بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات شامل ہوں گے: وزیر اعظم

وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کو کہا ہے کہ آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات شامل کیے جا رہے ہیں جبکہ حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت معاشی بحالی اور مالیاتی نظم و ضبط کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

وزیر اعظم نے اسلام آباد میں ملک کے سرکردہ صنعت کاروں اور کاروباری رہنماؤں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی معاشی پالیسی کا بنیادی ستون برآمدات پر مبنی ترقی ہے۔

پاکستان گذشتہ دو برس سے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت معاشی اصلاحات پر عمل کر رہا ہے، جن میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، توانائی کے شعبے کے نقصانات میں کمی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے اقدامات شامل ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے معیشت مستحکم ہوئی ہے، تاہم کاروباری طبقہ اب بھی ٹیکسوں میں کمی، سستی توانائی اور پیداواری لاگت کم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

شہباز شریف نے کہا: ’ہم برآمدات پر مبنی ترقی کی راہ پر گامزن ہیں، یہی ہماری معاشی پالیسی کی بنیاد ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت معیشت کو مستحکم کرنے اور ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے اصلاحات جاری رکھے ہوئے ہے۔

بریفنگ کے مطابق حکومت نے شرکا کو ٹیکس اصلاحات، ٹربیونلز میں تبدیلیوں، خصوصی کمرشل عدالتوں کے قیام اور غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے اقدامات سے آگاہ کیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اعلامیے میں کہا گیا کہ معیشت کو جدید بنانے اور پیداواری صلاحیت بہتر کرنے کے لیے نیشنل اے آئی ٹرانسفارمیشن پلان بھی تیار کیا جا رہا ہے۔

اجلاس میں انفراسٹرکچر اور لاجسٹکس سے متعلق منصوبوں پر بھی گفتگو کی گئی جن میں کراچی کی فریٹ کنیکٹیویٹی میں بہتری، ایم-13 موٹروے اور پاکستان ریلوے کے ایم ایل-1 اور ایم ایل-2 نیٹ ورکس کی اپ گریڈیشن شامل ہیں۔

وزیر اعظم آفس کے مطابق کاروباری رہنماؤں نے آئندہ بجٹ اور معاشی پالیسی پر تجاویز پیش کیں اور حکومت کی معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کی کوششوں کی حمایت کی۔

کاروباری شخصیات نے ٹیکس اصلاحات، سرمایہ کاری مراعات اور صنعتی مسابقت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ حالیہ معاشی استحکام کو پائیدار برآمدات پر مبنی ترقی میں تبدیل کیا جا سکے۔

انہوں نے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، غیر دستاویزی شعبوں کو معیشت میں لانے اور ٹیکس ادا کرنے والوں پر بوجھ کم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

کاروباری رہنماؤں نے صنعت کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی، ٹیکس ریفنڈز کی تیزی اور برآمدات کے فروغ کے اقدامات کو سراہا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *