پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ نے اتوار کو بتایا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے جس تحریری معاہدے پر دستخط اور عمل درآمد کا منصوبہ پیش کرنے پر اتفاق کیا تھا وہ آخری وقت میں اس سے ’پیچھے ہٹ‘ گئی۔
وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب طویل مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے تھے۔
پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان چار اکتوبر کے لانگ مارچ اور صوبہ خیبر پختونخوا میں ممکنہ گورنر راج سمیت دیگر سیاسی معاملات سے متعلق مذاکرات کے دوران مذاکراتی ٹیموں کے درمیان ’انسدادِ دہشت گردی اور وفاق سے تعاون کے نکات‘ پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا تھا۔
مذاکرات کی ناکامی کے حوالے سے حکومتی مذاکرات کار رانا ثنااللہ نے کہا کہ ’خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں ساتھ دینے پر تیار نہیں ہوئی۔‘
The KP Government had agreed to sign a written agreement and submit an implementation plan within 72 hours, covering • Reconsideration of the Police Act 2026 in light of the security situation and the need to protect security matters from political interference • Preventing terrorists from operating freely or finding safe havens in the province • Unequivocal condemnation of TTP/TTA and all other terrorist groups • Support for the national policy on Afghan refugees, including repatriation and dismantling Afghan camps in KP • No contact with the Interim Afghan Government • Substantial funding for counterterrorism operations and the police • Full provincial ownership of counterterrorism measures and stronger cooperation with the Armed Forces • Decisions on counterterrorism in the former FATA and merged districts • Implementation of the National Action Plan Last night, during the final phase of negotiations, the KP Government backed out of these commitments. Security must not be politicised while the province is at War
— Mohsin Naqvi (@MohsinnaqviC42) October 4, 2026
دوسری جانب مذاکرات کے بعد صحافیوں کی طرف سے موجود سوال پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’لانگ مارچ کا جواب گورنر راج نہیں ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں مذاکرات کے آپشن برقرار رہتے ہیں۔
اس حوالے سے اب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’خیبر پختونخوا حکومت نے 72 گھنٹوں کے اندر ایک تحریری معاہدے پر دستخط کرنے اور اس پر عمل درآمد کا منصوبہ پیش کرنے پر اتفاق کیا تھا۔‘
محسن نقوی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’گذشتہ رات مذاکرات کے آخری مرحلے کے دوران خیبر پختونخوا حکومت ان وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ ’صوبہ جنگ کی صورتحال سے دوچار ہے، ایسے میں سکیورٹی کو سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے۔‘
ساتھ ہی انہوں نے چند نکات بھی شیئر کیے جن پر ان کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے اتفاق کیا تھا۔
ان کی جانب سے جاری نکات:
- سکیورٹی کی صورتحال اور سیکیورٹی معاملات کو سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھنے کی ضرورت کے پیشِ نظر پولیس ایکٹ 2026 پر نظرِ ثانی۔
- صوبے میں دہشت گردوں کو آزادانہ طور پر کارروائیاں کرنے یا محفوظ پناہ گاہیں تلاش کرنے سے روکنا۔
- ٹی ٹی پی، ٹی ٹی اے اور دیگر تمام دہشت گرد گروہوں کی غیر مبہم مذمت۔
- افغان مہاجرین سے متعلق قومی پالیسی کی حمایت، جس میں واپسی اور خیبر پختونخوا میں افغان کیمپوں کا خاتمہ شامل ہے۔
- عبوری افغان حکومت سے کوئی رابطہ نہ رکھنا۔
- انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں اور پولیس کے لیے خاطر خواہ فنڈز کی فراہمی۔
- انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کی مکمل صوبائی ذمہ داری قبول کرنا اور مسلح افواج کے ساتھ تعاون مزید مضبوط کرنا۔
- سابق فاٹا اور ضم شدہ اضلاع میں انسدادِ دہشت گردی سے متعلق فیصلے کرنا۔
- قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی ایکس پر ’مذاکرات کمیٹی کو بھیجے ڈرافٹ‘ کو شیئر کیا ہے۔
مزاکراتی کمیٹی کو میرا بھیجا گیا ڈرافٹ یہ ہے جسے میں اپنی قوم کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ پوری قوم کو یہ علم ہونا چاہئیے کہ ان میں سے ایک ڈیمانڈ بھی غیر آئینی و قانونی نہیں ہے۔ ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے۔ ہمارے ساتھ ریاست ہر قابض لوگ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ یہ ہمارے ڈیمانڈز تھے، ہیں اور رہیں گے۔ ملک میں سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری عمل کے تسلسل، قومی یکجہتی، امن و امان کے قیام اور تمام سیاسی و قومی معاملات کو باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے درج ذیل امور پر اتفاقِ رائے کیا جائے گا: 1۔وزیرِ اعظم پاکستان اور دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزبِ اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقات کا اہتمام کیا جائے گا، جس میں ملک کو درپیش تمام اہم سیاسی، قومی، آئینی، قانونی اور جمہوری معاملات، بالخصوص زیرِ التوا امور، پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ فریقین اس امر کے پابند ہوں گے کہ باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے مذکورہ امور کے حل کے لیے دو ماہ کے اندر مؤثر اور قابلِ عمل پیش رفت یقینی بنائی جائے۔ 2۔وزیرِ اعظم پاکستان حکومتی اتحاد، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندگان پر مشتمل ایک مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیں گے۔ یہ کمیٹی اپوزیشن کے ساتھ قومی و سیاسی معاملات، باہمی اختلافات اور دیگر اہم امور پر مسلسل مذاکرات کرے گی اور باہمی اتفاقِ رائے سے قابلِ عمل حل تلاش کرے گی۔ جمہوریت، سیاست، عدالت اور صحافت کی مکمل آزادی ہوگی۔ کمیٹی اپنے قیام کے بعد ایک ماہ کے اندر مذاکرات اور حل کے حوالے سے قابلِ ذکر پیش رفت یقینی بنائے گی اور اپنی سفارشات متعلقہ قیادت کے سامنے پیش کرے گی۔ 3۔ جیل مینول، آئینِ پاکستان اور مروجہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو حاصل تمام قانونی، انسانی اور طبی حقوق بلاامتیاز فراہم کیے جائیں گے۔ ان کے علاج و معالجے کے سلسلے میں، جہاں قانوناً قابلِ اطلاق ہو، ان کے ذاتی/نامزد ڈاکٹروں کی طبی رائے، ہدایات اور مشوروں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ضروری طبی سہولیات اور علاج معالجے کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ 4۔جیل مینول اور متعلقہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اپنے اہلِ خانہ، نامزد وکلاء اور مجاز/نامزد رفقاء سے ملاقات کا حق فراہم کیا جائے گا۔ ملاقاتوں کا انعقاد قانون اور جیل قواعد و ضوابط کے مطابق ہوگا۔ تاہم ملاقات کی سہولت کو کسی بھی فریق کی جانب سے ایسے سیاسی یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا جو قانوناً ممنوع ہوں۔ 5۔عمران خان، بشریٰ بی بی، خواتین، معمر اور بیمار قیدیوں سمیت تمام زیرِ حراست افراد کی جانب سے سزاؤں کے خلاف دائر درخواستوں اور دیگر قانونی درخواستوں پر آئین و قانون کے مطابق دس دن کے اندر غور کا عمل شروع/مکمل کیا جائے گا، جہاں قانوناً ایسا ممکن ہو۔ تمام مقدمات کا فیصلہ متعلقہ عدالتیں اور قانونی فورمز آئین، قانون، شفاف عدالتی طریقۂ کار اور انصاف کے اصولوں کے مطابق، بلاجواز تاخیر کے بغیر، کریں گے۔ خواتین جو سیاسی قید کاٹ رہی ہیں جن میں بزرگ یاسمین راشد اور بشری بی بی سرفہرست ہے اُن کو انسانی ہمدردی دکھاتے ہوئے جلد رہا کیا جائے۔ 6۔خیبر پختونخوا میں جاری دہشت گردی کے خاتمے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور مستقل و پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر، مسلسل اور بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے موجودہ پالیسیوں اور اقدامات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق ان میں مناسب ترامیم کی جائیں گی۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کے مجاز نمائندگان 72 گھنٹوں کے اندر باقاعدہ اجلاس منعقد کرکے باہمی مشاورت سے امن و امان کے قیام کے لیے ایک واضح، جامع اور قابلِ عمل حکمتِ عملی مرتب کریں گے۔ اس حکمتِ عملی پر آئین و قانون کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے عمل درآمد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہوگی۔ 7۔ وفاقی حکومت کی جانب سے مذکورہ بالا یقین دہانیوں اور طے شدہ اقدامات پر مؤثر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف موجودہ لانگ مارچ کو منسوخ کرنے کا اعلان کرے گی۔ تاہم اگر وفاقی حکومت طے شدہ یقین دہانیوں، مذاکراتی عمل یا آئینی و قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کرے یا مذاکراتی عمل کو بلاجواز تعطل کا شکار کرے تو پاکستان تحریکِ انصاف آئین و قانون کے مطابق اپنے پُرامن، جمہوری اور قانونی احتجاج کے حق کو محفوظ رکھے گی۔
— Sohail Afridi (@SohailAfridiISF) October 4, 2026
سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ ’پوری قوم کو یہ علم ہونا چاہیے کہ ان میں سے ایک ڈیمانڈ بھی غیر آئینی و قانونی نہیں ہے۔ ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے، ہمارے ساتھ ریاست ہر قابض لوگ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ یہ ہماری ڈیمانڈز تھے، ہیں اور رہیں گے۔‘
انہوں نے بھی چند نکات لکھے اور ساتھ کہا کہ ’اگر وفاقی حکومت طے شدہ یقین دہانیوں، مذاکراتی عمل یا آئینی و قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کرے یا مذاکراتی عمل کو بلاجواز تعطل کا شکار کرے تو پاکستان تحریکِ انصاف آئین و قانون کے مطابق اپنے پُرامن، جمہوری اور قانونی احتجاج کے حق کو محفوظ رکھے گی۔‘
