امریکہ کی آزادی کی سب سے مشہور علامت سٹیچو آف لبرٹی کا خیال کہاں سے آیا؟ اور اسے نیو یارک پہنچانے کے لیے 350 ٹکڑوں میں کیوں تقسیم کرنا پڑا؟
1865 میں فرانسیسی دانشور ایڈورڈ ڈی بولے نے امریکہ کو دوستی اور آزادی کی علامت کے طور پر ایک مجسمہ تحفے میں دینے کی تجویز پیش کی۔
فرانسیسی مجسمہ ساز فریڈرک آگست نے اسے ڈیزائن کیا، جبکہ اس کے اندرونی ڈھانچے کی تیاری میں ایفل ٹاور کے انجینیئر گستاو ایفل کی کمپنی نے اہم کردار ادا کیا۔
مجسمہ فرانس میں تیار کیا گیا اور 1885 میں اسے 350 حصوں میں تقسیم کر کے 214 صندوقوں میں رکھ کر بحری جہاز کے ذریعے نیو یارک پہنچایا گیا۔
بالآخر 28 اکتوبر 1886 کو اس کی باقاعدہ نقاب کشائی ہوئی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مجسمے کے ہاتھ میں روشن مشعل امید کی علامت ہے، جبکہ پاؤں کے قریب ٹوٹی زنجیریں غلامی سے آزادی کو ظاہر کرتی ہیں۔
وقت کے ساتھ یہ مجسمہ امریکہ آنے والے لاکھوں تارکین وطن کے لیے نئی زندگی اور بہتر مستقبل کی امید بن گیا۔
28 اکتوبر 2026 کو اس تاریخی یادگار کی نقاب کشائی کے 140 سال مکمل ہو رہے ہیں۔
