دہلی ایک ایسا شہر ہے جہاں ثقافت، مذہب اور روایت کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ یہاں کی ایک اہم پہچان قوالی ہے، جو تقریباً 700 سال پرانی صوفی روایت ہے۔ یہ روایت زیادہ تر درگاہوں جیسے حضرت نظام الدین درگاہ، درگاہ امیر خسرو، مہراولی درگاہ (قطب الدین بختیار کاکی) اور شاہ ترکمان بیابانی درگاہ میں دیکھنے کو ملتی ہے۔
قوالی خاص طور پر جمعرات کی رات اور عرس کے دنوں میں ہوتی ہے۔ اس میں فارسی، عربی اور ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کا خوبصورت ملاپ ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس روایت کو مشہور صوفی شاعر امیر خسرو نے فروغ دیا۔ آج بھی یہ ایک روحانی اور دل کو چھو لینے والا تجربہ ہے، جہاں ہر مذہب کے لوگ آتے ہیں۔
حضرت نظام الدین درگاہ میں جمعرات کی قوالی ایک بہت پرانی روایت ہے، جسے نظامی برادران اور دوسرے قوال صدیوں سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ یہاں قوالی سننا ایک خاص اور یادگار تجربہ ہوتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ آن لائن قوالی سننے سے وہ احساس نہیں آتا جو درگاہ میں براہِ راست سننے سے ملتا ہے۔
قوالی کا مقصد لوگوں کو آپس میں جوڑنا اور روحانیت کا پیغام دینا ہے۔ اس میں اردو، ہندی، فارسی، پنجابی اور سندھی زبانوں کا استعمال ہوتا ہے۔ قوالی کے اشعار میں خدا سے محبت، حضور ﷺ کی تعریف (نعت) اور صوفی بزرگوں کی شان (منقبت) بیان کی جاتی ہے۔
قوالی کی محفل کو عموماً ’محفلِ سماع‘ کہا جاتا ہے، جہاں لوگ خاموشی سے بیٹھ کر روحانی موسیقی سنتے ہیں۔ درگاہوں کا ماحول خوشبو، چراغوں اور عقیدت سے بھرا ہوتا ہے، جو اس تجربے کو اور خاص بنا دیتا ہے۔ قوال ہارمونیم اور طبلہ جیسے سازوں کے ساتھ اشعار کو ایک منفرد انداز میں پیش کرتے ہیں۔
محفل کے دوران لوگ اکثر وجد میں آ جاتے ہیں اور سر ہلا کر یا تالیاں بجا کر قوالوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ یہ روایت صدیوں سے اسی انداز میں جاری ہے اور آج بھی اپنی اصل شکل میں قائم ہے۔ قوالی نہ صرف ایک مذہبی روایت ہے بلکہ دہلی کی تہذیب اور پہچان کا ایک اہم حصہ بھی ہے۔
بہت سے لوگ یہاں اپنی دعائیں مانگنے اور دل کا سکون حاصل کرنے آتے ہیں۔ یہ محفلیں لوگوں کو جوڑنے، محبت اور بھائی چارے کا پیغام دینے کا ایک خوبصورت ذریعہ ہیں، جہاں مذہب یا ذات کا کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔
سلیم صابری ایک قوال ہیں جو اپنے خاندان کی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں اور مختلف درگاہوں میں قوالی پیش کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں، ’قوالی صرف موسیقی نہیں ہے، یہ ایک روحانی سفر ہے۔ یہ روایت خواجہ معین الدین چشتی جیسے صوفی بزرگوں سے شروع ہوئی، اور ہم اسے آج تک جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کا مزید کہنا ہے ’یہاں ہر مذہب کے لوگ آتے ہیں۔ ہندو، مسلم، سکھ، سب ایک ساتھ بیٹھ کر محبت سے سنتے ہیں۔ یہی قوالی کی خوبصورتی ہے۔‘
سلیم کے مطابق سوشل میڈیا نے قوالی کو اور زیادہ لوگوں تک پہنچایا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’پہلے لوگ صرف درگاہ میں آکر سنتے تھے، اب آن لائن بھی سنتے ہیں، لیکن اصل احساس صرف یہاں آکر ہی ملتا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’ہم جب قوالی گاتے ہیں تو یہ صرف فن نہیں ہوتا، بلکہ ایک عبادت کی طرح ہوتا ہے۔ اسی لیے ہم پوری لگن اور احترام کے ساتھ اسے پیش کرتے ہیں۔‘
جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی سکالر دیپالی یادو، جو اکثر قوالی سننے درگاہ جاتی ہیں، کہتی ہیں کہ ’مجھے یہاں آکر بہت سکون ملتا ہے۔ قوالی سن کر دل کو ایک خاص طرح کی راحت محسوس ہوتی ہے۔‘
وہ اس جگہ کی کھلی فضا کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’میں ایک ہندو ہوں، لیکن یہاں کبھی بھی کوئی فرق محسوس نہیں ہوا۔ ہم سب کو برابر سمجھا جاتا ہے، اور یہی اس جگہ کی سب سے بڑی بات ہے۔‘
دیپالی کے مطابق، ’آج کل کے مصروف وقت میں ایسے مقامات بہت ضروری ہیں جہاں انسان کو سکون ملے۔ اسی لیے نوجوان بھی اب زیادہ تعداد میں قوالی سننے آ رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’یہ صرف موسیقی نہیں ہے، بلکہ ایک ایسا تجربہ ہے جو دل کو جوڑتا ہے اور انسان کو اندر سے مضبوط بناتا ہے۔‘
