بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے پیر کو کہا ہے کہ بلوچستان میں ایران سے آنے والے مائع گیس (ایل پی جی) کے ٹینکروں اور کارگو ٹرکوں پر حملے پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی روابط کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔
ان کا یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا، جب ضلع چاغی کے علاقے نوکچہ میں مسلح افراد نے ایران سے آنے والے تین ایل پی جی باؤزرز کو آگ لگا دی۔ یہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران تجارتی گاڑیوں پر ہونے والے حملوں کی تازہ ترین کڑی ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ان حملوں اور سکیورٹی کے باعث قافلوں کی نقل و حرکت پر عائد پابندیوں نے کوئٹہ۔تفتان شاہراہ پر ایندھن اور تجارتی سامان کی ترسیل متاثر کر دی ہے۔ یہ شاہراہ پاکستان اور ایران کے درمیان زمینی تجارت کی اہم ترین گزرگاہ ہے اور بلوچستان میں بڑے معدنیاتی اور ترقیاتی منصوبوں کی سپلائی لائن بھی سمجھی جاتی ہے۔
پولیس کے مطابق اس وقت تفتان بارڈر پر ایل پی جی لوڈ ہونے کے انتظار میں 400 سے زائد ٹرک موجود ہیں، جبکہ کاروباری نمائندوں کا اندازہ ہے کہ سکیورٹی خدشات کے باعث ایک ہزار 500 سے دو ہزار کے درمیان باؤزرز اور کارگو ٹرک مختلف اقسام کا تجارتی سامان لے کر سرحد پر رکے ہوئے ہیں۔
میر ضیا اللہ لانگو نے کہا، ’کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر کالعدم تنظیمیں نہ صرف ایران سے آنے والے تجارتی قافلوں کو نشانہ بنا رہی ہیں بلکہ ان کی کوشش ہے کہ چین اور ایران جیسے پاکستان کے دوست ممالک کے ساتھ جاری ترقیاتی منصوبوں اور تجارتی روابط کو بھی سبوتاژ کیا جائے۔‘
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’ان تنظیموں کا مقصد پاکستان کو معاشی نقصان پہنچانا، غیر ملکی سرمایہ کاری کو متاثر کرنا اور عالمی سطح پر ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔‘
لانگو نے مزید دعویٰ کیا کہ ان تنظیموں کو انڈین حکومت کی جانب سے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے، جبکہ ان کی کارروائیاں افغانستان سے چلائی جا رہی ہیں۔
ماضی میں پاکستان کی جانب سے اس نوعیت کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں، جن کی انڈیا اور افغانستان تردید کرتے رہے ہیں۔
صوبائی حکام کے مطابق اتوار کو حملے کا نشانہ بننے والے تینوں ایل پی جی باؤزر سرکاری سکیورٹی قافلے سے الگ ہو کر سفر کر رہے تھے۔
مقامی پولیس نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا، ’12 سے 14 مسلح افراد نے این-40 شاہراہ پر عارضی ناکہ قائم کر رکھا تھا۔ حملے کے بعد حملہ آور موٹر سائیکلوں پر فرار ہو گئے جبکہ واقعہ دالبندین سے تقریباً 28 کلومیٹر دور پیش آیا۔‘
چاغی پولیس حکام کے مطابق سکیورٹی خدشات کے باعث تمام تجارتی گاڑیوں کو ایک ساتھ روانہ نہیں کیا جا سکتا۔
حکام نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا، ’اس وقت تفتان بارڈر پر ایل پی جی لوڈ ہونے کے انتظار میں 400 سے زائد ٹرک موجود ہیں، تاہم تمام گاڑیوں کو ایک ساتھ روانہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہر مرحلے میں تقریباً 50 گاڑیوں کو ہی آگے جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔‘
تفتان پاکستان کا واحد زمینی راستہ ہے جہاں سے ایران کی ایل پی جی درآمد ہوتی ہے، جسے بعد ازاں ملک بھر میں سپلائی کیا جاتا ہے۔
کوئٹہ۔تفتان شاہراہ، جسے این-40 یا آر سی ڈی ہائی وے بھی کہا جاتا ہے، پاکستان اور ایران کے درمیان زمینی تجارت کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ ایران سے آنے والی تجارتی گاڑیاں اور زائرین اسی راستے سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔
اس شاہراہ کی اہمیت اپریل 2026 میں مزید بڑھ گئی، جب پاکستان نے ایک نئے فریم ورک کے تحت تیسرے ممالک کا ایران جانے والا سامان پاکستانی سرزمین کے ذریعے چھ مختلف راستوں سے منتقل کرنے کی اجازت دی۔
ان میں سے کئی راستے دالبندین اور تفتان سے گزرتے ہیں۔ یہ انتظام وزارت تجارت کی جانب سے 25 اپریل 2026 کو جاری کیے گئے ’ٹرانزٹ آف گڈز تھرو ٹیریٹری آف پاکستان آرڈر 2026‘ کے تحت نافذ کیا گیا۔
یہ آرڈر تیسرے ممالک کے ایران جانے والے سامان پر لاگو ہوتا ہے، نہ کہ ایران سے درآمد ہونے والی ایل پی جی پر، تاہم دونوں اقسام کی تجارت بلوچستان میں ایک ہی ٹرانسپورٹ نیٹ ورک استعمال کرتی ہیں۔
اسی راہداری کے ذریعے ریکوڈک اور سیندک سمیت بلوچستان کے بڑے معدنیاتی منصوبوں کے لیے تیل، مشینری، تعمیراتی سامان اور دیگر ضروری اشیا بھی منتقل کی جاتی ہیں۔
میر ضیا اللہ لانگو نے کہا، ’ایران سے آنے والے ایل پی جی، تیل اور دیگر تجارتی سامان لے جانے والے باؤزرز اور گڈز ٹرانسپورٹ کو ماضی میں بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ موجودہ سکیورٹی صورت حال کے پیش نظر عوام کے ساتھ ساتھ گڈز ٹرانسپورٹ، ریلوے اور مسافر بسوں کی حفاظت کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ قومی اور بین الاقوامی شاہراہوں کی حفاظت کے لیے ایک خصوصی فورس قائم کی جا چکی ہے۔
لانگو نے کہا، ’خصوصی فورس نے باقاعدہ کام شروع کر دیا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے دوران اسے مرحلہ وار بلوچستان کے پانچ اضلاع میں تعینات کیا جائے گا جبکہ کوئٹہ۔تفتان شاہراہ پر سکیورٹی مزید مؤثر بنانے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔‘
کوئٹہ سیکریٹریٹ میں تعینات ایک سرکاری افسر، جنہوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، نے بتایا کہ ایندھن اور معدنیات لے جانے والی تجارتی گاڑیوں پر حملے مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’دالبندین سے گڈاپ تک ایل پی جی باؤزرز، آئل ٹینکرز اور معدنیات لے جانے والی گاڑیوں پر حملے معمول بنتے جا رہے ہیں۔ اب زیادہ تر گاڑیاں ایف سی اور پولیس کی نگرانی میں قافلوں کی صورت میں سفر کرتی ہیں، تاہم حالیہ حملے کا نشانہ بننے والے باؤزر قافلے کا انتظار کیے بغیر روانہ ہوئے تھے۔‘
ریکوڈک منصوبے سے وابستہ علی رضا رند نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ علاقے میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں میں اضافے کے ساتھ حملوں میں بھی شدت آئی ہے۔
انہوں نے کہا، ’ریکوڈک منصوبے کے آغاز کے بعد علاقے میں حملوں میں اضافہ ہوا اور جیسے جیسے غیر ملکی سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبے بڑھے، ویسے ویسے شورش پسند کارروائیوں میں بھی شدت آتی گئی۔‘
رند کے مطابق گذشتہ ایک ماہ کے دوران ہر ہفتے اوسطاً دو سے تین حملے رپورٹ ہوئے ہیں اور ایران سے ایل پی جی لانے والے ٹرک مسلسل نشانہ بن رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’سیندک اور ریکوڈک جیسے بڑے معدنیاتی منصوبوں کے لیے تیل، مشینری اور تعمیراتی سامان بھی انہی راستوں سے منتقل کیا جاتا ہے، اس لیے حملوں کے اثرات صرف ایل پی جی تک محدود نہیں بلکہ ان اہم منصوبوں کی سپلائی بھی متاثر ہو رہی ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ متعدد ڈرائیوروں نے سکیورٹی خدشات کے باعث اس روٹ پر گاڑیاں چلانے سے انکار کر دیا ہے۔
’ٹرانسپورٹرز بہتر سکیورٹی کے مطالبے پر احتجاج بھی کر چکے ہیں، لیکن حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پنجاب کے ایل پی جی ڈیلرز خبردار کر چکے ہیں کہ اگر بلوچستان میں ٹینکروں پر حملے جاری رہے تو صنعتوں کو گیس کی فراہمی متاثر ہونے کے ساتھ قلت اور قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
بلوچستان چیمبر آف کامرس کے صدر محمد ایوب مریانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں تجارتی گاڑیوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا، ’کوئٹہ۔تفتان روٹ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تیل، گیس اور دیگر سامان لے جانے والی درجنوں گاڑیوں کو نذر آتش کیا جا چکا ہے۔‘
مریانی کے مطابق تاجروں اور ٹرانسپورٹرز نے حملوں کے خلاف احتجاج کیا تھا، تاہم حکومت اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے خصوصی فورس تعینات کرنے کی یقین دہانی کے بعد احتجاج معطل کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ان حملوں کے باعث کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں اشیائے خوردونوش کی سپلائی بھی متاثر ہوئی ہے۔
’اس وقت تفتان بارڈر پر تقریباً ایک ہزار 500 سے دو ہزار باؤزرز اور ٹرک مختلف اقسام کے تجارتی سامان سے لدے کھڑے ہیں۔‘
چاغی چیمبر آف کامرس کے ایک عہدے دار، جنہوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، نے کہا کہ سرحد پر 15 ارب روپے سے زائد مالیت کا سامان رکا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا، ’سرحد پر اس وقت 15 ارب روپے سے زائد مالیت کا سامان موجود ہے، جس میں تعمیراتی سامان اور اشیائے خوردونوش بھی شامل ہیں۔ اگر سکیورٹی صورت حال بہتر نہ ہوئی تو پاکستان اور ایران کے درمیان اس اہم تجارتی راہداری پر تجارت مزید متاثر ہو سکتی ہے۔‘
