متبادل کھلاڑی مائیکل میرینو نے جمعے کو ایک بار پھر آخری لمحات میں سپین کے لیے فیصلہ کن گول کر دیا۔
امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر انگل وڈ (Inglewood) کے سوفی سٹیڈیم میں کھیلے گئے کوارٹر فائنل میں بیلجیئم کے گول کیپر سینے لامنس گیند قابو میں نہ رکھ سکے، جس کے بعد سپین نے زخمی کھلاڑیوں سے متاثرہ بیلجیئم کو 2-1 سے شکست دے کر ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں فرانس کے خلاف مقابلہ طے کر لیا۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے مقابلے کینیڈا، میکسیکو اور امریکہ میں جاری ہیں۔
پہلا ہاف 1-1 سے برابر رہنے کے بعد دونوں ٹیمیں وقفے کے لیے میدان سے باہر گئیں۔ آخرکار سپین نے اس وقت کامیابی حاصل کی جب بیلجیئم کے متبادل گول کیپر لامنس، جو زخمی تھیبو کورٹوا کی جگہ دوسرے ہاف میں میدان میں آئے تھے، پاؤ کوبارسی کی زمین کے قریب لگائی گئی شاٹ کو قابو میں نہ رکھ سکے۔
گیند لامنس کے سامنے اچھلی، جس سے میرینو کو گیند گول میں پہنچانے کے لیے بس اتنا وقت مل گیا۔ شدید گرمی میں لاس اینجلس سٹیڈیم میں موجود تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرے مجمع کی اکثریت سپین کی حمایت کی اور گول ہوتے ہی خوشی سے جھوم اٹھی۔
مائیکل میرینو کا کہنا تھا کہ ’اتفاق جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی۔‘ انہوں نے پرتگال کے خلاف پری کوارٹر فائنل میں بھی متبادل کھلاڑی کی حیثیت سے آخری لمحات میں فیصلہ کن گول کر کے سپین کو 1-0 سے فتح دلائی تھی۔
’اگر آپ پوری تیاری کے ساتھ میچ میں اتریں تو ایسی کامیابی دوبارہ بھی مل سکتی ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس سے پہلے سپین 2010 میں ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پہنچا تھا۔ اس نے ٹورنامنٹ جیت لیا تھا۔
مائیکل میرینو نے مزید کہا کہ ’ہم ورلڈ کپ جیتنے سے صرف دو میچ دور ہیں اور ہمارا ہدف یہی ہے۔‘
یورپی چیمپئن سپین فائنل میں جگہ بنانے کے لیے منگل کو ڈیلس میں ٹورنامنٹ کی مضبوط ترین ٹیم سمجھے جانے والے فرانس کا مقابلہ کرے گا۔
سپین کے کوچ لوئس دے لا فوینتے نے کہا، ’ہم فرانس کو شکست دینے کے لیے سخت محنت کریں گے۔ وہ بھی اتنے ہی پریشان ہوں گے جتنے ہم ہیں۔‘
