فیلڈ مارشل کی ایرانی وزیر خارجہ سے گفتگو: سعودی عرب پر حوثی حملوں پر بات چیت

ایک پاکستانی سکیورٹی عہدیدار نے جمعے کو روئٹرز کو بتایا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان گفتگو ہوئی، جس کے دوران تہران کے امریکہ سے تنازع اور سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں سے متعلق گفتگو کی گئی۔

عہدیدار نے بتایا کہ جمعرات کو ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو میں تمام محاذوں پر امریکہ کے ساتھ تہران کے تنازع کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بحال کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

عہدیدار کے مطابق گفتگو میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ، مذاکرات کی جانب واپسی کے امکانات اور سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں پر بھی بات ہوئی۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور سعودی عرب کے اعلیٰ سفارت کاروں نے خطے میں بڑھتے ہوئے ’عدم تحفظ‘ پر تبادلہ خیال کے لیے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔

اس بات چیت میں یمن کی حالیہ لڑائی کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، جس میں ممالک مخالف فریقوں کی حمایت کرتے ہیں۔ 

تہران یمن کے حوثیوں کی عسکری اور مالی حمایت کرتا ہے، جنہوں نے برسوں سے ملک کے شمال کے بڑے حصوں پر کنٹرول قائم کر رکھا ہے اور جمعرات کو بحیرہ احمر کے سٹریٹیجک بندرگاہی شہر مخا پر قبضہ کر لیا۔

حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ ریاض طویل عرصے سے یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کر رہا ہے اور جب سے حوثیوں نے پیش قدمی شروع کی ہے تب سے وہ ان پر فضائی حملے کر رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ کی وسیع تر جنگ کے دوران سعودی عرب اور ایران بھی ایک دوسرے کے مدمقابل آئے ہیں، جس میں تہران نے خلیجی مملکت میں سعودی تیل کے بنیادی ڈھانچے اور امریکہ سے منسلک اہداف پر حملے کیے۔

تہران کی وزارت خارجہ کے مطابق ایرانی اعلیٰ سفارت کار وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کی شام اپنے سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان سے ’خطے میں کشیدگی میں اضافے اور بڑھتے ہوئے عدم تحفظ‘ پر بات چیت کی۔

ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کے خلاصے میں کہا گیا کہ دونوں فریقوں نے ’کشیدگی کے پھیلاؤ کو روکنے اور استحکام بحال کرنے کے لیے تعاون اور سفارتی کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔‘

اگرچہ ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے اعلامیے میں خاص طور پر یمن کا ذکر نہیں کیا، لیکن وہاں ہونے والی لڑائی کے حوالے سے ایک الگ بیان میں اس بات پر اصرار کیا گیا کہ ’فوجی مداخلت کے ذریعے یمنی بحران کو حل کرنا ناممکن ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حوثی برسوں سے یمن کے دارالحکومت صنعا اور اہم بندرگاہی شہر حدیدہ پر کنٹرول رکھتے ہیں، لیکن حالیہ دنوں میں انہوں نے بحیرہ احمر کے دروازے یعنی سٹریٹیجک آبنائے باب المندب کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے ایک نیا حملہ شروع کیا ہے۔

نہر سویز کے راستے ایشیا کو یورپ سے ملانے والی یہ آبی گزرگاہ مشرق وسطیٰ کی وسیع تر جنگ کے آغاز کے بعد سے تجارتی راستے کے طور پر زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے، جس میں ایران نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر دی تھی۔

اپنے ڈرونز اور میزائلوں کی مدد سے حوثی بحیرہ احمر کی ٹریفک میں خلل ڈالنے میں کامیاب رہے ہیں اور انہوں نے وہاں تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے سعودی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔

کئی سال کے نسبتاً پُرسکون حالات کے بعد، جن کے دوران کبھی کبھار تشدد ہوتا رہا اور غربت بڑھتی گئی، یمن جولائی میں دوبارہ جنگ کی لپیٹ میں آ گیا۔

بدھ کو حوثیوں سے لڑنے والے سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا کہ اس گروپ نے جنوبی سعودی عرب کے کئی شہروں پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون فائر کیے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *