متحدہ قومی مومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم ۔ پی) کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے اتوار کو نئے صوبوں کے معاملے پر گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی تجویز دے دی ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے کراچی میں پریس کانفرنس میں ملک بھر میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبادی میں مسلسل اضافے کے باوجود پاکستان میں نئے صوبے نہیں بنائے گئے۔
ان کے مطابق نئے صوبوں کے مطالبے میں سب سے مضبوط مطالبہ شہری سندھ کے صوبے کا ہے۔ اسی پریس کانفرنس میں انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کو گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ میں شرکت کی دعوت دی، جہاں نئے صوبوں کے قیام پر مشاورت اور بحث کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موجودہ صوبے تمام قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قائم نہیں کیے گئے بلکہ ان کی تشکیل لسانی بنیادوں پر ہوئی۔
انہوں نے کہا: ’ہم گزشتہ 40 برس سے کہتے آ رہے ہیں کہ پاکستان کے موجودہ صوبے قانون کے تمام تقاضوں کے مطابق نہیں بنائے گئے اور انہیں لسانی بنیادوں پر تشکیل دیا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی بھی نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے مختلف سیاسی جماعتوں اور گروہوں کی جانب سے ایم کیو ایم پاکستان کے ’طویل عرصے سے جاری‘ نئے صوبوں کے مطالبے کی حمایت کرنے پر اظہارِ تشکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس پریس کانفرنس کا مقصد عوام کو یہ پیغام دینا ہے کہ ’’آپ کے سیاسی مطالبات خواہ کچھ بھی ہوں، ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کا آغاز کریں۔‘
خالد مقبول صدیقی نے کہا، ’جہاں کہیں بھی نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کی آواز ہوگی، ہم اس آواز کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔‘
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ایم کیو ایم پاکستان صرف سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا مطالبہ نہیں کر رہی بلکہ پورے ملک میں نئے صوبوں کی بات کر رہی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں نئے صوبوں کے قیام کا مقدمہ سب سے زیادہ مضبوط ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین نے آئین کے آرٹیکل 140-اے کا بھی حوالہ دیا، جو 2010 میں 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین کا حصہ بنایا گیا تھا۔ اس آرٹیکل کے تحت صوبوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داریاں اور اختیارات منتخب بلدیاتی نمائندوں کو منتقل کرنا لازم ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
نئے صوبوں کے معاملے پر حالیہ سیاسی بحث کا آغاز گذشتہ ماہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان کے بعد ہوا، جب انہوں نے اسلام آباد میں پاکستان اکنامک سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ملک کو درپیش اہم قومی مسائل کے حل کے لیے مل بیٹھیں۔
محسن نقوی نے نئے صوبوں کے قیام کو بھی ان معاملات میں شامل کیا اور موجودہ نظام کو ’ناکارہ‘ قرار دیتے ہوئے سیاسی مذاکرات کو مسائل کے حل کا راستہ قرار دیا۔
محسن نقوی کے بیان کے ایک روز بعد پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھی حکمرانی کے نظام میں انتظامی تبدیلیوں پر غور کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
خالد مقبول صدیقی کے مطالبے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں مختلف اوقات میں تمام سیاسی جماعتیں سندھ اسمبلی میں قراردادیں منظور کر چکی ہیں کہ سندھ میں نئے صوبوں کی ضرورت نہیں۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ عمران خان کا وژن تھا کہ نئے صوبے بننے چاہییں، تاہم یہ کام وہی کر سکتا ہے جس کے پاس عوامی مینڈیٹ ہو۔‘
چند دن پہلے مسلم لیگ ن کے سینیٹر رانا ثنا اللہ نے بھی نئے صوبوں کے متعلق بیان دیا تھا کہ نئے صوبے صرف آئین اور قانون کے مطابق بننے چاہییں۔
چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان کے مطابق نئے صوبوں سے متعلق ان کی جماعت کا معاملہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے پاس جا چکا ہے اور کمیٹی نے اس پر غور شروع کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئین سے صوبوں کے قیام کی شق ختم کرنے کے بجائے اس پر عمل ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق 1973 کے آئین میں ذوالفقار علی بھٹو نے نئے صوبوں کے قیام کی گنجائش رکھی تھی۔
