بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کے ساتھ پیش آنے والے واقعے نے نہ صرف نوجوان طلبہ بلکہ ان کے والدین کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
آخر بیرون ملک اعلی تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند نوجوان ایسے فراڈ سے کیسے بچ سکتے ہیں؟
ہر سال ہزاروں پاکستانی طلبہ بہتر تعلیم، نئے مواقع اور روشن مستقبل کی تلاش میں دنیا کی مشہور یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے درخواستیں دیتے ہیں۔
لیکن بعض افراد اور غیر مصدقہ تعلیمی ایجنسیاں ان کے خوابوں کو فراڈ کا ذریعہ بنا لیتی ہیں۔ داخلے اور ویزے کی ضمانت جیسے دعووں کے ذریعے طلبہ اور ان کے خاندانوں سے بھاری رقم وصول کی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں انہیں مالی نقصان کے ساتھ ذہنی اذیت بھی برداشت کرنا پڑتی ہے۔
ایسے فراڈ کی پہچان کیسے کی جائے؟
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کوئی بھی نجی تعلیمی مشیر یا ایجنسی کسی یونیورسٹی میں داخلے یا کسی ملک کا ویزا ملنے کی ضمانت نہیں دے سکتی۔
یونیورسٹی میں داخلے کا فیصلہ متعلقہ یونیورسٹی خود کرتی ہے، جبکہ ویزا جاری کرنے کا اختیار متعلقہ ملک کے سفارتی اور سرکاری حکام کے پاس ہوتا ہے۔
اس لیے اگر کوئی شخص داخلے یا ویزے کی پکی ضمانت دے تو اس پر آنکھیں بند کرکے بھروسہ نہ کریں بلکہ اس کے دعوے کی مکمل تصدیق کریں۔
دوسرا اہم قدم درخواست اور دستاویزات کی تصدیق ہے۔
بیرون ملک تعلیم کے لیے درخواست دیتے وقت جہاں تک ممکن ہو، متعلقہ یونیورسٹی کی سرکاری ویب سائٹ اور درخواست جمع کرانے کا سرکاری آن لائن نظام استعمال کریں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اگر آپ کو داخلے، وظیفے یا سکالرشپ کی پیش کش سے متعلق کوئی خط یا ای میل ملے تو یونیورسٹی کے سرکاری رابطہ نمبروں یا ای میل کے ذریعے اس کی تصدیق ضرور کریں۔ صرف کسی ایجنٹ کی بھیجی ہوئی دستاویز کو اصلی نہ سمجھیں۔
تیسرا قدم مالی معاملات میں احتیاط ہے۔
یونیورسٹی اور ویزے کی فیس ہمیشہ متعلقہ ادارے کے تصدیق شدہ سرکاری طریقے سے جمع کرائیں۔
کسی شخص کے ذاتی بینک اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرنے یا نقد ادائیگی سے پہلے مکمل تحقیق کریں۔ اگر آپ کسی تعلیمی مشیر کی خدمات حاصل کرتے ہیں تو اس کی فیس، خدمات اور شرائط کے بارے میں تحریری معاہدہ کریں اور باقاعدہ رسید ضرور حاصل کریں۔
بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کا خواب ضرور دیکھیں، لیکن اسے پورا کرنے کے لیے تحقیق، تصدیق اور احتیاط کو کبھی نظر انداز نہ کریں۔
