جماعت الاحرار، ٹی ٹی پی میں علیحدگی کی وجوہات کیا تھیں؟

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا مضبوط دھڑا سمجھی جانے والی کالعدم عسکریت پسند تنظیم جماعت الاحرار نے گذشتہ روز ٹی ٹی پی سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے۔

تنظیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس نے اتحاد کی خاطر اپنی تنظیم کو ٹی ٹی پی میں ضم کر دیا تھا لیکن ان کے ساتھ غداری کی گئی جس کی وجہ سے ان کے ساتھی خالد خراسانی کو بھی چھین لیا گیا۔

بیان کے مطابق جماعت الاحرار اب آزاد حیثیت میں اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور 2020 والی پوزیشن پر دوبارہ بحال ہو جائے گی۔

جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی کے اختلافات کی کہانی

جماعت الاحرار کے سربراہ عمر خالد خراسانی کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع مہمند سے تھا جنہوں نے 2013 میں جماعت الاحرار کے نام سے ٹی ٹی پی سے علیحدہ ہو کر الگ دھڑا بنایا تھا۔

خالد خراسانی ٹی ٹی پی کے بانی اراکین میں شامل تھے لیکن بعد میں بعض اطلاعات کے مطابق ان کے ٹی ٹی پی کے سابق سربراہ ملا فضل اللہ کے ساتھ 2014 میں اختلافات پیدا ہو گئے تھے جس کے نتیجے میں انہوں نے اپنی شدت پسند تنظیم کی بنیاد رکھی تھی۔

جماعت الاحرار کے نام سے گروپ کی بنیاد رکھنے کے بعد خالد خراسانی نے اطلاعات کے مطابق کچھ عرصے کے لیے شدت پسند تنظیم داعش کے ساتھ بھی الحاق کیا تھا لیکن 2015 میں واپس ٹی ٹی پی کا حصہ بن گئے تھے۔

اس دھڑے کو ٹی ٹی پی کا ایک مضبوط دھڑا سمجھا جاتا تھا اور یہ اس وقت سے اب تک مختلف شدت پسند کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے بعد 2020 میں احرار نے دوبارہ ٹی ٹی پی میں شمولیت اختیار کی تھی اور اس کے سربراہ خالد خراسانی کو ٹی ٹی پی مرکزی شوریٰ کا رکن بھی بنایا گیا تھا۔

عبدالولی عرف عمر خالد خراسانی 2022 میں افغانستان کے صوبے پکتیکا کے علاقے برمل میں ساتھیوں سمیت ایک بارودی سرنگ کے دھماکے میں مارے گئے تھے۔

خالد خراسانی اس وقت مارے گئے جب پاکستانی حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان امن مذاکرات کا دور چل رہا تھا اور تب سے اب تک ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آئے تھے۔

جماعت الاحرار نے اپنے سربراہ خالد خراسانی کو مارنے کا الزام بھی ٹی ٹی پی کے مرکزی سربراہ مفتی نور ولی پر لگایا تھا جبکہ مرکزی ٹی ٹی پی کے خلاف ایک بیان بھی جاری کیا تھا۔

حالیہ دنوں میں کچھ ہفتے پہلے خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں رپورٹس کے مطابق جماعت احرار اور ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں جس میں ایک دوسرے کے جنگجوؤں کو مارا گیا تھا اور احرار نے اس کا الزام بھی ٹی ٹی پی پر لگایا تھا۔

کیا اس سے ٹی ٹی پی کمزور ہو سکتی ہے؟

مبصرین کے مطابق جماعت الاحرار کی 2020 میں ٹی ٹی پی میں دوبارہ شمولیت کو ٹی ٹی پی کی مضبوطی کے لیے بہت اہم سمجھا جاتا تھا کیونکہ اس وقت ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی نے بہت سے دھڑوں کو دوبارہ یکجا کیا تھا۔

عبدالسید سویڈن میں مقیم جنوبی ایشیا کی شدت پسند تنظیموں پر کام کرنے والے محقق ہیں اور ان کے مطابق جون 2020 میں ٹی ٹی پی نے سابق دھڑوں کو دوبارہ یکجا کرنے کا جو عمل شروع کیا، اس کی سب سے اہم پیشرفت جماعت الاحرار اور اس سے منسلک حزب الاحرار کی ٹی ٹی پی میں شمولیت تھی۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد پاکستانی طالبان کے مختلف گروہوں کو یکجا کرنے کی مہم تیزی سے آگے بڑھی اور یہاں تک کہ ٹی ٹی پی نے پاکستان میں سرگرم ریاست مخالف اسلامی شدت پسندوں کی بڑی تعداد کو اپنی قیادت کے تحت منظم کرنے اور افغانستان میں افغان طالبان کی طرز پر ایک واحد پلیٹ فارم کے ذریعے مسلح جدوجہد کو منظم کرنے کی کوشش کی۔

عبدالسید نے بتایا کہ ’اس تناظر میں جماعت الاحرار کی ٹی ٹی پی سے علیحدگی، ٹی ٹی پی کی اس حکمتِ عملی (شدت پسند گروپوں کو متحد کرنا) کے لیے ایک اہم دھچکا ہے۔ اتحاد المجاہدین کے ساتھ مل کر جماعت الاحرار اب پاکستان میں ریاست مخالف جہادی جنگ کو اپنی قیادت میں منظم اور کنٹرول کرنے کی ٹی ٹی پی کی کوششوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی نظر آتی ہے۔‘

اتحاد المجاہدین وزیرستان میں سرگرم حافظ گل بہادر گروہ، لشکر اسلام اور دیگر چھوٹی عسکریت پسند تنظیموں کا ایک اتحاد ہے جس کا باضابطہ طور پر ٹی ٹی پی کے ساتھ اتحاد موجود نہیں ہے بلکہ الگ تنظیمی ڈھانچہ رکھتا ہے۔

کیا یہ پاکستان کے لیے بھی چیلنج بن سکتا ہے، اس کے جواب میں عبدالسید نے بتایا کہ پاکستانی طالبان اب ٹی ٹی پی، اتحاد المجاہدین اور جماعت الاحرار جیسی تین مختلف قیادتوں کے تحت سرگرم ہوں گے اور یہ پاکستانی حکومت اور پاکستانی طالبان کے درمیان ماضی قریب کی طرح مذاکرات کے ذریعے جنگ کے خاتمے کی کسی بھی ممکنہ کوشش کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

‘ان مختلف دھڑوں کے درمیان عسکریت پسندوں کی روایتی باہمی رقابتوں کے باعث داخلی کشیدگی اور خونریزی کے واقعات کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ اسی طرح ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے کی کوشش میں سکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں کی تعداد اور شدت میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔‘

رسول داوڑ پشاور میں مقیم صحافی ہیں اور گذشتہ 15 سالوں سے شدت پسند تنظیموں کی رپورٹنگ کر رہے ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جماعت الاحرار کے سربراہ خالد خراسانی کے مارے جانے کے بعد تنظیم اور ٹی ٹی پی کے درمیان اختلافات بڑھ گئے اور تب سے اب تک یہی خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ اتحاد فطری نہیں ہے اور کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ہے۔

رسول داوڑ نے بتایا کہ ’ٹی ٹی پی کے ساتھ اتحاد ختم کرنے سے ٹی ٹی پی کمزور ہو سکتی ہے جبکہ معاشی طور پر بھی کمزور ہو سکتی ہے کیونکہ جماعت الاحرار کی جانب سے ٹی ٹی پی کو فنانشل سپورٹ بھی دی جاتی تھی۔‘

رسول داوڑ کہتے ہیں کہ جنوبی اضلاع جیسے کوہاٹ، لکی مروت، کرک اور دیگر اضلاع میں جماعت الاحرار کی موجودگی ہے اور ٹی ٹی پی کو ان اضلاع میں ایکسس کا مسئلہ بھی اب پیدا ہو گا۔

پاکستان میں شدت پسندی کے سال دو ہزار ایک میں سر اٹھانے کے بعد سے عسکری گروپوں میں اس قسم کا تعلق بدلتے حالات اور مشکلات کو بھی ظاہر کرتا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *