مظفر آباد میں قتل کیے گئے کالج پرنسپل حمزہ برہان کون تھے؟

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں جمعرات کو قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے والے نجی تعلیمی ادارے کے پرنسپل حمزہ برہان آج جان کی بازی ہار گئے، وہ حملے کے بعد سے انڈین میڈیا پر موضوع گفتگو ہیں اور ان کا تعلق پلوامہ حملے سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ 

گذشتہ روز دارالحکومت مظفرآباد کے مصروف علاقے گوجرہ بائی پاس روڈ پر واقع نجی کالج کے سامنے حمزہ برہان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور آج صبح پولیس نے تصدیق کی کہ وہ اس حملے میں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

واقعے کے بعد انڈیا میڈیا پر حمزہ برہان کا تعلق پلوامہ حملہ سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم پولیس یا کسی سرکاری ادارے کی جانب سے اب تک اس معاملے پر کوئی موقف نہیں دیا گیا۔

14 فروری 2019 کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ایک خودکش بمبار نے انڈین فوجی اہلکاروں کی بس کو نشانہ بنایا تھا، جس میں کم از کم 44  سکیورٹی اہلکار مارے گئے تھے۔ پاکستان میں موجود شدت پسند تنظیم جیشِ محمد نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

حمزہ برہان کی نماز جنازہ کے بعد ان کی تدفین آج راولپنڈی میں کی جا چکی ہے۔ دوسری جانب مظفرآباد میں بھی ان کی غائبانہ نماز جنازہ آزادی چوک مظفرآباد میں ادا کی گئی، جس میں شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ہے۔

ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) سٹی اشتیاق گیلانی کے مطابق یہ واقعہ گوجرہ کے علاقے میں اُس وقت پیش آیا جب حمزہ برہان کالج سے باہر اپنے چند دوستوں سے ملنے کے بعد واپس کالج کے اندر جا رہے تھے کہ حملہ آور نے انہیں ان کے کالج کے باہر فائرنگ کا نشانہ بنایا۔

پولیس کے مطابق حملہ آور کی جانب سے حمزہ برہان کو تین گولیاں ماری گئیں، جن میں سے دو ان کے سر اور ایک کمر میں لگی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کالج کے سکیورٹی گارڈ کے مطابق: ’گذشتہ روز دوپہر کے وقت کالج کے پرنسپل حمزہ برہان نے انہیں ہدایات دیں کہ میرے کچھ مہمان کالج آ رہے ہیں، جس کے بعد وہ خود انہیں ریسیو کرنے کے لیے کالج کے مرکزی گیٹ سے باہر گئے۔‘

سکیورٹی گارڈ کے مطابق وہ اس وقت اندر ہی موجود تھے جب اچانک فائرنگ کی آواز آئی اور جب انہوں نے باہر آ کر دیکھا تو پرنسپل زخمی حالت میں پڑے ہوئے تھے۔

پولیس کے مطابق حمزہ برہان کو شدید زخمی حالت میں فوری طور پر کمبائنڈ ملٹری ہسپتال مظفرآباد منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دورانِ علاج دم توڑ گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے فوری بعد فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے مبینہ ملزم عبداللہ کمال کو گرفتار کر لیا گیا اور اس کے قبضے سے آلہ قتل بھی برآمد کیا جاچکا ہے۔

ایس ایس پی مظفرآباد ریاض مغل کی جانب سے اس واقعے کی ایف آئی آر درج ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

ڈی ایس پی اشتیاق گیلانی کے مطابق حمزہ برہان کا تعلق انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے تھا اور وہ بعد ازاں مظفرآباد منتقل ہو گئے تھے، جہاں وہ اپنا ایک نجی سکول اور کالج چلا رہے تھے۔

پولیس کے مطابق حملہ کرنے والے زیرِ حراست ملزم کا تعلق پنجاب کے شہر واہ کینٹ سے ہے اور اس کا نام عبداللہ کمال ہے۔

واقعے کے بعد انڈیا میڈیا پر حمزہ برہان کا تعلق پلوامہ حملہ سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم پولیس یا کسی سرکاری ادارے کی جانب سے اب تک اس معاملے پر کوئی موقف نہیں دیا گیا۔

ڈی ایس پی سٹی کا کہنا ہے کہ پکڑے جانے والے مبینہ قاتل سے تفتیش جاری ہے اور حملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اس واقعے میں جان سے جانے والے حمزہ برہان اپنے پیچھے ایک بیوہ اور چھ ماہ کا ایک بچہ چھوڑ گئے ہیں۔

 قتل کے اس واقعے کے بعد مظفرآباد کے تعلیمی و سماجی حلقوں کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا گیا اور ان کے قاتل کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

دوسری جانب واقعے کے بعد ان کے کالج میں زیر تعلیم طلبہ کی جانب سے بھی احتجاج کیا گیا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *