’دہشت گرد حملوں کے خلاف دفاع پاکستان کا حق ہے‘: امریکی محکمہ خارجہ

امریکی محکمہ خارجہ نے جمعرات کو کہا ہے کہ واشنگٹن ’دہشت گرد حملوں کے خلاف پاکستان کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے۔‘

پاکستان اور پڑوسی ملک افغانستان کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ شدید کشیدگی کا باقاعدہ آغاز 26 فروری 2026 کو ہوا جب افغان فورسز نے پاکستان پر سرحد پار سے حملے کیے۔

افغان حملوں کے جواب میں پاکستان نے آپریشن غضب للحق شروع کیا اور افغانستان کے اندر شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی اور زمینی کارروائیاں کیں۔

دونوں ممالک کے درمیان یہ تنازع گذشتہ کئی سال سے جاری ہے اور پاکستان کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر شدت پسند گروہ پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم افغانستان اس کی تردید کرتا ہے۔

 دونوں ملکوں کے درمیان جاری کشیدگی سے قبل اکتوبر 2025 میں بھی دونوں ممالک کی فورسز کے درمیان شدید سرحدی جھڑپیں ہو چکی ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’پاکستانی عوام نے دہشت گردوں کے ہاتھوں بہت مصائب جھیلے ہیں۔‘

افغانستان اور پاکستان کے درمیان فروری میں گذشتہ کئی برسوں کی بدترین لڑائی ہوئی۔

اقوام متحدہ نے پیر کو کہا کہ افغان سرحد پر پاکستان کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں میں کم از کم 28 افراد جان سے گئے اور 49 زخمی ہوئے۔

افغان طالبان نے اختتام ہفتہ پر کہا کہ انہوں نے پاکستانی حدود میں فضائی حملے کیے ہیں، جب کہ اسلام آباد کا کہنا تھا کہ اس کی فورسز نے وسائل سے مالا مال جنوبی صوبے بلوچستان میں  چار ڈرون مار گرائے۔

پاکستان ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہے اور اس کی فوجی صلاحیتیں افغانستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ برتر ہیں۔

تاہم افغانستان پر حکومت کرنے والے افغان طالبان چھاپہ مار جنگ کے ماہر ہیں، جو 2021 میں واشنگٹن کے انخلا اور اپنے دوبارہ اقتدار میں آنے سے قبل، امریکی قیادت والی افواج کے خلاف کئی دہائیوں تک لڑ کر سخت جان ہو چکے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان واشنگٹن کا ایک اہم غیر نیٹو اتحادی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد سے واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔

اسلام آباد، افغانستان پر ایسے عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا ہے جنہیں وہ پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔

افغان طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عسکریت پسندی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے، اور ان کی دلیل ہے کہ پاکستان اپنی سکیورٹی ناکامیوں کا الزام دوسروں پر ڈال رہا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *