صحافی بلال غوری کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کرنے کا حکم

اسلام آباد کی ضلعی عدالت نے ہفتے کو صحافی بلال غوری کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔

بلال غوری کو پانچ ستمبر کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے نیشنل کوآرڈینیٹر کی تقرری سے متعلق مبینہ طور پر ’جھوٹی اور گمراہ کن‘ معلومات پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ ان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

بعدازاں مقامی عدالت نے ان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ دیا تھا، جس میں مزید دو روز کی توسیع کی گئی۔

ہفتے کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر  بلال غوری کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں پیش کیا گیا، جہاں جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان نے کیس کی سماعت کی۔

بلال غوری کی جانب سے وکیل عمران شفیق اور رضا ودود قریشی عدالت میں پیش ہوئے۔ 

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سماعت کا آغاز ہوا تو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ملزم کے مزید پانچ روز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

این سی سی آئی اے کے تفتیشی افسر نے موقف اپنایا کہ ملزم سے برآمد ہونے والی ڈیوائسز کا فرانزک کروانا ہے، جس پر صحافی کے وکیل عمران شفیق نے کہا کہ ’تمام ڈیوائسز تو ان کے پاس ہیں، فرانزک کے لیے ملزم کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ این سی سی آئی اے سے پوچھا جائے کہ دو روز میں ریمانڈ میں کیا کیا ہے؟‘

جوڈیشل مجسٹریٹ نے کہا کہ این سی سی آئی اے ریمانڈ کے لیے کوئی ٹھوس وجہ نہیں بتا سکی، اس سے قبل دو دن کے ریمانڈ میں بھی کوئی پیشرفت نہیں ہوئی تھی۔

بعد ازاں عدالت نے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ ساتھ ہی عدالت نے فوری سماعت کی استدعا مسترد کرتے ہوئے استغاثہ کو نوٹس جاری کر دیا اور بلال غوری کی درخواست ضمانت پر مزید سماعت 14 ستمبر کے لیے مقرر کر دی۔

بلال غوری کو کیوں گرفتار کیا گیا؟

صحافی، کالم نگار اور یوٹیوبر بلال غوری کو پانچ ستمبر کو نیکٹا کے سربراہ فیصل نصیر کی تقرری سے متعلق مبینہ طور پر ’جھوٹی اور گمراہ کن‘ معلومات پھیلانے کے الزام میں مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا گیا تھا۔

گذشتہ سماعت میں جب بلال غوری کو عدالت پیش کیا گیا تو عدالت نے ان سے استفسار کیا کہ ’کیا اس طرح کے الفاظ آپ کو مناسب لگتے ہیں؟‘

 جس پر صحافی نے کہا کہ ’وہ فیصل نصیر کے خلاف نہیں نیکٹا کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔‘

میجر جنرل فیصل نصیر نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر ہونے کے بعد سال 2008 میں قائم کیے جانے والے ادارے کے پہلے فوجی سربراہ بن گئے ہیں۔ اس سے قبل وہ انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے انٹرنل ونگ جسے ’ڈی جی سی‘ کہا جاتا ہے، کے سربراہ تھے۔

این سی سی آئی اے کی جانب سے بلال غوری کے خلاف پیکا ترمیمی ایکٹ کی دفعات 20 اور 26 اے کے تحت چھ ستمبر کو ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق: بلال غوری نے پانچ ستمبر کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور یوٹیوب چینل پر نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر کی تعیناتی کے بارے میں ’غلط بیانیہ‘ بنا کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔‘

مزید کہا گیا کہ ’تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ ملزم نے حقائق کے برعکس اور بغیر تصدیق کے غلط معلومات کی تشہیر کی، جس سے عوام میں بے چینی پیدا کرنے اور ریاستی اداروں پر ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی گئی۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *