ایران فٹ بال ورلڈ کپ میں شرکت نہ کرنا چاہےتو یہ ان اپنا فیصلہ ہو گا: امریکی وزیر خارجہ

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو کہا ہے کہ ایران کے فٹ بالرز کو اس سال کے ورلڈ کپ میں خوش آمدید کہا جائے گا اور انہیں شرکت سے نہیں روکا جائے گا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انہوں نے اس تجویز سے لاتعلقی ظاہر کی جس میں کہا گیا تھا کہ اٹلی اس ٹورنامنٹ میں ایران کی جگہ لے سکتا ہے۔ 

اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے اس بات کی تردید کی کہ واشنگٹن نے ایرانی ٹیم کو ورلڈ کپ میں شرکت سے روکا ہے۔  

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ ایرانی وفد کے ان ارکان کو داخلے سے روک سکتا ہے جن کے بارے میں یہ سمجھا جائے کہ ان کے روابط تہران کے پاسداران انقلاب سے ہیں، جسے امریکہ اور کئی دیگر حکومتیں دہشت گرد تنظیم قرار دیتی ہیں۔ 

روبیو نے کہا کہ ’امریکہ کی جانب سے کسی نے بھی انہیں یہ نہیں کہا کہ وہ نہیں آ سکتے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ایران کے ساتھ مسئلہ ان کے کھلاڑی نہیں ہوں گے، بلکہ وہ دیگر افراد ہو سکتے ہیں جنہیں وہ اپنے ساتھ لانا چاہیں گے، جن میں سے کچھ کے پاسدران انقلاب سے تعلقات ہیں۔

’ممکن ہے ہم انہیں داخلے کی اجازت نہ دے سکیں، لیکن کھلاڑیوں کو نہیں روکا جائے گا۔‘

روبیو دراصل ایک رپورٹ شدہ تجویز پر ردعمل دے رہے تھے جو اٹلی میں امریکی خصوصی ایلچی پاؤلو زیمپولی نے پیش کی تھی۔

انہوں نے فنانشل ٹائمز کو بتایا تھا کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور عالمی فٹبال تنظیم فیفا کے سامنے یہ خیال رکھا کہ اٹلی کو ایران کی جگہ ورلڈ کپ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ 

اس تجویز کو جمعرات کے روز اطالوی حکومت اور سپورٹس حکام نے فوری طور پر مسترد کر دیا تھا۔ 

روبیو نے واضح کیا کہ یہ تجویز امریکی حکومت کے مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ’مجھے نہیں معلوم یہ بات کہاں سے آئی ہے، سوائے اس قیاس آرائی کے کہ شاید ایران خود نہ آنے کا فیصلہ کرے اور اٹلی اس کی جگہ لے لے۔ لیکن اگر وہ نہ آئے تو یہ ان کا اپنا فیصلہ ہو گا۔‘

زیمپولی نے بدھ کے روز فنانشل ٹائمز کو بتایا تھا کہ امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا میں ہونے والے فائنلز میں اٹلی کو دیکھنا ایک ’خواب‘ ہوگا، حالانکہ وہ گذشتہ ماہ کوالیفائنگ پلے آف میں شکست کھا چکا ہے۔ 

تاہم اٹلی کے وزیر کھیل آندرے ابودی  نے جمعرات کو کہا کہ اٹلی کی بحالی ’پہلی بات تو ممکن نہیں، اور دوسری بات یہ مناسب بھی نہیں ہے، آپ کو میدان میں کارکردگی دکھا کر ہی کوالیفائی کرنا ہوتا ہے۔‘

اسی مؤقف کی تائید اٹلی کی اولمپک کمیٹی کے صدر لوشیانو بونفیگلو نے بھی کی۔ انہوں نے کہا: ’میں اسے توہین سمجھوں گا۔ ورلڈ کپ میں جگہ حاصل کرنی پڑتی ہے۔‘ 

روم میں ایرانی سفارتخانے نے اس تجویز پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ امریکی ’اخلاقی دیوالیہ پن‘ کو ظاہر کرتی ہے اور اٹلی کو اپنی فٹبال عظمت دکھانے کے لیے ’سیاسی مراعات‘ کی ضرورت نہیں۔ 

اٹلی چار مرتبہ ورلڈ کپ جیت چکا ہے، تاہم وہ مسلسل تیسری بار ٹورنامنٹ میں جگہ بنانے میں ناکام رہا، جب وہ کوالیفائنگ پلے آف کے فائنل میں بوسنیا ہرزیگونیا سے پنالٹی شوٹ آؤٹ پر ہار گیا۔ 

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایران کی ورلڈ کپ میں شرکت 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ کے باعث غیر یقینی صورت حال کا شکار ہو گئی ہے۔

ایرانی فٹبال فیڈریشن  نے اپریل میں کہا تھا کہ وہ فیفا کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے تاکہ امریکہ میں ہونے والے اپنے میچز کو میکسیکو منتقل کیا جا سکے۔ 

تاہم فیفا کے صدرجیانی انفانتینو نے گذشتہ ماہ اے ایف پی کو بتایا تھا کہ ایران ورلڈ کپ میں شرکت کرے گا اور وہ ’وہیں کھیلے گا جہاں قرعہ اندازی کے مطابق اسے کھیلنا ہے۔‘ فیفا کے سربراہ نے گذشتہ ہفتے واشنگٹن میں بھی اپنے اس مؤقف کو دہرایا۔ 

جب جمعرات کو زیمپولی کی تجویز کے بارے میں اے ایف پی نے فیفا سے رابطہ کیا تو ادارے نے انفانتینو کے حالیہ بیانات کی طرف اشارہ کیا۔ 

2022 میں بھی زیمپولی نے اسی طرح کی تجویز دی تھی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ قطر میں ہونے والے ورلڈ کپ میں ایران کی جگہ اٹلی کو شامل کیا جائے کیونکہ اس وقت اسلامی جمہوریہ میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن جاری تھا، تاہم ان کی تجویز کو کوئی پذیرائی نہیں ملی۔ 

زیمپولی ایک اطالوی نژاد امریکی سماجی، کاروباری شخصیت اور ماڈلنگ ایجنسی کے بانی ہیں، جو دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے ٹرمپ کو ان کی موجودہ اہلیہ میلانیا ٹرمپ سے متعارف کرایا تھا۔ 


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *