جب سے 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکی۔اسرائیلی جنگ شروع ہوئی، ہمارے خطے اور مغربی میڈیا میں مختلف اور متضاد آوازیں بلند ہونے لگیں، جو اس تنازعے پر سعودی عرب کے مؤقف پر سوال اٹھا رہی تھیں حالانکہ مملکت نے ابتدا میں اس جنگ کو روکنے اور بعد ازاں اسے سفارتی ذرائع سے ختم کرنے کی انتھک جدوجہد کی۔
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے یہ سب بغیر شور شرابے، نمائشی بیانات یا بلند بانگ دعووں کے کیا۔ ان کی کوشش صرف یہ تھی کہ خطے کو اس خونریز تنازعے سے باہر نکالا جائے۔
یہی طرزِعمل مرحوم شاہ عبدالعزیز کی جانب سے سعودی ریاست کی بنیاد رکھنے کے دور سے مملکت کی موجودہ قیادت تک کی پہچان رہا ہے۔ قیادت ہمیشہ اس اصول پر کاربند رہی کہ عمل، الفاظ سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔
جب سوشل میڈیا کی مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں اور شور مچا رہی تھیں تب مملکت متوازن، صابر اور متحرک رہی۔ جب جذباتی حمایتی اپنے ڈھول پیٹ رہے تھے تب مملکت نے معاملات کو احتیاط سے سنبھالا اور اپنے اختیارات کو سوچ سمجھ کر پرکھا، ان سب کے شواہد ہمارے سامنے موجود ہیں۔
جب ایران اور دیگر عناصر نے مملکت کو تباہی کی بھٹی میں دھکیلنے کی کوشش کی، تو ہماری قیادت نے اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہمسایہ ملک کی جانب سے پہنچنے والی تکالیف کو برداشت کرنا بہتر سمجھا۔ اگر مملکت چاہتی، اور اس کی پوری صلاحیت بھی رکھتی تھی، کہ ایران کی تنصیبات اور مفادات کو تباہ کرکے ویسا ہی جواب دے تو اس کا نتیجہ سعودی تیل کی تنصیبات، خلیجِ عرب کے ساحلی علاقوں میں موجود پانی صاف کرنے والے کارخانوں، بلکہ مملکت کے اندرونی علاقوں تک کی تباہی کی صورت میں نکل سکتا تھا۔
اگر اسرائیل کا یہ منصوبہ کامیاب ہوجاتا کہ ہمارے اور ایران کے درمیان جنگ بھڑکا دی جائے، تو پورا خطہ بربادی اور تباہی میں ڈوب جاتا۔ ہمارے ہزاروں بیٹے اور بیٹیاں ایسی جنگ میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے جس میں ہمارا کوئی مفاد نہیں تھا۔ اسرائیل خطے پر اپنی مرضی مسلط کرنے میں کامیاب ہو جاتا اور ہمارے گرد و نواح میں واحد طاقت بن کر رہ جاتا۔
ولی عہد محمد بن سلمان کی دانش مندی اور دوراندیشی کے باعث مملکت جنگ کی ہولناکیوں اور اس کے تباہ کن نتائج سے محفوظ رہی۔ بلکہ اب سعودی عرب پاکستان کے ساتھ مل کر لڑائی کی آگ بجھا رہا ہے جس سے کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے میں مدد مل رہی ہے اور امن کے حامیوں کو یہ اقدامات امید دے رہے ہیں کہ وہ اپنے پیاروں کی زندگیوں اور اپنے مفادات کے تحفظ کے بارے میں اطمینان محسوس کرسکیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جہاں تک جنگ کے حامیوں کا تعلق ہے وہ اب بھی اپنی گھمنڈ بھری آوازوں اور شور میں مصروف ہیں، شاید اس حقیقت سے بے خبر کہ ان کے قدموں تلے سے زمین کھینچی جا چکی ہے۔
ولی عہد نے ایران کو برادر خلیجی ممالک میں اختلاف پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے تمام خلیجی رہنماؤں کی حمایت اور ان سے اظہار یکجہتی کیا اور مملکت کے تجارتی اور مالیاتی راستوں، سڑکوں، ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کو ان ممالک اور ان کے عوام کی خدمت کے لیے وقف کردیا۔
انہوں نے سب پر واضح کیا کہ ان کی سلامتی ہی مملکت کی سلامتی ہے اور مملکت ان کے امن و استحکام کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے ہر قدم کی حمایت کرے گی۔
مملکت ہمیشہ اپنے بھائیوں کے ساتھ کیے گئے عہد کی پاسداری کرتی رہے گی۔
اسی طرح معاملات چلائے جاتے ہیں اور اسی طرح دوراندیشی کام کرتی ہے۔ اللہ کے فضل سے ہمارا قافلہ آگے بڑھتا رہے گا۔ دشمن چاہے جتنا شور مچائیں اور ہمارے مخالفین غصے میں اپنی انگلیاں ہی کیوں نہ چبا لیں۔
جیسا کہ مرحوم شہزادہ بدر بن عبدالمحسن نے کہا تھا کہ ’اگر حسد کرنے والے تمہارا ذکر کریں، تو ہم نے کبھی ان کے حسد کے شور کی پروا نہیں کی۔‘
ترکی الفیصل سعودی عرب کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سابق سربراہ اور سابق سفیر رہ چکے ہیں۔ وہ کنگ فیصل فاونڈیشن کے بانی اور ٹرسٹی اور وہ تحقیق اور اسلامک سٹڈیز کے کنگ فیصل سینٹر کے چیئرمین بھی ہیں۔
یہ مضمون الشرق الوسط اور عرب نیوز میں شائع ہو چکا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے اور ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

