پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ڈیجیٹل لاک ڈاؤن کے سائے تلے عام انتخابات 27 جولائی کو منعقد کیے جا رہے ہیں، جہاں انٹرنیٹ بندش نے انتخابی مہم اور معمولاتِ زندگی متاثر کر دیے ہیں۔
حکومت نے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے پیشِ نظر 5 اور 6 جون کی درمیانی شب ریاست بھر میں موبائل انٹرنیٹ اور لینڈ لائن فائبر انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی تھیں۔ اس اقدام کو اب ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، لیکن انٹرنیٹ سروسز تاحال بحال نہیں ہو سکیں۔
2021 کے انتخابات میں امیدواروں نے اپنی انتخابی مہم کو مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کیا تھا، تاہم موجودہ انتخابات میں انٹرنیٹ کی مسلسل بندش کے باعث انتخابی مہم بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار افتخار گیلانی حلقہ نمبر 3 مظفر آباد سے دو مرتبہ رکنِ قانون ساز اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ 2021 کے انتخابات میں سوشل میڈیا کا کردار تقریباً 20 فیصد تھا، جبکہ 2026 کے انتخابات میں اس کا کردار بڑھ کر تقریباً 50 فیصد ہو چکا تھا۔ تاہم انٹرنیٹ بند ہونے کے باعث امیدواروں کو انتخابی مہم چلانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
افتخار گیلانی کہتے ہیں کہ اگرچہ انتخابی سرگرمیوں کے آغاز کے بعد گذشتہ ایک ہفتے میں ووٹرز کا ماحول بننا شروع ہوا ہے اور عوام کی دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے، تاہم انٹرنیٹ کی عدم دستیابی انتخابی رابطوں میں ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
دوسری جانب حلقہ نمبر 3 سے آزاد امیدوار خواجہ لیاقت شبیر کے مطابق ’انٹرنیٹ آج کے دور میں ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔
’انٹرنیٹ کی بندش سے نہ صرف سیاسی سرگرمیاں اور انتخابی مہم متاثر ہوئی ہے بلکہ کاروباری اور معاشی سرگرمیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت، حکومت پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے مطالبہ کیا کہ انٹرنیٹ سروسز فوری طور پر بحال کی جائیں تاکہ عام شہریوں کے ساتھ ساتھ انتخابی امیدوار بھی اپنی مہم مؤثر انداز میں چلا سکیں۔
انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے شہری تسلیم عباسی نے کہا کہ وہ ایک سیاسی جماعت کے کارکن بھی ہیں۔ انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے سیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیش آ رہی ہے۔
انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ انٹرنیٹ فوری بحال کیا جائے۔
ایک اور شہری، چوہدری ارشد، نے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے اور وہ انتخابی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتے ہوئے اپنی جماعت کی کامیابی کے لیے کام کریں گے۔
یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ انٹرنیٹ کی عدم دستیابی میں کیا الیکشن کمیشن شفاف، آزاد اور غیر جانبدار انتخابات کروا سکے گا؟ اور کیا نتائج مرتب کرنے اور بروقت منتقل کرنے میں کسی قسم کی مشکلات پیش آئیں گی؟
اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے الیکشن کمیشن اہلکار خواجہ احسن سے گفتگو کی جن کا کہنا تھا کہ ریاست میں انٹرنیٹ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند کیا گیا ہے، تاہم الیکشن کمیشن کے دفاتر میں انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 27 جولائی کو انتخابات اپنے مقررہ وقت پر منعقد ہوں گے۔ اس روز صحافیوں کو بھی الیکشن کمیشن کے دفاتر میں انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ انتخابی نتائج بروقت اپنے اداروں تک پہنچا سکیں۔
شہریوں اور امیدواروں کی تشویش اپنی جگہ برقرار ہے، جبکہ الیکشن کمیشن اس بات پر پرامید ہے کہ انتخابات مقررہ وقت پر منعقد ہوں گے۔
تاہم ان دعوؤں میں کتنی حقیقت ہے، اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔
