لاکھوں عازمین حج منیٰ سے میدان عرفات پہنچنے لگے

دنیا بھر سے سعودی عرب آئے لاکھوں عازمین حج منیٰ میں رات قیام کے بعد منگل کو میدان عرفات میں حج کے سب سے مقدس اور مرکزی رکن وقوفِ عرفہ کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔

اس موقع پر عبادت، دعا اور روحانی کیفیت کے مناظر دیکھنے میں آئے۔

نو ذوالحجہ کی صبح سویرے ہی حجاج منیٰ سے عرفات پہنچنا شروع ہو گئے تھے، جہاں وہ دن بھر عبادت، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور دعاؤں میں وقت گزاریں گے۔

عازمین حج غروبِ آفتاب تک میدانِ عرفات کی حدود میں قیام کرتے ہیں۔

اسلامی تعلیمات میں وقوفِ عرفہ کو حج کا سب سے اہم رکن قرار دیا جاتا ہے۔

دوپہر کے وقت مسجد نمرہ میں خطبۂ عرفہ دیا جائے گا، جس میں حجاج کو اس دن کی فضیلت اور اسلامی تعلیمات کے حوالے سے نصیحت کی جائے گی۔ اس کے بعد حجاج پیغمبر اسلام حضرت محمد کی سنت کے مطابق ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کریں گے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عرفات مکہ مکرمہ سے تقریباً 20 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ایک وسیع میدان ہے، جہاں جبل الرحمہ بھی موجود ہے۔ بہت سے حجاج اسی مقام پر خصوصی دعا اور عبادت کرتے ہیں۔ اسلامی روایت کے مطابق یہ جگہ حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ کے ملاپ سے بھی منسوب ہے۔

عرفات روانگی سے قبل حجاج نے پیر کا دن منیٰ میں گزارا، جسے یوم الترویہ کہا جاتا ہے، جہاں انہوں نے حج کے اہم ترین مرحلے کے لیے روحانی اور جسمانی تیاری کی۔

عرب نیوز کے مطابق سعودی حکام نے حجاج کی نقل و حرکت اور حفاظت کے لیے غیر معمولی انتظامات کیے، جن میں ہجوم کو منظم رکھنے کے نظام، طبی سہولیات، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور ہنگامی امدادی ٹیمیں شامل تھیں۔

شدید گرمی کے باعث محکمہ صحت بھی الرٹ رہا۔ درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے پر حجاج کو پانی زیادہ پینے اور دھوپ میں زیادہ دیر نہ رہنے کی ہدایت کی گئی۔

غروبِ آفتاب کے بعد حجاج مزدلفہ روانہ ہوں گے، جہاں وہ مغرب اور عشا کی نمازیں ایک ساتھ ادا کریں گے، جبکہ اگلے مرحلے میں منیٰ میں رمی جمرات ادا کی جائے گی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *