سنگاپور حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے ڈیٹنگ ایپ کیوں شروع کی؟

سنگاپور نے پارٹنر کی تلاش کو سرکاری عمل بنانے کا نیا طریقہ نکالا ہے یعنی اب حکومت آپ کے لیے موزوں ساتھی تلاش کرے گی۔

ملک کے سرکاری ٹیکنالوجی ادارے (گَو ٹیک) نے فرسٹ ڈیٹ کے نام سے پارٹنر تلاش کرنے کی سروس شروع کی ہے۔

 یہ سروس 21 سے 35 سال کے سرکاری ملازمین کے لیے ہے اور اس کا مقصد انہیں روایتی ڈیٹنگ ایپس پر مسلسل پروفائل دیکھنے اور پسند یا ناپسند کرنے کی زحمت سے بچانا ہے۔

ڈیٹنگ ایپ میں صارفین ایک تفصیلی سوال نامہ پُر کرتے ہیں، پھر نوبیل انعام یافتہ الگورتھم ان کے لیے موزوں پارٹنر تلاش کرتا ہے اور انہیں کسی ایک ممکنہ ساتھی کا نام سامنے آنے کا انتظار کرنا ہوتا ہے۔

روایتی ڈیٹنگ ایپس پر صارفین کے سامنے پروفائلز کی بھرمار ہوتی ہے، لیکن اس سروس میں ہر شخص کو پارٹنر تلاش کرنے کے ہر مرحلے میں صرف ایک ممکنہ ساتھی تجویز کیا جاتا ہے۔ دونوں افراد کو ایس ایم ایس موصول ہوتا ہے اور ان کے پاس یہ فیصلہ کرنے کے لیے 72 گھنٹے ہوتے ہیں کہ آیا وہ ایک دوسرے سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں یا نہیں؟

سنگاپور کے صحافی تیو کائی شیانگ نے اپنے نیوز لیٹر میں بتایا کہ اس سروس کا سوال نامہ روایتی ڈیٹنگ ایپس پر ہونے والی عام رسمی گفتگو سے کہیں زیادہ تفصیلی ہے۔

اس میں پوچھا جاتا ہے کہ آیا آپ ورزش کے بے حد شوقین ہیں یا ورزش کو بے فائدہ سمجھتے ہیں؟ آپ صبح سویرے جاگتے ہیں یا رات دو بجے تک جاگتے رہتے ہیں؟ آپ محبت کا اظہار کس طرح کرتے اور کس انداز میں محبت پانا پسند کرتے ہیں؟ اور کیا آپ بچے چاہتے ہیں؟

اس کے بعد وہ سوال آتا ہے جو شاید تعلق قائم ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کر دے یعنی اس وقت آپ کا کمرہ کیسا دکھائی دے رہا ہے؟

فرسٹ ڈیٹ ایپ کی ویب سائٹ کے مطابق درخواست دینے والوں کے لیے سنگاپور کے قومی ڈیجیٹل شناختی نظام ’سنگ پاس‘ کے ذریعے لاگ ان کرنا ضروری ہے۔ اس سروس کے لیے غیر شادی شدہ، بیوہ یا طلاق یافتہ افراد درخواست دے سکتے ہیں۔

سوال نامہ مکمل ہونے کے بعد ’فرسٹ ڈیٹ‘ 1962 میں ریاضی دانوں ڈیوڈ گیل اور لائیڈ شیپلی کے تیار کردہ ’گیل شیپلی سٹیبل میرج الگورتھم‘ کی مدد سے ممکنہ ساتھی تلاش کرتا ہے۔

یہ نظام اس قدر اہم ثابت ہوا کہ اس پر لائیڈ شیپلی کو 2012 میں معاشی علوم کے نوبیل یادگاری انعام میں حصہ دیا گیا، تاہم عام طور پر اس الگورتھم کا استعمال رومانوی تعلقات کے لیے نہیں، بلکہ میڈیکل گریجویٹس کو ہسپتالوں اور طلبہ کو سکولوں سے منسلک کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

فرسٹ ڈیٹ نے اسی طریقے کو ایک ایسے معاملے پر آزمایا ہے، جسے اعداد میں ناپنا کہیں زیادہ مشکل ہے، یعنی کیا دو اجنبی واقعی ایک دوسرے کے ساتھ ملاقات کرنا چاہیں گے۔

سادہ لفظوں میں یہ نظام دونوں افراد کی جانب سے بتائی گئی پسند اور شریک زندگی سے متعلق توقعات کا جائزہ لیتا ہے۔ پھر تمام ممکنہ جوڑوں کو پرکھ کر ایسی جوڑی بناتا ہے جس میں دونوں کی پسند ایک دوسرے سے زیادہ مطابقت رکھتی ہو۔

ہر تجویز کردہ پارٹنر کے ساتھ باہمی مطابقت کا سکور، متعلقہ شخص کا تعارف اور اس کا ذاتی پیغام بھی دیا جاتا ہے، تاہم یہ ضروری نہیں کہ ہر مرحلے میں ہر صارف کو کوئی ساتھی مل جائے۔

صارف کا پروفائل صرف اس شخص کو دکھائی دیتا ہے جسے اس کے لیے ممکنہ ساتھی کے طور پر چنا گیا ہو۔ رابطے کی تفصیلات بھی اسی صورت میں دی جاتی ہیں جب دونوں افراد اس پر رضامند ہوں۔

اگر دونوں افراد ملاقات پر راضی ہو جائیں تو فرسٹ ڈیٹ ان کی بات چیت آگے بڑھانے کے لیے ’ڈیٹ کویسٹس‘ کے نام سے مختلف سرگرمیاں بھی تجویز کرتی ہے، تاکہ وہ ابتدائی جھجک دور کر سکیں۔ 

تشہیری مہم کے دوران جوڑوں کو کوئی سرگرمی مل کر مکمل کرنے پر واؤچر بھی مل سکتے ہیں، مثلاً ایسی ڈش کھانا جو دونوں نے پہلے کبھی نہ کھائی ہو۔

فرسٹ ڈیٹ کا تصور ’گَو ٹیک‘ کی سالانہ ہیکاتھون سے سامنے آیا، جہاں عملے کے ایک گروپ نے ان مشکلات پر غور شروع کیا، جن کا لوگوں کو کسی نئے شخص سے ملتے وقت سامنا ہو سکتا ہے۔

انہوں نے سوچا کہ اگر ممکنہ ساتھیوں کی تعداد کم رکھی جائے اور اقدار، پسند اور ترجیحات کی بنیاد پر باہمی مطابقت کو زیادہ اہمیت دی جائے تو صارفین کو ہر تجویز کردہ رشتے پر غور کرنے اور اگلا قدم اٹھانے کا فیصلہ کرنے کے لیے زیادہ وقت مل سکتا ہے۔

اسی سوچ کے نتیجے میں فرسٹ ڈیٹ وجود میں آئی۔ ادارے کے مطابق یہ نچلی سطح سے شروع کیا گیا ایک آزمائشی منصوبہ ہے، جسے سنگاپور کے سرکاری شعبے میں آزمایا جا رہا ہے۔ اس کی ویب سائٹ پر لکھا ہے، ’اب پروفائلز دیکھتے دیکھتے تھکنے کا سلسلہ ختم۔‘

اس خیال کو انٹرنیٹ پر کچھ لوگوں کی حمایت بھی ملی ہے، خاص طور پر ان افراد کی جو حکومت کے منافع کمانے کے مقصد سے آزاد ہونے کو اس سروس کی خوبی سمجھتے ہیں۔

ریڈاِٹ پر ایک صارف نے کہا کہ نجی ڈیٹنگ ایپس کے پاس اپنے صارفین کو مستقل طور پر پلیٹ فارم چھوڑنے میں مدد دینے کی کوئی خاص وجہ نہیں، جبکہ سرکاری سروس کا مقصد بہت سادہ ہے کہ ’براہ کرم اس مسئلے کو ختم کریں۔‘

ایک اور صارف نے کہا کہ طویل مدتی تعلق کے خواہش مند افراد کے لیے فرسٹ ڈیٹ آزمانے کے قابل ہے، کیوں کہ تجارتی ایپس اسی وقت پیسہ کما سکتی ہیں جب صارفین زیادہ پروفائلز دیکھیں اور ان کی بامعاوضہ خدمات استعمال کریں۔

فرسٹ ڈیٹ بظاہر ایک ایسے مسئلے کا حل تلاش کر رہی ہے جو صرف سنگاپور تک محدود نہیں۔ برطانیہ میں ڈیٹنگ ایپس کے کم ہوتے استعمال سے متعلق 2024 کی گارڈین رپورٹ میں بعض صارفین نے اس تجربے کو ’اعداد کا کھیل‘ قرار دیا، جبکہ کچھ کا کہنا تھا کہ وہ بار بار جوڑا بننے اور پیغامات بھیجنے کے نہ ختم ہونے والے سلسلے سے تنگ آ چکے ہیں۔

تاہم بہت سے لوگوں نے حکومت کی جانب سے رشتے کروانے کی اس کوشش کے پیچھے ایک اور عملی مقصد دیکھا یعنی بچوں کی پیدائش میں اضافہ۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایکس پر ایک صارف نے مذاق میں کہا کہ اگر یہ منصوبہ شرح پیدائش میں ’ذرا سی بھی بہتری‘ لے آئے تو اسے بنانے والے ’ایک اور نوبیل انعام‘ کے حق دار ہوں گے۔

2025 میں سنگاپور میں صرف 30 ہزار 4 بچے پیدا ہوئے۔ یہ گذشتہ سال کے مقابلے میں 11 فیصد کمی تھی اور چھ دہائیوں میں پہلی بار یہ تعداد 30 ہزار سے نیچے آ گئی۔ ملک میں رہائشی آبادی کی شرح افزائش بھی ریکارڈ کم ہو کر 0.87 رہ گئی، جو 2024 میں 0.97 اور ایک دہائی پہلے 1.24 تھی۔

فروری میں سنگاپور کے نائب وزیراعظم گان کم یونگ نے کم ہوتی شرح پیدائش اور بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کو ملک کے لیے ’بقا کا چیلنج‘ قرار دیا تھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں شہریوں کی شادیوں کی تعداد بھی 5.6 فیصد کم ہو کر 21 ہزار 671 رہ گئی۔

تاہم سوشل میڈیا پر اس منصوبے پر تنقید بھی ہوئی ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حکومت کی دلچسپی لوگوں کو ان کی پسند کا ساتھی تلاش کرنے میں مدد دینے کے بجائے صرف شرح پیدائش بڑھانے میں ہے۔ 

سروس کو 35 سال سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے دستیاب نہ کرنے کا ذکر کرتے ہوئے ریڈٹ پر ایک صارف نے لکھا کہ ’چوں کہ 35 سال یا اس سے زیادہ عمر میں بچے پیدا کرنے سے زیادہ خطرات وابستہ ہوتے ہیں، اس لیے حکومت ایسے لوگوں کو نظر انداز کر دیتی ہے۔‘

سنگاپور کئی دہائیوں سے لوگوں کے رشتے کروانے کی کوششیں کرتا آ رہا ہے، اگرچہ وقت کے ساتھ اس کے طریقے خاصے بدل گئے ہیں۔

1984 میں حکومت نے یونیورسٹی کی تعلیم رکھنے والے غیر شادی شدہ افراد میں شادی کی حوصلہ افزائی کے لیے ’سوشل ڈیولپمنٹ یونٹ‘ قائم کیا تھا۔ یہ ادارہ عشائیوں، رقص کی محفلوں، تفریحی دوروں اور بیرون ملک سیاحتی دوروں کا اہتمام کرتا تھا، جہاں لوگ ممکنہ شریک زندگی سے مل سکتے تھے۔

یہ منصوبہ اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین میں غیر شادی شدہ رہنے کے بڑھتے رجحان پر تشویش کے باعث شروع کیا گیا تھا اور یہ شادیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت کی زیادہ براہ راست کوشش کا حصہ تھا۔

بعد میں اس سروس کا دائرہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد سے آگے بڑھایا گیا اور اسے ’سوشل ڈیولپمنٹ نیٹ ورک‘ کا نام دے دیا گیا۔ یہ ادارہ نجی میرج بیوروز کے ساتھ مل کر کام کرتا اور غیر شادی شدہ افراد کے لیے مختلف سرگرمیاں منعقد کرتا تھا۔

تاہم 2000 کے بعد حکومت نے خود رشتے کروانے سے رفتہ رفتہ پیچھے ہٹنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد سوشل ڈیولپمنٹ نیٹ ورک نے براہ راست رشتے کروانے کے بجائے نجی شعبے کی رشتہ تلاش کرنے والی سروسز کی منظوری اور نگرانی پر زیادہ توجہ دینا شروع کر دی۔

بالآخر 2023 میں اس کی ویب سائٹ بند کر دی گئی۔ سماجی اور خاندانی ترقی کی وزارت نے اس کی وجہ ارکان کی کم ہوتی تعداد اور ڈیٹنگ ایپس سمیت نجی شعبے میں دستیاب متبادل سروسز میں اضافے کو قرار دیا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *