فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ کو بالآخر انڈیا میں ریلیز کی اجازت

آسکر کے لیے نامزد فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ کو انڈیا میں ابتدائی پابندی کے بعد اب سنسر بورڈ نے بالآخر ریلیز کی منظوری دے دی ہے۔

فلم کی ریلیز، جو ایک پانچ سالہ فلسطینی بچی کی حقیقی کہانی بیان کرتی ہے، رواں سال مارچ میں ’سیاسی حساسیت‘ کے باعث روکی گئی تھی۔ تاہم اب سی بی ایف سی نے اسے بغیر کسی کٹ کے ’اے‘ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا ہے، جس کے بعد فلم 19 جون کو ملک بھر کے سینما گھروں میں ریلیز کی جائے گی۔

فلم کی کہانی غزہ میں اسرائیلی حملے کے دوران ایک گاڑی میں پھنس جانے والی بچی کے گرد گھومتی ہے، جس کی بعد میں گولیوں سے چھلنی لاش برآمد ہوتی ہے۔

انڈین اخبار ’دا وائر‘ کے مطابق فلم کے انڈین ڈسٹری بیوٹر ’جے ویراترا انٹرٹینمنٹ‘ کے سربراہ منوج نندوانا نے فروری میں فلم منظوری کے لیے جمع کرائی تھی اور اسے چھ مارچ کو ریلیز کرنے کا ارادہ تھا تاہم سی بی ایف سی کے ایک رکن نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ فلم کی نمائش سے انڈیا اور اسرائیل کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی تھی جب انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا جسے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط بنانے کی کوشش قرار دیا گیا تھا۔

نندوانا نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انڈیا اور اسرائیل کے تعلقات اتنے مضبوط ہیں کہ ایک فلم انہیں متاثر نہیں کر سکتی اور یہ فلم پہلے ہی امریکہ، برطانیہ، اٹلی اور فرانس سمیت کئی ممالک میں ریلیز ہو چکی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جے ویراترا انٹرٹینمنٹ نے اپنے بیان میں سی بی ایف سی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ فلم کو بغیر کسی کٹ کے منظوری دینا اس بات کی علامت ہے کہ بامقصد سنیما کو سراہا جا رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ سینیما کہانی سنانے، مکالمے کو فروغ دینے اور انسانی تجربات کو سمجھنے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے اور اس فلم کی نمائش سے انڈین ناظرین کو ایک اہم موضوع پر غور کرنے کا موقع ملے گا۔

فلم کو عالمی سطح پر بھی پذیرائی ملی ہے اور وینس فلم فیسٹیول میں اس کے پریمیئر کے دوران اسے 20 منٹ تک کھڑے ہو کر داد دی گئی جبکہ اس نے سلور لائن ایوارڈ بھی جیتا۔

فلم فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی کی جانب سے گاڑی سے کال کرنے کے بعد بچی تک پہنچنے کی کوششوں کے گردگھومتی ہے۔

واضح رہے ہند رجب، اس کے خاندان کے کئی افراد اور اسے بچانے کے لیے بھیجے گئے دو پیرا میڈیکس بعد میں مارے گئے تھے۔

اس واقعے نے بین الاقوامی توجہ مبذول کرائی اور اسرائیلی جارحیت میں شہریوں کی اموات پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *