اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پاکستان کی ’مضبوط سفارت کاری کی فتح‘: عاصم افتخار

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقبل مندوب نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو ’مضبوط اور پرعزم سفارت کاری کی فتح‘ قرار دیتے ہوئے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ یہ معاہدہ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کے لیے اب بھی ایک فریم ورک فراہم کر رہا ہے۔

دو جولائی، 2026 کو سکیورٹی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پاکستان کے اس دیرینہ موقف کی عکاسی کرتی ہے کہ علاقائی تنازعات صرف سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کا محرک علاقائی اور عالمی امن کے لیے وابستگی ہے جس کا مقصد ’جانیں بچانا، کشیدگی کو کم کرنا اور ایک پائیدار باہمی افہام و تفہیم اور حتمی معاہدے کی جانب لے جانے والے منظم مذاکرات کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے۔‘

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے 17 جون، 2026 کو دستخط کیے تھے۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے 18 جون کو مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کیے۔

عاصم افتخار نے مزید کہا کہ پاکستان کی قیادت اس معاہدے کے تحت سفارتی تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے مذاکرات کرنے والے فریقین، علاقائی شراکت داروں اور دیگر ممالک کے ساتھ رابطے میں رہی۔

انہوں نے کہا: ’ہمارے نقطہ نظر سے یہ حقیقت کہ بات چیت جاری ہے اور فریقین مذاکرات کی میز پر موجود ہیں، ایک اہم اور مثبت نتیجہ ہے۔

عاصم افتخار نے مزید کہا کہ ‘ہم کسی بھی قسم کی کشیدگی کو روکنے اور سفارتی رابطے کو برقرار رکھنے کے لیے بات چیت اور اعتماد سازی کے اقدامات میں سہولت فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ فریقین کے درمیان رابطے کے ذرائع کھلے رہے، اور پاکستان خطے بھر میں امن اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کے مندوب کے بقول: ’رابطے کے ذرائع کھلے ہیں، اور ہم امن، سکیورٹی اور سکون لانے کی اپنی ان کوششوں پر قائم ہیں جن سے پورے خطے اور تمام ممالک کو بلا تفریق فائدہ پہنچے۔‘

انہوں نے خلیجی ریاستوں پر حملوں کی مذمت کی کہا کہ اسلام آباد نے ہمیشہ بین الاقوامی قانون کے فریم ورک سے باہر طاقت کے استعمال کی مخالفت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان جی سی سی ممالک کے خلاف حملوں کی واضح طور پر مذمت کرتا رہا ہے اور ایک بار پھر بحرین اور کویت میں اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔‘ انہوں نے خبردار کیا کہ مزید کسی بھی قسم کی کشیدگی کے علاقائی اور بین الاقوامی امن اور سکیورٹی پر سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرنے پر قطر، سعودی عرب، ترکیہ، مصر اور چین کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے بات چیت ہی واحد پائیدار راستہ ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *