سپریم جوڈیشل کونسل: اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو سیاسی، سفارتی تقریبات میں شرکت کی اجازت

پاکستان کی سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) نے عدالتی ضابطہ اخلاق میں ترامیم کی ہیں تاکہ اعلیٰ عدالتوں کے جج متعلقہ چیف جسٹس کی اجازت سے سیاسی اور سفارتی تقریبات میں شرکت کر سکیں۔

یہ ترامیم 11 جون کو چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں ہونے والے سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں منظور کی گئیں اور ہفتے کو ایک پریس ریلیز کے ذریعے عام کی گئیں۔

ان ترامیم کے تحت ججوں کے سیاسی وسفارتی تقریبات میں شرکت پر عائد پرانی پابندی میں نرمی کی گئی ہے۔ یہ ترامیم ضابطہ اخلاق میں وسیع تر تبدیلیوں کا حصہ ہیں جو پاکستان کے عدالتی ڈھانچے میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد کی جا رہی ہیں، جن میں وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) کا قیام بھی شامل ہے۔

ترمیم شدہ ضابطے میں کہا گیا ہے کہ ’اعلیٰ عدالتوں کے جج متعلقہ چیف جسٹس کی اجازت کے بغیر کسی سیاسی یا سفارتی تقریب کی صدارت یا اس میں شرکت سے گریز کریں گے۔‘

ضابطے کے گذشتہ متن میں کہا گیا تھا کہ جج ’کسی سماجی، ثقافتی، سیاسی یا سفارتی تقریب کی صدارت یا اس میں شرکت سے گریز کریں گے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترمیم شدہ شق میں اب سماجی اور ثقافتی تقریبات کا ذکر نہیں ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی تقریبات میں ججوں کی شرکت پر عائد پابندیوں میں نسبتاً زیادہ نرمی کی گئی ہے۔ کونسل نے ضابطہ اخلاق کی مختلف شقوں میں بھی تبدیلی کی تاکہ وفاقی آئینی عدالت کو ان طریقہ کار میں شامل کیا جا سکے جو ججوں کے کنڈکٹ اور عدالتی کارروائی پر اثر انداز ہونے کی کوششوں کی اطلاع دینے سے متعلق ہیں۔

ضابطے کا عنوان بھی ’سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججوں کے لیے ضابطہ اخلاق‘ سے بدل کر ’وفاقی آئینی عدالت، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججوں کے لیے ضابطہ اخلاق‘ کر دیا گیا۔

وفاقی آئینی عدالت حالیہ برسوں میں کی گئی آئینی اصلاحات کے تحت قائم کی گئی تھی تاکہ وہ ایسے آئینی معاملات کی سماعت کرے جو پہلے سپریم کورٹ کیا کرتی تھی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *