امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کو کہا ہے کہ امریکہ اور ایران نے جنگ بندی میں توسیع کے معاہدے کی جانب اچھی پیش رفت کی ہے لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ ابھی اس کی منظوری دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق امریکی ذرائع کی جانب سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدہ طے پانے کی خبر کے چند گھنٹے بعد وینس نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم زبان کے چند نکات پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ ہم نے اس میں کافی پیش رفت کی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’امید ہے کہ ہم پیش رفت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور صدر اس پوزیشن میں ہوں گے جہاں وہ معاہدے کی توثیق کر سکیں، لیکن ظاہر ہے کہ ابھی اس کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔‘
روئٹرز کے مطابق امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ واشنگٹن، ایران کے معاملے پر ’ابھی اس مقام تک نہیں پہنچا‘ لیکن فریقین ایک دوسرے کے قریب ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ایسی پوزیشن میں ہے جہاں وہ تہران کے ایٹمی پروگرام کو نمایاں حد تک پیچھے دھکیل سکتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسری جانب پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار رواں ہفتے دورہ امریکہ کے دوران واشنگٹن میں جمعے کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کریں گے جس میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال اور اسلام آباد کی امن کوششوں پر بات کی جائے گی۔
فروری میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل جنگ کے آغاز کے بعد سے پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے اور اپریل میں اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان غیر معمولی براہ راست مذاکرات کی میزبانی بھی کر چکا ہے۔
اسلام آباد نے بارہا اس تنازعے میں مذاکرات اور کشیدگی میں کمی پر زور دیا ہے، جس نے عالمی کارگو اور توانائی کی ترسیل کو متاثر کیا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے جمعرات کو جاری بیان میں بتایا کہ اسحاق ڈار نیویارک میں اپنی ملاقاتیں مکمل کرنے کے بعد جمعے کو واشنگٹن ڈی سی روانہ ہوں گے، جہاں وہ مارکو روبیو سے ملاقات کر کے علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بات کریں گے۔
