کراچی میں 350 مشتبہ کال سینٹر جعل سازی میں ملوث: سائبر کرائم ایجنسی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں تقریباً ساڑھے تین سو مشتبہ کال سینٹر جعل سازی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

سائبر کرائم کے ایک عہدے دار نے جمعے کو بتایا کہ حکام کو ان کال سینٹرز کے خلاف کارروائی اور ملوث افراد کا سراغ لگانے میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ یہ لوگ زیادہ تر گھروں اور چلتی گاڑیوں سے اپنی غیر قانونی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔

ایک روز قبل پاکستان کے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے کراچی میں ایک کال سینٹر پر چھاپہ مار کر 273 افراد کو گرفتار کیا تھا۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

این سی سی آئی اے نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ مذکورہ کال سینٹر مبینہ طور پر جعلی مالیاتی سکیموں، کریڈٹ کارڈ کی پیشکشوں اور مالیاتی اداروں کے نمائندے بن کر غیر ملکی شہریوں کو دھوکہ دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر شہزاد اکبر کے مطابق ادارہ اس سے قبل بھی اسی کمپنی کے خلاف دو مرتبہ قانونی کارروائی کر چکا ہے۔

شہزاد اکبر نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’ہمارے سروے میں کراچی میں 300 سے 350 ایسے کال سینٹرز کی نشاندہی ہوئی ہے جو کام کر رہے ہیں۔

’ہم نے ابھی تک ان سب کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی لیکن ایک ایک کرکے ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔‘

شہزاد اکبر نے بتایا کہ ایسے فراڈ میں ملوث افراد کو کام کرنے کے لیے بڑے دفاتر یا مستقل جگہوں کی ضرورت نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے ان کا سراغ لگانا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا ’بنیادی طور پر انہیں صرف ایسی آئی ٹی سروس درکار ہوتی ہے جس کے ذریعے وہ کریڈٹ کارڈ کی معلومات حاصل کر سکیں۔

’یہ سرگرمیاں ایک چھوٹے گھر یا کسی چھوٹی رہائشی آبادی سے بھی انجام دی جا سکتی ہیں۔ چار یا پانچ افراد مل کر بھی ایسا نیٹ ورک چلا سکتے ہیں۔‘

شہزاد کے مطابق بعض گروہ جعل سازی کی سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے اپنی جگہ تبدیل کرنے کے لیے کئی گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں۔

این سی سی آئی اے نے چار نومبر کو کراچی میں جس کال سینٹر پر چھاپہ مارا، اس کا نام ’ووکسٹرون سلوشنز‘ (Voxtron Solutions) ہے۔

ادارے کے مطابق کارروائی کے دوران 339 لیپ ٹاپ، 152 موبائل فون اور چار کمپیوٹر قبضے میں لیے گئے۔

شہزاد اکبر نے بتایا کہ کمپنی کے خلاف پہلے بھی دو فوجداری مقدمات درج کیے گئے تھے، تاہم تفتیش کاروں نے صرف اس کے مالکان کو مقدمات میں نامزد کیا اور تکنیکی مہارت رکھنے والے ملازمین کو چھوڑ دیا، جس کے بعد انہوں نے دوبارہ اپنا کام شروع کر دیا۔

کال سینٹر کے مالکان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا ’مسئلہ یہ ہے کہ جب ملازمین کے خلاف مقدمات درج نہیں کیے جاتے تو وہ آزاد رہتے ہیں، حالانکہ ان سرگرمیوں کے لیے درکار مخصوص مہارت انہی کے پاس ہوتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ملازمین اور ان کے رشتہ دار مختلف کمپنیوں کے نام سے انہی جگہوں پر دوبارہ جعل سازی کا کام شروع کر سکتے ہیں جبکہ رجسٹرڈ کاروباری اداروں کے نام اور عملی طور پر استعمال ہونے والے ناموں میں فرق ہونے کے باعث تفتیش کاروں کے لیے ان کے درمیان تعلق قائم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ووکسٹرون سلوشنز کی سرگرمیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے بتایا کہ کال سینٹر کے ملازم کریڈٹ کارڈ کی معلومات حاصل کرکے امریکہ میں رجسٹرڈ کمپنیوں سے منسلک تاجروں کو فراہم کرتے تھے، جہاں ان معلومات کے ذریعے غیر مجاز مالی لین دین کیا جا سکتا تھا۔

ان کے مطابق تازہ ترین کیس میں ایک تاجر کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور تفتیش کار مبینہ نیٹ ورک کے پھیلاؤ کا تعین کرنے کے لیے مالی لین دین کا جائزہ لے رہے ہیں۔

این سی سی آئی اے کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق کال سینٹر کے ملازم مبینہ طور پر غیر ملکی بینکوں اور قرضوں کی تصدیق کرنے والی خدمات کے نمائندے بن کر بیرون ملک مقیم صارفین سے ان کی ذاتی اور مالی معلومات حاصل کرتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ چھاپے کی کارروائی کسی غیر ملکی حکومت یا بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے ادارے کی اطلاع پر نہیں بلکہ ایک مقامی ذریعے سے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر کی گئی تھی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گرفتاریوں کے بعد زیر حراست ملازمین کے اہل خانہ نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ بعض ملازمین، جن میں نوجوان بھی شامل ہیں، کمپنی کی غیر قانونی سرگرمیوں سے لاعلم تھے۔

شہزاد اکبر کے مطابق کمپنی کے بھرتی کے اشتہار میں امیدواروں کے لیے کم از کم عمر 18 سال مقرر کی گئی تھی، تاہم الزام ہے کہ اخراجات کم رکھنے کے لیے اس سے کم عمر افراد کو بھی ملازمت دی گئی۔

پانچ نومبر کو ہونے والی سماعت کے دوران جوڈیشل مجسٹریٹ ایسٹ گلریز میمن نے 98 خواتین اور دو کم عمر لڑکوں کو فی کس پانچ ہزار روپے (18 ڈالر) کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔

کم عمر ملزمان کی عمر کی تصدیق بھی لازمی قرار دی گئی۔ عدالت نے کمپنی کے مالکان سمیت نو مرکزی ملزمان کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے کر دیا جبکہ باقی ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

تفتیشی افسر نے سندھ محکمہ داخلہ کا ایک نوٹیفکیشن بھی عدالت میں پیش کیا جس کے تحت کال سینٹر کی عمارت کو عارضی طور پر سب جیل قرار دیا گیا تھا۔

اس کی وجہ سکیورٹی خدشات اور اتنی بڑی تعداد میں زیر حراست افراد کو منتقل کرنے میں پیش آنے والی مشکلات بتائی گئیں۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ این سی سی آئی اے ذمہ دار افراد کی نشاندہی اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے مالی لین دین اور ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ لینے کا عمل جاری رکھے گی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *