پاکستان سمیت آٹھ اسلامی اور عرب ممالک نے اتوار کو اسرائیلی حکومت کے وزرا کی جانب سے فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی سے بے دخل کرنے کے لیے سامنے آنے والے منصوبوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبے علاقے میں امریکہ کی حمایت یافتہ امن کوششوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بدھ کو کہا تھا کہ اسرائیل کے پاس فلسطینیوں کو غزہ سے نکالنے کے منصوبے موجود ہیں، تاہم وہ اس بات کے لیے امریکی منظوری کا انتظار کر رہا ہے کہ غزہ کی آبادی کو کہاں منتقل کیا جائے۔
ایک روز بعد اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد پہلے سال کے دوران غزہ سے ڈھائی لاکھ فلسطینیوں کو نکالنا اور اس کے بعد تقریباً 20 لاکھ آبادی کے باقی افراد کو اگلے چھ برس کے دوران منتقل کرنا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
سعودی عرب، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، پاکستان، انڈونیشیا اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں فلسطینیوں کو ’زبردستی ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کے لیے پیش کیے گئے منصوبوں اور طریقہ کار‘ کی ’سخت ترین الفاظ میں‘ مذمت کی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ ’جبری بے دخلی کے مطالبات کو باقاعدہ پالیسی یا عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ایسے اقدامات امن کے حصول کے لیے کی جانے والی بین الاقوامی کوششوں کو براہِ راست چیلنج کرتے ہیں، بالخصوص غزہ میں تنازع ختم کرنے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جامع منصوبے کو، جس میں جبری بے دخلی کو واضح طور پر مسترد کیا گیا ہے۔‘
وزرائے خارجہ نے غزہ کے لیے اکتوبر 2025 میں پیش کیے گئے امریکہ کی حمایت یافتہ امن منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بات کہی۔
ہفتے کو اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے، جو اسرائیل اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے مضبوط حامی ہیں، اس بات کی تردید کی تھی کہ فلسطینیوں کو غزہ سے زبردستی نکالنے کا کوئی اسرائیلی منصوبہ موجود ہے۔
