پاکستانی دفتر خارجہ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ اور ایران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے کی گئی اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں کی پاسداری کریں۔
دفتر خارجہ کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ روز اور آج صبح امریکہ اور ایران نے آبنائے ہرمز سے ملحقہ علاقوں میں ایک دوسرے کے اہداف پر تازہ حملے کیے ہیں۔
اس سے قبل امریکی صدر نے بدھ کو انقرہ میں جاری نیٹو سمٹ کے دوران کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت ہونے والی جنگ بندی ’ختم‘ ہو چکی ہے۔
دفتر خارجہ نے خطے میں کشیدگی میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی نئے تنازعے میں کسی فریق کا مفاد نہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو علاقائی امن اور استحکام کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہوں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے میں امن کے مشترکہ ہدف کے حصول کے لیے مسلسل رابطے، مذاکرات اور سفارت کاری کا کوئی متبادل نہیں۔
پاکستان نے تمام متعلقہ فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) کے تحت اپنی اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں کی پاسداری کریں، جو خطے اور اس سے باہر باہمی مفاہمت، احترام اور مشترکہ خوشحالی کی ایک پائیدار بنیاد ہے۔
پاکستان نے اس حوالے سے اپنا کردار جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی اس مقصد کے لیے تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریش نے ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ بھڑکنے والی کشیدگی کے تناظر میں تمام فریقوں پر تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کی بحالی پر زور دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفان دوجارک نے بدھ کو صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گوتیریش نے تمام متعلقہ فریقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ’زیادہ سے زیادہ تحمل‘ کا مظاہرہ کریں، مزید کشیدگی کا باعث بننے والے اقدامات سے گریز کریں اور صورتحال کو پرسکون بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
