پاکستان دنیا میں گندم پیدا کرنے والا آٹھواں بڑا ملک ہے۔ حکومتی اعدادوشمار کے مطابق 2025-26 کے سیزن میں ملک میں تقریباً 2 کروڑ 96 لاکھ 10 ہزار ٹن گندم پیدا ہوئی، جو گزشتہ برس سے 13 لاکھ 60 ہزار ٹن زیادہ بتائی گئی۔
صرف دو ہفتے پہلے وفاقی حکومت کا دعویٰ بھی یہی تھا کہ ملک میں گندم کی کوئی قلت نہیں اور ذخائر وافر مقدار میں موجود ہیں۔
پھر اچانک ایسا کیا ہوا کہ حکومت نے 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کر لیا؟
24 جولائی کو وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے اعلان کیا کہ حکومت صوبوں کی ضروریات پوری کرنے اور مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرے گی۔ ان کے مطابق پاسکو کے ذخائر بھی صوبوں کو فراہم کیے جائیں گے تاکہ عوام کو مناسب قیمت پر گندم دستیاب رہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر گندم موجود تھی تو درآمد کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
انڈپینڈنٹ اردو نے اس تضاد پر وفاقی وزیر رانا تنویر حسین سے مؤقف جاننے کی کوشش کی، تاہم خبر کی اشاعت تک ان کا جواب موصول نہیں ہو سکا۔
دوسری جانب پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب کے چیئرمین ریاض اللہ خان انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتےہوئے کہتے ہیں کہ مارکیٹ میں کم از کم 10 لاکھ ٹن گندم کی کمی موجود ہے اور درآمد کی تجویز بھی فلور ملز نے ہی حکومت کو دی تھی۔
ان کے مطابق اگلی فصل آنے میں تقریباً آٹھ ماہ باقی ہیں جبکہ گندم کی قیمت ساڑھے چار ہزار روپے فی من سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال حکومت نے گندم مناسب مقدار میں نہیں خریدی، کسانوں کو مناسب قیمت نہیں ملی، اسی وجہ سے اس سال کاشت کم ہوئی اور اب اس کے اثرات سامنے آ رہے ہیں۔
لیکن سندھ حکومت اس بحران کی ایک مختلف وجہ بتاتی ہے۔
سندھ، جو پنجاب کے بعد پاکستان میں گندم پیدا کرنے والا دوسرا بڑا صوبہ ہے، اس وقت تقریباً 16 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی کمی کا سامنا کر رہا ہے۔ سندھ حکومت نے وفاق اور ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان سے پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مسئلہ صرف پیداوار کا نہیں بلکہ ذخیرہ اندوزی بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑے تاجروں نے گندم روک رکھی ہے، جس سے مصنوعی قلت پیدا ہوئی اور آٹے کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ اسی لیے سندھ حکومت ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہی ہے، گوداموں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، جرمانے کیے جا رہے ہیں اور ذخیرہ شدہ گندم برآمد کی جا رہی ہے۔
وہ سرکاری خریداری کو بھی بحران کی ایک وجہ قرار دیتی ہیں۔
ان کے مطابق وفاقی حکومت نے گندم کی امدادی قیمت ساڑھے تین ہزار روپے فی من مقرر کی، جبکہ اوپن مارکیٹ میں قیمت تقریباً چار ہزار روپے فی من تھی۔ بہتر قیمت ملنے پر کسانوں نے اپنی گندم حکومت کے بجائے نجی خریداروں کو فروخت کی، جس کے باعث سرکاری خریداری مطلوبہ ہدف حاصل نہ کر سکی۔
ادھر کسان اس مسئلے کا حل درآمد کو نہیں سمجھتے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اوکاڑہ کے کاشتکار سید تقی کہتے ہیں کہ ان کی گندم کی پیداوار اس سال تقریباً 15 فیصد کم رہی، لیکن اس کا حل بیرونِ ملک سے گندم خریدنا نہیں بلکہ مقامی کسان کو سہولت دینا ہے۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو کہا کہ کھاد، ڈیزل اور دیگر زرعی اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں، جبکہ کسان کو مناسب قیمت نہیں مل رہی۔ اگر حکومت کھاد پر سبسڈی دے، بہتر امدادی قیمت مقرر کرے اور زرعی لاگت کم کرے تو پاکستان اپنی مقامی ضرورت کی گندم خود پیدا کر سکتا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سال پیداوار میں کمی کی ایک وجہ بڑے پیمانے پر ذخیرہ اندوزی بھی ہے۔ فلور ملز، فیڈ ملز، بروکرز اور دیگر تاجروں نے بڑی مقدار میں گندم ذخیرہ کر لی، جبکہ پنجاب سے بھی بڑی مقدار میں گندم خیبرپختونخوا، کراچی اور دیگر علاقوں کو منتقل ہوئی، جس سے مقامی مارکیٹ میں دستیاب گندم کم ہو گئی۔
یوں حکومت، فلور ملز، سندھ حکومت اور کسان، چاروں اس بحران کی مختلف وجوہات بیان کر رہے ہیں۔ کوئی اسے کم پیداوار کا نتیجہ قرار دیتا ہے، کوئی سرکاری خریداری کی ناکامی کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے، جبکہ سندھ حکومت اور کسانوں کے مطابق ذخیرہ اندوزی اور مارکیٹ میں اجارہ داری نے بھی بحران کو سنگین بنایا۔
اب اصل سوال یہی ہے کہ اگر پاکستان دنیا کا آٹھواں بڑا گندم پیدا کرنے والا ملک ہے، پیداوار بھی حکومتی دعوے کے مطابق گزشتہ سال سے زیادہ ہوئی، تو پھر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور کیا یہ مسئلہ واقعی پیداوار کا ہے، یا پھر مارکیٹ میں رسد، ذخیرہ اندوزی اور حکومتی پالیسیوں کا؟
