پاکستان نے جمعے کو ایک بار پھر کہا ہے کہ جب تک فلسطین کو تسلیم نہیں کیا جاتا، تب تک وہ ابراہم معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا۔
یہ بات پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واشنگٹن میں امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے بعد ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہی۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا: ’افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ پاکستان کو کہا گیا ہے کہ وہ معاہدہ ابراہیمی کا حصہ بنے۔ پاکستان کی اس حوالے سے ہمیشہ بہت واضح پالیسی رہی ہے کہ جب تک فلسطین کو تسلیم نہیں کیا جاتا، وہ سنہ 1967 سے پہلے والے ماڈل پر واپس نہیں جاتا اور قدس الشریف (یروشلم) اس کا دارالحکومت نہیں بن جاتا، تب تک اس معاملے پر کوئی لچک نہیں آ سکتی۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ابراہم معاہدے کے تحت مسلم اکثریتی ممالک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرتے ہیں۔
یہ معاہدہ 2020 میں صدر ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں سامنے آیا تھا، جب متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کو تسلیم کیا۔
بعد میں مراکش اور سوڈان نے بھی تعلقات معمول پر لانے کی جانب پیش رفت کی۔ تب سے واشنگٹن مزید ممالک کو اس معاہدے کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا تھا کہ انہوں نے پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکی، مصر اور اردن سمیت کئی مسلم اور عرب ممالک سے کہا ہے کہ وہ اس معاہدے میں شامل ہوں۔
انہوں نے اس پورے عمل کو ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے اور خطے میں امن کی کوششوں سے جوڑنے کی کوشش کی۔
اس پر پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کیا گیا ابراہم معاہدہ قابل قبول نہیں کیوں کہ ’یہ ہمارے بنیادی نظریات سے متصادم ہے۔‘
نجی نیوز چینل سما سے گفتگو میں انہوں نے کہا ’میرا نہیں خیال کہ ہم کسی ایسے معاہدے میں شامل ہوں گے جو ہمارے بنیادی نظریات سے متصادم ہوں۔
’میرے ذاتی خیال میں اس وقت ہم نے کوئی اقدام لیا ہے نہ کسی نے ہمیں (باضابطہ اس میں شامل ہونے کو) کہا ہے۔ اس وقت بھی غزہ (فائر بندی) معاہدے کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تو ان لوگوں کے ساتھ کیسے بیٹھا جا سکتا ہے جن پر ایک دن کا بھی اعتبار نہ ہو۔‘
انہوں نے مزید کہا تھا ’ہمارا واضح موقف ہے کہ یہ (ابراہم معاہدہ) ہمارے لیے قابل قبول نہیں اور ہم واحد ملک ہیں جس کے پاسپورٹ پر اسرائیل کا نام ہی شامل نہیں (اسرائیل کے لیے کارآمد نہیں)۔‘
پاکستانی دفتر خارجہ بھی ماضی میں کئی بار واضح کر چکا ہے کہ اسلام آباد ابراہم معاہدےکا حصہ نہیں بنے گا اور وہ القدس شریف کو دارالحکومت بنانے والی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا۔
