لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ لاہور کے علاقے ڈیفنس میں دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا برائے تاوان، ریپ اور تشدد کے ایک سنگین مقدمے میں پولیس نے چار افراد کو گرفتار کرکے متاثرہ خواتین کو بازیاب کرا لیا ہے۔
پولیس کے مطابق کارروائی ایک غیر ملکی خاتون کے والد کی جانب سے ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر دی گئی اطلاع کے بعد کی گئی۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے اس مقدمے میں چار ملزمان کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔
تھانہ ڈیفنس سی میں درج مقدمے کے مطابق ہالینڈ سے تعلق رکھنے والی درخواست گزار خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی ایک شخص سے اکتوبر 2025 میں سنگاپور میں ملاقات ہوئی تھی۔
بعد ازاں اس شخص نے انہیں اور ان کی دوست، جو وینزویلا سے تعلق رکھتی ہیں، پاکستان آنے کی دعوت دی اور سفری دستاویزات اور ویزوں کے انتظام میں بھی مدد فراہم کی۔
خاتون کے بیان کے مطابق وہ 20 جون کو اپنی دوست کے ہمراہ پاکستان پہنچیں، جہاں مبینہ طور پر انہیں چند دیگر افراد کی مدد سے اغوا کر لیا گیا۔
بیان کے مطابق متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ ملزم پورے واقعے کے دوران خود کو بھی اغوا شدگان میں شامل ظاہر کرتا رہا، تاہم بعد میں انہیں شبہ ہوا کہ وہ دیگر افراد کے ساتھ ملا ہوا تھا۔
مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ خواتین کو ایک نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا، جہاں ان سے رہائی کے بدلے 15 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا گیا۔
درخواست گزار کے مطابق اغوا کے دوران دونوں خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے ساتھ باری باری ریپ بھی کیا گیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مقدمے کے مطابق خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں دھمکیاں دی جاتی رہیں کہ اگر مطالبات پورے نہ کیے گئے تو انہیں جان سے مار دیا جائے گا۔
لاہور پولیس کے ترجمان کے مطابق متاثرہ خاتون کے والد نے جمعرات کی صبح پولیس ہیلپ لائن پر اپنی بیٹی اور اس کی دوست کے اغوا کی اطلاع دی، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کا آغاز کیا۔
پولیس کے مطابق سیف سٹی کیمروں اور دیگر ذرائع کی مدد سے دونوں خواتین کا سراغ لگایا گیا اور تقریباً دو گھنٹوں کے اندر انہیں بازیاب کرا لیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران چار مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ متاثرہ خواتین کا طبی معائنہ بھی کرا لیا گیا ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے اور کیس کے دیگر پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق واقعے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ متاثرہ خواتین کو مکمل تحفظ اور قانونی انصاف فراہم کیا جائے۔ مزید ممکنہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پنجاب پولیس کے ریکارڈ کے مطابق صوبے میں سال 2025 کے پہلے چھ ماہ جنوری تا جون میں تقریباً 1,620 ریپ کے کیسز رپورٹ ہوئے، یعنی اوسطاً روزانہ تقریباً 9 خواتین کے ریپ کا شکار ہونے کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔
