ایک پراسرار شخص، جو انٹرنیشنل اجلاسوں اور ملاقاتوں میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ سائے کی طرح ساتھ نظر آتا رہا ہے، آخرکار اس وقت اپنی شناخت ظاہر کروا بیٹھا جب وہ وائٹ ہاؤس میں منعقدہ ایک سرکاری عشائیے میں شریک ہوا۔
یہ شخص، جو زیادہ تر ماؤ سوٹ پہنے نظر آتا ہے، چینی صدر کے ساتھ 2022 میں بالی میں ہونے والی جی 20 سربراہ کانفرنس، 2023 میں سان فرانسسکو میں ہونے والے ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون کے اجلاس اور حال ہی میں نئی دہلی میں ہونے والی برکس سربراہ کانفرنس جیسے کئی بڑے انٹرنیشنل ایونٹس میں شریک رہا ہے، تاہم اس کی شناخت طویل عرصے سے قیاس آرائیوں کا موضوع بنی ہوئی تھی۔
اب وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کی گئی مہمانوں کی فہرست میں اس کی شناخت ژو ہونگ شو کے نام سے کی گئی ہے۔
55 سالہ ژو ہونگ شو کو پیپلز لبریشن آرمی کے میجر جنرل کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جو سینٹرل گارڈ بیورو کے ڈائریکٹر کے ساتھ ساتھ کمیونسٹ پارٹی کے جنرل آفس کے نائب ڈائریکٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
امریکی سیکرٹ سروس کی طرح سینٹرل گارڈ بیورو بھی چین کے سکیورٹی نظام کے انتہائی خفیہ حصوں میں سے ایک ہے اور صدر اور دیگر اعلیٰ رہنماؤں کی سکیورٹی کا ذمہ دار ہے۔
سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کی جانب سے نشر کی جانے والی ویڈیو میں ژو ہونگ شو کو سرکاری عشائیے میں موجود مہمانوں کے درمیان دیکھا گیا۔ وہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے پیچھے کھڑے نظر آئے۔
چین کے انتہائی خفیہ سکیورٹی عہدیداروں میں سے ان کا زیادہ واضح طور پر عوامی منظرنامے میں آنا ایک غیر معمولی منظر ہے۔
چین نے کبھی بھی عوامی طور پر ژو ہونگ شو کے عہدے کی تصدیق نہیں کی، جبکہ ان کی سرکاری سوانح حیات بھی اس حوالے سے زیادہ وضاحت فراہم نہیں کرتی۔
سوانح حیات کے مطابق وہ 1971 میں جنوب مغربی شہر چونگ چھنگ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پیپلز لبریشن آرمی کی آرٹیلری اکیڈمی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور اس سے قبل 14ویں آرمی گروپ میں آرٹیلری کی ایک رجمنٹ کی کمان بھی کی۔
وہ سابقہ چینگ دو ملٹری ریجن کے ہیڈکوارٹرز میں ملٹری ٹریننگ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ اور شمالی تھیٹر کمانڈ کی زمینی فوج کے نائب چیف آف سٹاف کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ژو ہونگ شو نے 2021 میں سینٹرل گارڈ بیورو میں اپنی ذمہ داری سنبھالی اور 2022 میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی 20ویں قومی کانگریس کے مندوب منتخب ہوئے، جو ایک اہم سیاسی اجلاس تھا، جس نے شی جن پنگ کے اختیار کو مزید مستحکم کیا اور انہیں غیر معمولی طور پر تیسری مدت کے لیے صدر منتخب کرنے کی راہ ہموار کی۔
اس وقت ماہرین نے کہا تھا کہ ژو ہونگ شو اس بیورو کے پہلے سربراہ تھے، جنہیں روایتی سکیورٹی نظام سے باہر سے مقرر کیا گیا تھا۔
انتہائی اہم نوعیت کے اجلاسوں میں ان کی نمایاں لیکن خاموش موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ پارٹی کے عہدیداروں کی ایک نوجوان نسل چین کے بعض انتہائی اہم سفارتی واقعات میں مرکزی کردار ادا کرنے کے لیے سامنے آ رہی ہے۔
ایک حالیہ اہم سفارتی سرگرمی میں ژو ہونگ شو کو نئی دہلی میں اعلیٰ چینی حکام کے ہمراہ ایک اجلاس میں شرکت کرتے دیکھا گیا، جب شی جن پنگ 12 ستمبر کو برکس سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لیے وہاں پہنچے۔
سی سی ٹی وی کی فوٹیج میں انہیں چین کے دو نائب وزرائے خارجہ کے درمیان بیٹھے دیکھا گیا، تاہم سرکاری میڈیا نے ان کی شناخت ظاہر نہیں کی۔
2019 میں بھی ژو ہونگ شو کو کھٹمنڈو میں شی جن پنگ کے پیچھے بیٹھے دیکھا گیا تھا، جب چینی صدر نے اس وقت کی نیپالی صدر بدھیا دیوی بھنڈاری سے ملاقات کی تھی۔
