پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم سرحد سے وابستہ تاجروں اور کاروباری نمائندوں نے منگل کو حکومت سے سرحد فوری کھولنے اور تجارتی سرگرمیاں بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے پر اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے احتجاج کیا جائے گا۔
آل طورخم کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن پاکستان۔افغان بارڈر کے نمائندوں کے مطابق طورخم سرحد کی بندش سے سرحدی تجارت اور مقامی معیشت شدید متاثر ہو رہی ہے۔
اکتوبر 2025 سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کے لیے اہم گزرگاہ طورخم سرحد ’سکیورٹی صورتحال میں بڑھتی ہوئی کشیدگی‘ کے باعث بند ہے۔
پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سرحدی جھڑپوں میں دونوں جانب درجنوں اموات کے بعد سرحدی نگرانی سخت کر رکھی ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے دوطرفہ اور ٹرانزٹ تجارت معطل ہے۔
پاکستان کا الزام ہے کہ افغانستان ان عسکریت پسند گروہوں کو پناہ دے رہا ہے جو پاکستانی شہریوں اور سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث ہیں، تاہم کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
آل طورخم کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن پاکستان۔افغان بارڈر کے صدر مجیب شنواری نے کہا کہ آئندہ ہفتے ایسوسی ایشن کی مختلف سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوں گی، جن میں وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام، عوامی نیشنل پارٹی کے صدر ایمل ولی خان اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر شامل ہیں۔
انہوں نے کہا اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک کے دیگر سرحدی راستوں، جن میں چمن، انگور اڈہ، پاراچنار، خرلاچی اور غلام خان بارڈرز شامل ہیں، سے وابستہ تاجروں کے تعاون سے اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے احتجاج کیا جائے گا۔ تاہم احتجاج کی تاریخ کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا۔
تاجروں کے مطالبات
اس سے قبل اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے طورخم کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ طورخم سرحد کو فوری طور پر ہر قسم کی تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھولا جائے، سرحدی تجارت بلا تعطل بحال کی جائے اور امپورٹرز و ایکسپورٹرز کے زیر التوا ٹیکس ریفنڈز فوری جاری کیے جائیں۔
ایسوسی ایشن نے متاثرہ املاک کا سروے کروا کر تاجروں اور کاروباری افراد کو مناسب معاوضہ دینے اور متاثرہ کاروباری طبقے کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
پریس کانفرنس میں طورخم بارڈر سے وابستہ امپورٹرز، ایکسپورٹرز، کلیئرنگ ایجنٹس، ٹرانسپورٹرز، تاجروں اور مقامی نمائندوں نے شرکت کی۔
مقررین نے کہا تقریباً 10 سے 11 ماہ سے طورخم بارڈر کی بندش نے سرحدی علاقوں کی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبر اور طورخم کے عوام کی معیشت کا زیادہ تر انحصار سرحدی تجارت پر ہے، جہاں نہ کوئی بڑی صنعت موجود ہے اور نہ ایسا زرعی نظام جو روزگار کے بڑے مواقع فراہم کر سکے۔ بارڈر کی طویل بندش کے باعث ہزاروں تاجر، ٹرانسپورٹرز، مزدور اور کلیئرنگ ایجنٹس مالی مشکلات کا شکار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی منڈیوں میں پاکستانی تاجروں کے اربوں روپے پھنسے ہوئے ہیں اور تجارت بحال ہونے تک نہ یہ رقوم واپس آ سکتی ہیں اور نہ ہی کاروبار اپنی سابقہ حالت میں آ سکتا ہے۔
تاجروں کے نمائندوں نے کہا کہ حالیہ سرحدی کشیدگی کے دوران زیرو پوائنٹ پر قائم درآمدی و برآمدی دفاتر اور دیگر تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا، تاہم اب تک ان نقصانات کا ازالہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ املاک کا فوری سروے کرایا جائے اور تاجروں و کاروباری افراد کو مناسب معاوضہ دیا جائے۔
ایف بی آر اور وزارت تجارت سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ امپورٹرز اور ایکسپورٹرز کے زیر التوا ٹیکس ریفنڈز فوری جاری کیے جائیں تاکہ کاروباری طبقہ موجودہ مالی بحران سے نکل سکے۔
انہوں نے کہا کہ طورخم پر نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی) اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے جدید ٹرمینل قائم کیا گیا، تاہم بارڈر بند ہونے کے باعث وہاں تجارتی سرگرمیاں تقریباً معطل ہیں اور اس وقت صرف افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل جاری ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایسوسی ایشن نے الزام عائد کیا کہ مختلف مدات میں اضافی فیسیں اور چارجز بھی وصول کیے جا رہے ہیں، جس سے تاجروں کے مسائل میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
مقررین نے کہا کہ سرحدی تجارت کی بندش سے صرف خیبر پختونخوا نہیں بلکہ پنجاب، سندھ اور ملک بھر کی صنعتیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔
ان کے مطابق چاول، سیمنٹ، ادویات، زرعی مصنوعات، پھل، سبزیاں اور دیگر اشیا کی برآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں، جبکہ حکومت کو کسٹمز ڈیوٹی، ٹیکسز اور دیگر محصولات کی مد میں اربوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔
انہوں نے وفاقی و صوبائی حکومت، وزارت تجارت، ایف بی آر، متعلقہ سیکیورٹی اداروں اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ سرحدی تجارت کی فوری بحالی، نقصانات کے ازالے، ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی اور خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جائے تاکہ سرحدی علاقوں کی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع اللہ جان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا ان کی حکومت سرحد کی بندش کے حق میں نہیں۔
انہوں نے سرحد کی بندش کو وفاقی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا ’ہم اس حوالے سے خطوط بھی لکھ چکے ہیں۔ ہمارے لوگوں کے کاروبار اس سے منسلک ہیں۔
’یہاں صنعتیں تباہ ہو رہی ہیں، ہم بارہا کہہ چکے ہیں سرحد کھولیں اور کاروبار ہونے دیں۔
’جو غیر قانونی طریقے سے آ رہا ہے، اسے روکیں جس کا طریقہ کار ہونا چاہیے، لیکن آپ تجارت کو کیسے روک سکتے ہیں؟‘
وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون خصوصی شاہد رند نے کہا سرحد کی بندش یا اسے کھولنا ایک وفاقی معاملہ ہے۔
وفاقی حکومت کے ترجمان عطا تارڑ نے تاحال اس حوالے سے کوئی ردعمل نہیں دیا۔
