سعودی عرب نے امریکہ اور ایران کے درمیان خطے میں تازہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
وزارت خارجہ کی جانب سے منگل کی شب جاری ہونے والے بیان میں سعودی عرب نے خطے میں کشیدگی کم کرنے، مزید تصادم سے گریز اور تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کی ثالثی و سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں تاکہ ایک سیاسی حل تک پہنچا جا سکے جو خطے کو مزید تناؤ، امن و استحکام کی خرابی سے بچائے، کیونکہ یہ نہ خطے اور نہ ہی دنیا کے مفاد میں ہے۔‘
سعودی عرب نے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری جہاز رانی کی آزادی کی بحالی کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے جہازوں کی بلا رکاوٹ، محفوظ اور پُرامن آمدورفت یقینی بنانے کا مطالبہ کا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان خطے میں اور خاص طور پر آبنائے ہرمز میں کشیدگی دیکھی جا رہی ہے جہاں امریکہ نے پیر کو اس نے ’امریکی بحریہ اور تجارتی جہازوں‘ کو نشانہ بنانے والے متعدد ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو مار گرانے اور ایران کی چھ چھوٹی کشتیوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ جھڑپیں اس وقت ہوئیں جب امریکی افواج آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہیں، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کا نام دیا ہے۔
صدر ٹرمپ کے ’پرواجیکٹ فریڈم‘ پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکہ کا ’پروجیکٹ فریڈم‘ دراصل ’پروجیکٹ ڈیڈلاک‘ کے مترادف ہے۔
ایکس پر جاری بیان میں ایرنی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ’آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے واقعات نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ سیاسی بحران کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں۔‘
دوسری جانب فجیرہ میں حکام کا کہنا ہے کہ فجیرہ آئل انڈسٹریز زون (FOIZ) میں ایک حملے میں تین انڈین شہری زخمی ہوئے۔ حکام نے کہا کہ وہ معمولی زخمی ہوئے اور انہیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ، متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے گذشتہ شب کہا تھا کہ ایران سے ملک کی طرف آنے والے چار کروز میزائل ڈیٹیکٹ کیے گئے۔ تین کو علاقائی سمندری حدود میں کامیابی سے روکا گیا، جبکہ چوتھا سمندر میں گر گیا۔
