امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے معاملے میں اب مزید زیادہ صبر نہیں کریں گے اور انہوں نے تہران پر زور دیا کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کر لے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹرمپ نے جمعرات کی رات فوکس نیوز کے پروگرام ’ہینٹی‘ میں نشر ہونے والے انٹرویو میں کہا کہ ’میں اب مزید زیادہ صبر نہیں کرنے والا۔ انہیں معاہدہ کر لینا چاہیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم جن ایرانی رہنماؤں سے معاملات کر رہے ہیں وہ معقول ہیں۔ ایران کی افزودہ یورینیم کو دفن کیا جا سکتا ہے لیکن میں اسے حاصل کرنا زیادہ پسند کروں گا۔
’ایران کی افزودہ یورینیم حاصل کرنا کسی بھی دوسری چیز سے زیادہ عوامی تعلقات کے لیے ہے۔ شی شاید ایران پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چین امریکہ سے تیل خریدنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی بحری جہازوں کو ٹیکساس، لوزیانا، الاسکا بھیجنا شروع کرنے والے ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوکس نیوز کو انٹرویو میں مزید کہا کہ صدر شی جن پنگ نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے چین کی مدد کی پیشکش کی ہے اور امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ میں ایران کی مدد کے لیے فوجی سازوسامان نہ بھیجنے کا عہد کیا ہے۔
‘انہوں (چینی صدر) نے کہا کہ وہ فوجی سازوسامان نہیں دینے والے۔ انہوں نے یہ بات سختی سے کہی۔
’وہ آبنائے ہرمز کو کھلا دیکھنا چاہیں گے، اور کہا کہ ’اگر میں کسی بھی طرح کی کوئی مدد کر سکتا ہوں، تو میں مدد کرنا چاہوں گا۔‘
اس سے قبل جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے ساتھ بات چیت کو ’انتہائی مثبت‘ قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے ان خیالات کا اظہار دورۂ چین کے دوران بیجنگ میں چینی صدر کی جانب سے ضیافت سے خطاب میں کیا۔
اس ضیافت میں دونوں ممالک کے سرکردہ رہنما، اور ایلون مسک اور ٹِم کُک جیسی امریکی کاروباری شخصیات بھی شریک تھیں۔
امریکی صدر دو روزہ سربراہ ملاقات کے لیے بدھ کی رات گئے ایئر فورس ون پر چین پہنچے۔ ان کے ہمراہ اعلیٰ شخصیات بھی تھیں جن میں این ویڈیا کے جینسن ہوانگ اور ٹیسلا کے ایلون مسک شامل ہیں جو ان تجارتی معاہدوں کی علامت ہیں جنہیں طے کرنے کی ٹرمپ امید رکھتے ہیں۔
ان کا ریڈ کارپٹ استقبال کیا گیا، سفید لباس میں ملبوس 300 چینی نوجوانوں نے ایک ساتھ ’خوش آمدید‘ کہا اور چھوٹے چینی اور امریکی پرچم لہرائے جبکہ صدر ہوا میں مکہ لہراتے ہوئے صدارتی طیارے کی سیڑھیوں سے نیچے اترے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دو روزہ دورے کے بعد امریکی صدر واپس واشنگٹن روانہ ہو جائیں گے۔ ٹرمپ کا یہ دورہ چین تقریباً ایک دہائی میں کسی امریکی صدر کا پہلا دورہ ہے۔
اس سے قبل ٹرمپ نے 2017 میں دورہ کیا تھا اور اس بار کے برعکس تب ان کی اہلیہ میلانیا بھی ان کے ہمراہ تھیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واشنگٹن روانہ ہونے سے قبل جمعے کو چینی رہنما شی جن پنگ کی سرکاری رہائش گاہ پر ایک نجی ملاقات کے ساتھ اپنا دورہ بیجنگ مکمل کریں گے۔
جمعرات کو ملاقاتوں اور تقریبات کے ایک سلسلے کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایران جنگ، تجارت، ٹیکنالوجی اور تائیوان جیسے اختلافی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
