ہوا۔ انہوں نے ساری زندگی درویشی میں بسر کی نہ کوئی جائیداد بنائی نہ کوئی کاروبار کیا۔
ان کے چار بیٹے تھے تین بیرون ملک چلے گئے اور ایک راولپنڈی میں بطور پینٹر کام کرتا رہا جو تین سال پہلے فوت ہوا۔
جسٹس محمد جان، جن کے گھر گاندھی بھی آئے تھے
چار مئی 1936ء میں قائد اعظم لاہور سے سری نگر جاتے ہوئے شیخ محمد اسماعیل کے دعوت پر راولپنڈی رکے تھے جہاں انہوں نے اسلامیہ ہائی سکول میں مسلمانوں کے ایک جلسۂ عام سے خطاب کیا ۔
اس جلسے سے خطاب کے بعد قائد اعظم ایم اے جان بیرسٹر ایٹ لا کے گھر 216 میکڈالا روڈ چائے پر تشریف لے گئے۔
گاندھی بھی 1924ء میں ان کے گھر آ چکے تھے۔ محمد آغا جان 1885ء میں راولپنڈی میں عطا محمد میر منشی آف لال کڑتی کے گھر پیدا ہوئے۔
1912ء میں انہوں نے لنکنز ان سے بار ایٹ لا کر کے راولپنڈی میں پریکٹس شروع کی۔
قائداعظم بھی لنکنز ان سے ہی فارغ التحصیل تھے اس زمانے میں وکالت کے پیشے پر ہندوؤں اور سکھوں کا ہی راج ہوا کرتا تھا۔
انہوں نے سیاست کا آغاز کانگریس سے کیا تحریک خلافت اور تحریک ہجرت میں بھی شامل رہے۔
پھر مسلم لیگ میں شامل ہو گئے لیکن جلد ہی سیاست سے کانرہ کش ہو گئے۔1947ء سے 1952ء تک ہائی کورٹ کے جج رہے۔
پہلے مغربی پاکستان اور بعد میں متحدہ پاکستان کے وقف متروکہ املاک کے کسٹوڈین رہے۔ ان کی شادی پارسی خاتون سے ہوئی تھی۔ جب شہر میں کاریں دو چار ہی ہوا کرتی تھیں تب وہ روزانہ کچہری اپنی کار پر تشریف لاتے تھے وہ ہر دو سال بعد کار کا ماڈل تبدیل کر لیا کرتے۔
جسٹس ایم اے جان کے پوتے کرنل ریٹائرڈ اشرف جان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جان صاحب کی تین شادیاں تھیں پہلی شادی آگرہ سے ہوئی تھی ان سے تین بچے تھے۔
ان میں سے ایک اسلم جان تھے وہ آرمی میں میجر تھے پھر انہوں نے بار ایٹ لا کیا۔
یہ پنجاب اسمبلی کے ممبر بھی رہے دوسرے نمبر پراعظم جان تھے جو ائیر فورس میں سکواڈرن لیڈر بنے جن پر آپ کی کتاب ’راول راج‘ میں ایک سٹوری بھی ہے۔
اعظم جان نے پی آئی اے جوائن کر لی اور اس کے چیف پائلٹ کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔
ہنری کسنجر نے چین کا جو خفیہ دورہ کیا تھا اس جہاز کو اعظم جان ہی اڑا رہے تھے۔
جسٹس جان کی دوسری شادی سے ان کے چھ بچے تھے میجرعارف جان نے چھ ستمبر 1965ء کی جنگ میں شہادت پائی۔
دوسرے بیٹے جسٹس آصف جان تھے جو ہائی کورٹ کے جج بنے۔ میں تیسرے نمبرپر تھا بطور لیفٹیننٹ کرنل ریٹائر ہوا، میری تین بہنیں ہیں جو لاہور میں رہتی ہیں۔ جسٹس جان کی تیسری شادی ایک پارسی خاتون نرگس قیقباد سے ہوئی ان سے کوئی اولاد نہیں تھی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جسٹس جان کا آبائی گھر جس میں قائداعظم تشریف لائے تھے وہ 12 کنال کا تھا جس کئی حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے اور کافی حصے فروخت بھی ہو چکے ہیں۔
سیٹھ آدم جی، جن کی کاروباری ساکھ کے انگریز بھی قائل تھے
راولپنڈی میں بوہرہ برادری کے سیٹھ آدم جی ایک ممتاز کاروباری خاندان سیٹھ ماموں جی کے گھر1859ء میں کاٹھیا واڑ میں پیدا ہوئے تھے۔
مشن کالج لاہور سے ایف اے کرنے کے بعد اپنے والد ماموں جے کے ساتھ کاروبار میں شامل ہو گئے ۔1893ء میں راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے رکن بنائے گئے۔
انجمن اسلامیہ راولپنڈی کے صدر اور مسلم لیگ کے صوبائی نائب صدر بھی رہے۔ ایڈورڈ ہفتم نے انہیں1903ء کے دہلی دربار میں اعزازی شیلڈ پیش کی۔1907 ء میں خان بہادر کے اعزاز سے نوازے گئے۔
1909ء میں پنجاب اسمبلی کے رکن بنائے گئے اس وقت پورے پنجاب سے صرف 11 اراکین تھے۔
دہلی میں ہر اہم تقریب چاہے یہاں شہنشاہ معظم کی آمد پر ان کا دربار لگتا یا پھر نئی دہلی کی افتتاحی تقریب ہوتی انہیں ضرور مدعو کیا جاتا۔
اسلامیہ ہائی سکول کا قیام ہو، راولپنڈی کی جامع مسجد کی تعمیر یا پھر مسلم لیگ کے لیے چندہ مہم، عطیات میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔
جمیل احمد ان کے پڑپوتے ہیں جو آدم جی روڈ پر کاروبار کرتے ہیں انہوں نے بتایا کہ ان کی اولاد میں سے کسی نے ان جتنا نام نہیں کمایا۔
ان کی چوتھی نسل میں سے زیادہ تر لوگ نوکریاں کرتے ہیں یا پھر چھوٹے موٹے کاروبار چلا رہے ہیں۔
