کوئٹہ کان سانحہ: ’رمضان میں واپس آنا تھا، مگر لاشیں گھر آئیں‘

بلوچستان کے شہر کوئٹہ سے 50 کلومیٹر دور کوئلے کی کان کے حادثے میں جان سے جانے والے 34 کان کنوں میں خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ کے ایک ہی خاندان کے چار نوجوان بھی شامل ہیں، جن کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ روزگار کے لیے چھ ماہ قبل گھر سے نکلے تھے اور رمضان میں واپسی کا وعدہ کر رکھا تھا، مگر اب ان کی لاشیں گھر پہنچ رہی ہیں۔

قدرتی آفات سے نمٹنے والے صوبائی ادارے پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے منیجر آپریشنز محمد فہد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ گذشتہ روز پیش آنے والے حادثے کے بعد جمعے تک 34 کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ ان میں زیادہ تر مزدوروں کا تعلق ضلع شانگلہ سے ہے۔

کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی اکثریت شانگلہ اور اس کے نواحی علاقوں سے تعلق رکھتی ہے، جہاں کئی خاندان نسلوں سے روزگار کے لیے بلوچستان کی کانوں کا رخ کرتے رہے ہیں۔ حالیہ حادثے نے ایک بار پھر کان کنوں کی حفاظت اور کام کے حالات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

جان سے جانے والے چار نوجوانوں کے چچا محمد عالم خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کے بھتیجوں کی عمریں 18 سے 20 سال کے درمیان تھیں اور وہ تقریباً چھ ماہ قبل کان کنی کے لیے بلوچستان گئے تھے۔

انہوں نے کہا: ’کچھ دن پہلے بات ہوئی تھی، وہ کہہ رہے تھے کہ رمضان میں گھر آئیں گے، لیکن آج ان کی لاشوں کا انتظار ہے۔‘

ان کے مطابق چاروں نوجوان شادی شدہ تھے اور اپنے اہل خانہ کی کفالت کر رہے تھے۔

پاکستان مائن ورکرز فیڈریشن کے صدر نوراللہ خان یوسفزئی نے بتایا کہ اس حادثے میں صرف شانگلہ کے علاقے الپوری کے ایک ہی گاؤں کے 24 کان کن جان سے گئے، جبکہ بعض خاندانوں نے دو سے پانچ افراد کھوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پورا شانگلہ اس سانحے پر سوگوار ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نوراللہ یوسفزئی کے مطابق کوئلہ کانوں میں حفاظتی انتظامات کا فقدان ایسے حادثات کی بڑی وجہ ہے۔

انہوں نے کہا: ’یہ تقدیر کا لکھا نہیں بلکہ غفلت کا قتل ہے۔ کانوں کے اندر سانس لینے کے لیے تازہ ہوا نہیں، خطرے کی صورت میں نکالنے کے لیے ریسکیو ٹیم نہیں اور حفاظت کے لیے ایک معمولی ماسک تک میسر نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ عالمی لیبر آرگنائزیشن کے کنونشن 176 پر عمل درآمد کے وعدے اب تک پورے نہیں کیے گئے، جبکہ محکمہ معدنیات کی انسپکشن بھی مؤثر نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان سے میتوں کی منتقلی کے لیے ایمبولینسوں کی بھی کمی ہے اور بعض لاشیں عام گاڑیوں پر منتقل کی جا رہی ہیں، جو افسوس ناک ہے۔

مائن ورکرز فیڈریشن نے مطالبہ کیا ہے کہ ہر متاثرہ خاندان کو فوری طور پر 50 لاکھ روپے مالی امداد دی جائے، یتیم بچوں کی تعلیم اور کفالت ریاست اپنے ذمے لے، تمام کوئلہ کانوں کا فوری حفاظتی آڈٹ کیا جائے، غیر محفوظ کانیں بند کی جائیں اور ذمہ دار مالکان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *