فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں اتوار کی شب سپین نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے میسی کی ارجنٹائن کو ’یک طرفہ‘ مقابلے میں شکست دے کر دوسری مرتبہ ٹائٹل اپنے نام کر لیا ہے۔
سپین نے اس سے قبل 2010 میں فیفا ورلڈ کپ جیتا تھا۔
نیو جرسی میں اتوار کی شب کھیلے گئے اس فائنل میچ کا جو نتیجہ نکلا اور جس انداز اس مقابلے کا اختتام ہوا کم از کم ارجنٹائن کے کسی بھی فین نے تو نہیں سوچا ہو گا۔
ویسے تو سپین نے ارجنٹائن کو 1-0 سے شکست دی لیکن یہ سکور پوری طرح سے سپین کے کھیل کی ترجمانی نہیں کرتا۔ اضافی وقت میں فیران ٹوریس کے فیصلہ کن گول نے لیونل میسی کی قیادت میں دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کی مزاحمت اور لگاتار دوسری مرتبہ ٹائٹل اپنے نام کرنے کی امیدیں ختم کر دی۔
میٹ لائف سٹیڈیم میں 80 ہزار سے زائد شائقین نے ایک سنسنی خیز فائنل دیکھا، جو ارجنٹائن کی سخت دفاعی حکمت عملی اور بار بار کیے گئے فاؤلز کے باعث انتہائی سخت مقابلہ ثابت ہوا۔
دفاعی چیمپئن ارجنٹائن پورے میچ میں سپین کی برتری کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہا، اور 93ویں منٹ میں اینزو فرنانڈیز کو سپین کے دفاعی کھلاڑی پاؤ کوبارسی پر خطرناک ٹیکل کے باعث دوسرا پیلا کارڈ ملنے پر میدان سے باہر بھیج دیا گیا، جس کے بعد ارجنٹائن کے لیے مشکلات مزید بڑھ گئیں۔
ارجنٹائن پورے میچ میں گول کرنے کے بہت کم مواقع پیدا کر سکا، تاہم گول کیپر ایمیلیانو مارٹینیز نے متعدد شاندار سیوز کر کے ٹیم کو کافی دیر تک مقابلے میں برقرار رکھا۔
2010 کے عالمی چیمپئن سپین، جس نے پورے میچ میں مسلسل حملے کیے، بالآخر اضافی وقت کے دوسرے ہاف کے آغاز میں کامیاب ہوا۔ یہ گول نیکو ولیمز کے شاندار بیک ہیل پاس کے بعد متبادل کھلاڑی فیران ٹوریس نے 106ویں منٹ میں طاقت ور شوٹ کے ذریعے سکور کیا۔
آخری سیٹی بجتے ہی سپین کے کھلاڑی جشن منانے لگے جبکہ لیونل میسی آنسوؤں کے ساتھ رنر اپ کا تمغہ وصول کرنے کے لیے سٹیج پر پہنچے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ارجنٹائن کی بے بسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پورے میچ میں ارجنٹائن نے صرف تین شوٹس ماریں جن میں سے آن ٹارگٹ ایک بھی نہیں تھی، جبکہ سپین نے کل 20 حملے کیے جن میں سے 11 آن ٹارگٹ رہے۔
کھیل پر گرفت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ گیند پر 68 فیصد قبضہ سپین کا رہا اور یہی نہیں بلکہ سپین کے کھلاڑیوں نے 803 پاسز دیے جبکہ ارجنٹائن صرف 445 پاسز ہی دے سکے۔
اس کے برعکس ارجنٹائن کا فاؤلز میں پلڑا بھاری رہا جس نے کل 24 فاؤلز کیے جن میں سے پانچ پر یلو اور ایک پر ریڈ کارڈ دیا گیا۔
انعامات تقسیم کرنے کی تقریب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو بھی موجود تھے۔ ٹرمپ جب میدان میں آئے تو سٹیڈیم میں موجود شائقین نے ان کے خلاف بلند آواز میں نعرے بازی (ہُوٹنگ) کی۔
ٹرافی پیش کرنے کے دوران ٹرمپ کچھ دیر سٹیج پر کھڑے رہے، جس پر جیانی انفانٹینو نے انہیں ایک طرف ہٹنے کا اشارہ کیا تاکہ سپین کی ٹیم ٹرافی اٹھا سکے۔
اس موقع پر 80 سالہ ٹرمپ نے مختصر انداز میں اپنا مشہور ’ٹرمپ ڈانس‘ بھی کیا۔
سپین کے جذباتی کوچ لوئس ڈی لا فوئنٹے نے کہا کہ ان کے کھلاڑی پورے ملک کے لیے باعثِ فخر ہیں۔
ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی قرار پانے والے سپین کے کپتان روڈری نے کہا کہ اپنے جذبات کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے، خاص طور پر اس لیے کہ وہ 14 ماہ قبل گھٹنے کی سنگین انجری سے واپس آئے تھے۔
انہوں نے کہا: ’اس وقت ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے ہم بادلوں پر ہوں۔ یہ وقت بہت مشکل تھا۔ میں چاہتا ہوں کہ نئی نسل میری مثال سے یہ سیکھے کہ اگر آپ گر جائیں تو دوبارہ اٹھ بھی سکتے ہیں۔‘
