رنویر سنگھ کو بالی وڈ میں ’بائیکاٹ‘ کا سامنا کیوں؟

ہندی سینیما کے نمایاں ترین ستاروں میں شمار ہونے والے رنویر سنگھ کو طویل عرصے سے تاخیر کا شکار فلم ’ڈان 3‘ چھوڑنے پر پوری انڈسٹری کی جانب سے بائیکاٹ کا سامنا ہے۔

ممبئی میں قائم ٹریڈ یونین تنظیم فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سِنی ایمپلائیز (ایف ڈبلیو آئی سی ای)، جو 32 شعبہ جاتی انجمنوں اور انڈیا کی فلم و ٹیلی وژن انڈسٹری کے پانچ لاکھ سے زائد کارکنوں کی نمائندگی کرتی ہے، نے پیر کو اعلان کیا کہ اس کے اراکین رنویر سنگھ کے کسی بھی منصوبے پر اس وقت تک کام نہیں کریں گے جب تک وہ اس تنازعے پر ذاتی طور پر تنظیم سے ملاقات نہیں کرتے۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق ایف ڈبلیو آئی سی ای کے صدر بی این تیواری نے پیر کو ممبئی میں پریس کانفرنس کے دوران کہا: ’ہم نے انڈسٹری کو یہ پیغام دینے کا فیصلہ کیا ہے کہ کوئی بھی سپر سٹار قانون سے بڑا نہیں ہوتا۔‘

ایف ڈبلیو آئی سی ای کے جنرل سیکریٹری اشوک دوبے نے مزید کہا: ’انڈیا بھر میں ہمارے کسی بھی موجودہ کارکن، بشمول ٹیکنیشنز، سپاٹ بوائز وغیرہ، رنویر سنگھ کے ساتھ کام نہیں کریں گے۔‘

یہ تنازع رنویر سنگھ کے اچانک ’ڈان 3‘ سے الگ ہونے کے گرد گھومتا ہے، جو ہندی سینیما کی مقبول ترین فرنچائزز میں سے ایک کی تیسری فلم ہے۔

1978 کی اصل فلم میں امیتابھ بچن نے مرکزی کردار ادا کیا تھا جبکہ ہدایت کار فرحان اختر نے 2006 اور 2011 میں شاہ رخ خان کے ساتھ اس سیریز کو دوبارہ پیش کیا۔

2023 میں رنویر سنگھ کو شاہ رخ خان کے جانشین کے طور پر متعارف کروایا گیا تھا اور فلم کو فرنچائز کے لیے ’ایک نئے دور‘ کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

’ ڈان 3‘ میں زیرِ زمین دنیا کے پراسرار کردار ’ڈان‘ کی کہانی کو آگے بڑھایا جانا تھا، جو جرائم، دھوکے اور خطرناک ڈکیتیوں سے بھرپور عالمی دنیا میں سفر کرتا ہے۔

ایف ڈبلیو آئی سی ای کے چیف ایڈوائزر اشوک پنڈت نے پیر کو کہا کہ فرحان اختر نے پہلی بار 11 اپریل کو تنظیم سے رابطہ کیا، جب مبینہ طور پر رنویر سنگھ نے شوٹنگ شروع ہونے سے تین ہفتے قبل فلم چھوڑ دی۔

اشوک پنڈت نے صحافیوں سے کہا: ’یونٹ کے شوٹنگ کے لیے روانہ ہونے سے تین ہفتے پہلے رنویر نے فلم چھوڑ دی۔‘

ان کے مطابق فرحان اختر اور ایکسل انٹرٹینمنٹ کے پروڈیوسر رتیش سدھوانی نے ’پری پروڈکشن پر ہونے والے تمام اخراجات کی تفصیلات پیش کیں، جن کا حساب اور آڈٹ کیا جا چکا ہے‘، جن میں ’ہوٹل بکنگ، لوکیشن بکنگ اور 200 سے زائد کارکنوں کے لیے بیرونِ ملک سفری انتظامات‘ شامل تھے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے مطابق اس مرحلے پر رنویر سنگھ کا فلم چھوڑنا ’انتہائی ناقابلِ قبول، انڈسٹری کی اخلاقیات کے خلاف اور فلمی برادری میں رائج دیرینہ پیشہ ورانہ اصولوں کی خلاف ورزی‘ تھا۔

ایف ڈبلیو آئی سی ای کے مطابق ایکسل انٹرٹینمنٹ نے پری پروڈکشن میں ہونے والے مبینہ نقصانات پر رنویر سنگھ سے 45 کروڑ انڈین روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اشوک پنڈت نے کہا کہ رنویر سنگھ نے ایکسل انٹرٹینمنٹ کے ساتھ تین فلموں کا معاہدہ کیا تھا اور فلم چھوڑنے سے قبل لوکیشنز کے انتخاب اور سکرپٹ سے متعلق اجلاسوں میں بھی شریک رہے تھے۔

ایف ڈبلیو آئی سی ای کا کہنا ہے کہ اس نے رنویر سنگھ کو 22 اپریل، 30 اپریل اور 13 مئی کو تین نوٹس جاری کیے، جن میں انہیں تنظیم کے سامنے پیش ہونے کو کہا گیا تھا۔

تنظیم کے مطابق رنویر سنگھ نے اپنے نمائندوں کے ذریعے جواب دیا کہ ایف ڈبلیو آئی سی ای اس تنازعے کے حل کے لیے ’مناسب فورم نہیں‘ کیونکہ ان کے خیال میں یہ ایک معاہدے سے متعلق معاملہ ہے، جس کے لیے قانونی فیصلہ درکار ہے۔

رنویر سنگھ نے پیر کی شام پہلی بار عوامی طور پر اپنے ترجمان کے ذریعے جاری بیان میں ردعمل دیا۔

بیان میں کہا گیا: ’رنویر سنگھ فلمی برادری اور’ ڈان‘ فرنچائز سے وابستہ ہر فرد کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ ’ڈان 3‘ سے متعلق حالیہ پیش رفت کے دوران انہوں نے دانستہ طور پر خاموشی اختیار کی کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ پیشہ ورانہ معاملات اور ذاتی تعلقات کو وقار، پختگی اور باہمی احترام کے ساتھ سنبھالنا چاہیے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا: ’اگرچہ وقت کے ساتھ مختلف بیانیے اور قیاس آرائیاں سامنے آتی رہی ہیں، رنویر نے کبھی عوامی طور پر جواب دینا یا قیاس آرائیوں کا حصہ بننا ضروری نہیں سمجھا۔ ان کی توجہ اپنے کام اور مستقبل کے وعدوں پر مرکوز ہے۔‘

یہ تنازع کئی ماہ سے’ڈان 3‘کی مشکلات کا شکار پروڈکشن کے گرد بڑھ رہا تھا، جسے 2023 میں رنویر سنگھ کے مرکزی کردار کے اعلان کے بعد مسلسل تاخیر، سکرپٹ سے متعلق اختلافات اور کاسٹنگ کے غیر یقینی مسائل کا سامنا رہا۔

فروری میں ’دی ہالی ووڈ رپورٹر انڈیا‘ نے رپورٹ کیا تھا کہ پروڈیوسرز گلڈ آف انڈیا نے سینیئر پروڈیوسرز کے اجلاس طلب کیے تھے، کیونکہ ایکسل انٹرٹینمنٹ نے الزام لگایا تھا کہ رنویر سنگھ کے الگ ہونے سے انہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق رنویر سنگھ کا مؤقف تھا کہ فلم کا مکمل سکرپٹ تیار نہیں تھا اور انہوں نے فرحان اختر پر الزام لگایا کہ وہ ’ڈان 3‘کے بجائے اپنی دیگر اداکاری کی مصروفیات پر توجہ دے رہے ہیں۔

فرحان اختر نے اپریل میں ایک انٹرویو کے دوران اس تنازع پر بات کرتے ہوئے کہا: ’جب تک کوئی چیز حقیقت میں فلم پر ریکارڈ نہ ہو جائے، اسے یقینی نہیں سمجھا جا سکتا۔‘

 انہوں نے مزید کہا کہ ’گزشتہ چند برسوں میں بہت کچھ ہوا‘ اور اس دور کو ’پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل‘ قرار دیا۔

انڈیا کے کمپیٹیشن کمیشن نے 2017 میں فیصلہ دیا تھا کہ ایف ڈبلیو آئی سی ای اور اس سے وابستہ پروڈیوسر تنظیمیں ایسے غیر مسابقتی اقدامات نافذ نہیں کر سکتیں، جو پروڈیوسرز کو غیر ممبران کی خدمات لینے سے روکیں یا یونین ہدایات نہ ماننے والے کارکنوں کو سزا دیں۔

ممبئی کی لا فرم نائیک نائیک اینڈ کمپنی کے بانی اور مینیجنگ پارٹنر ایڈووکیٹ امیت نائیک نے پیر کو ’ورائٹی انڈیا‘ سے گفتگو میں کہا کہ ایف ڈبلیو آئی سی ای کا حکم ’ایک سے زیادہ حوالوں سے غیر قانونی‘ہے۔

انہوں نے کہا: ’آپ کسی پر پابندی عائد کرنے والا حکم جاری نہیں کر سکتے۔ یہ تجارت میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔ ایف ڈبلیو آئی سی ای کے پاس کوئی قانونی اختیار نہیں اور آخرکار یہ کوئی آئینی ادارہ بھی نہیں۔‘

فلم پروڈیوسر اور تجزیہ کار گریش جوہر نے انڈیا ٹوڈے کو بتایا کہ اگرچہ فیڈریشن کے اقدامات وقتی طور پر منصوبوں کو سست کر سکتے ہیں، لیکن بالی ووڈ ’کسی ایک مرکزی اختیار کے تحت کام نہیں کرتا۔‘

انہوں نے کہا: ’یہ ایک اہم اور قابلِ احترام ادارہ ہے اور سب اس کی بات سنتے ہیں، تاہم اس سے کچھ تاخیر یا سست روی ضرور آ سکتی ہے۔‘

دہائی کے آغاز میں کئی تجارتی ناکامیوں کے بعد رنویر سنگھ نے ایکشن تھرلر ’دُرندھر‘ اور اس کے 2026 کے سیکوئل کی کامیابی سے دوبارہ باکس آفس پر مضبوط واپسی کی اور یہ فلمیں سال کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی ہندی فلموں میں شامل رہیں۔

ایف ڈبلیو آئی سی ای اس سے قبل بھی اسی نوعیت کی عدم تعاون کی ہدایات جاری کر چکی ہے۔

 2019 میں گلوکار میکا سنگھ کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے دوران کراچی میں ایک شادی میں پرفارم کرنے پر عارضی طور پر پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم بعد میں عوامی معذرت کے بعد فیڈریشن نے یہ ہدایت واپس لے لی۔

2025 میں ایف ڈبلیو آئی سی ای نے پنجابی فلم ’سردار جی 3‘ میں پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر کی کاسٹنگ پر دلجیت دوسانجھ کے خلاف بھی ’مکمل عدم تعاون‘ کی دھمکی دی تھی۔

اس انتباہ کے باوجود دلجیت دوسانجھ نے اپنے منصوبوں پر کام اور بین الاقوامی دورے جاری رکھے جبکہ یہ فلم انڈین سینیما گھروں میں نہیں بلکہ بیرونِ ملک ریلیز کی گئی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *