خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والی ماریہ شنواری نے کرونا وبا کے دوران ٹور گائیڈنگ کا شعبہ اختیار کیا اور گذشتہ تقریباً چھ برس سے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو پاکستان کے مختلف علاقوں کی سیر کروا رہی ہیں۔
آرکیالوجی میں پی ایچ ڈی کی طالبہ ماریہ کے لیے اس شعبے میں سب سے بڑا چیلنج بطور خاتون ٹور گائیڈ قبول کیا جانا ہے، تاہم وہ خاندانی حمایت کے ساتھ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’کرونا وبا کے دوران 2020 میں ٹور گائیڈنگ کا کام شروع کیا اور اب تقریباً چھ سال پورے ہو گئے لیکن اس شعبے میں خواتین کو قبول کرنا سب سے بڑا چیلنج ہے لیکن میں نے کام جاری رکھا ہوا ہے۔‘
ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل سے تعلق رکھنے والی ماریہ شنواری نے بتایا کہ ٹور گائیڈ کا کام سیاحوں کے لیے کام آسان بنانا ہے، یعنی تمام تر سہولیات فراہم کرنا، انہیں مشہور و معروف جگہوں کی سیر کروانا اور دیگر لاجسٹکس کا انتظام کرنا۔
ماریہ نے بتایا: ’میرے کلائنٹس زیادہ تر بین الاقوامی سیاح ہوتے ہیں، جنہیں میں مختلف پیکجز آفر کرتی ہوں اور اسی کے مطابق انہیں ٹور گائیڈ کی خدمات فراہم کرتی ہوں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس ٹور گائیڈ کا باقاعدہ لائسنس موجود ہے اور کلائنٹس کے ساتھ زیادہ تر رابطہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہوتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ماریہ شنواری نے بتایا: ’سوشل میڈیا کے مختلف ٹورسٹ گروپس میں ایک پیغام بنا کر شیئر کر دیتی ہوں اور اسی کے ذریعے کوئی نہ کوئی سیاح رابطہ کرتا ہے جبکہ دیگر سوشل میڈیا ریسورسز کے ذریعے بھی رابطہ کیا جاتا ہے۔‘
دیگر شہروں کے حوالے سے ماریہ نے بتایا کہ ’کلائنٹ کی اگر ڈیمانڈ ہو تو میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں دیگر ٹور گائیڈز سے بات کر کے ارینج کرتی ہوں جبکہ شمالی علاقہ جات کی اگر گائیڈنگ ہوں تو میں خود ان سیاحوں کے ساتھ جاتی ہوں۔‘
انہوں نے بتایا کہ انہیں خاندان کی طرف سے بھرپور سپورٹ حاصل ہے اور سب سے زیادہ سپورٹ بڑے بھائی کی طرف سے ملتی ہے لیکن اس شعبے میں خواتین کے لیے چیلنجز بھی زیادہ ہیں۔
بقول ماریہ: ’سب سے پہلے تو ہمیں اس شعبے میں قبول نہیں کیا جاتا اور لوگوں کی طرف سے یہی کہا جاتا ہے کہ خاتون کیسے ٹور گائیڈ کا کام کر سکتی ہے لیکن میں کہتی ہوں کہ اگر شوق ہو تو خواتین بہت کچھ کر سکتی ہیں۔‘
