پکڑے گئے کنٹینرز کے کرائے نہ ملے تو بندرگاہیں بند کر دیں گے: گڈز ٹرانسپورٹرز

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز الائنس نے ہفتے کو خبردار کیا ہے کہ اگر اسلام آباد میں لانگ مارچ روکنے کے لیے پکڑے گئے ان کے کنٹینرز کی ادائیگیاں نہ ہوئیں تو وہ ملکی بندرگاہوں پر کام روک دیں گے جس سے برآمدات اور درآمدات سب کچھ بند ہو جائے گا۔

حکام نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جماعت اسلامی کے دارالحکومت کی جانب لانگ مارچ کے پیش نظر ستمبر کے وسط میں کنٹینرز پکڑ کر شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کے علاوہ ریڈ زون کے اطراف رکھ دیے تھے۔

پاکستان میں عموماً مظاہرین کو کسی مخصوص علاقے تک جانے سے روکنے کے لیے کنٹینرز کا استعمال عام ہے۔ ماضی میں بھی مظاہرین کو روکنے کے لیے یہی طریقہ اختیار کیا جاتا رہا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

جماعت اسلامی نے وزیراعظم کی جانب سے وطن واپسی پر پیٹرولیم لیوی کے مسئلے پر گفتگو کی یقین دہانی کے بعد اپنا لانگ مارچ ختم کر دیا تھا۔

اسی طرح پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کے لیے لانگ مارچ کی کال دے رکھی تھی جسے ایک دن قبل مؤخر کر دیا گیا۔

حکام نے لانگ مارچ کے پیش نظر بڑی تعداد میں کنٹینرز اسلام آباد کے اندر اور داخلی راستوں پر جمع کیے تھے تاکہ بوقت ضرورت ان کی مدد سے راستے بند کیے جا سکیں۔

پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ ایک ہفتہ مؤخر کرنے کے باوجود کم از کم 1000 کنٹینر شہر میں جا بجا دکھائی دے رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت کو ان کنٹینرز کے کرائے کی مد میں یومیہ چار کروڑ 65 لاکھ روپے ادا کرنے ہیں تاہم آل پاکستان گڈز الائنس کے چیئرمین نثار حسین جعفری کے مطابق انہیں کسی قسم کی تاحال کوئی ادائیگی نہیں ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں اس وقت تقریباً 1100 کنٹینرز، پنجاب میں 1300 کنٹینرز اور ملک بھر میں تقریباً اڑھائی ہزار کنٹینرز رکھے گئے ہیں۔

نثار حسین کے مطابق حکومت نے ابھی تک ان کنٹینرز کا یومیہ کرایہ طے نہیں کیا۔

’میڈیا پر 20 ہزار روپے یومیہ خرچہ کا کہہ چکے ہیں لیکن ہمیں تحریری طور پر آگاہ نہیں کیا گیا۔ یہ انہوں نے پیش گوئی کی ہے۔ یہ تمام باتیں میڈیا کی حد تک ہیں ان میں کوئی صداقت نہیں۔‘

حکومت کی جانب سے ان کنٹینرز کی ایڈوانس ادائیگی کے متعلق سوال پر نثار حسین نے نفی میں جواب دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے ٹرک ڈرائیوروں کو بے یارو مددگار چھوڑا ہوا ہے، وہ کھانا نہیں کھا پا رہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا ’ہمیں کم از کم ایک کنٹینر کا یومیہ کرایہ قیمت 20 ہزار روپے ادا کیا جانا چاہیے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کنٹینر چھوٹا ہے یا بڑا، اسے جو damages لگیں گے اس میں قیمت کی کوئی بات نہیں۔‘

نثار حسین کے مطابق نومبر 2024 کے دھرنے کے لیے پکڑے گئے کنٹینرز کے آج تک کرائے ادا نہیں کیے گئے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس مرتبہ بھی ماضی جیسا سلوک کیا گیا اور ادائیگیاں نہ ہوئیں تو وہ کنٹینرز کھڑے کر دیں گے، پورٹس بند کر دیں گے۔ برآمدات اور درآمدات سب بند کر دیں گے۔‘

ادھر اسلام آباد پولیس کے ترجمان تقی جواد نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے چار اکتوبر کو لانگ مارچ کرنے کے پیش نظر ’کنٹینر اور دوسرے علاقوں سے طلب کی گئی پولیس نفری اسلام آباد میں موجود رہے گی۔‘

کنٹینرز کے کرائیوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ دو دن بعد بتا سکے ہیں۔

تقی جواد نے کہا: ’بجٹ اور فائنانس سے متعلق معاملات وزارت داخلہ دیکھتی ہے تو اس حوالے سے معلوم کر کے ہی بتا سکوں گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ نومبر 2024 کے دھرنے میں کنٹینرز کا کرایہ 10 ہزار روپے یومیہ تھا اور اس مرتبہ تھی لگ بھگ اتنا ہی کرایہ ہو ہو گا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *