آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے میں دیگر ممالک بھی ذمہ داری ادا کریں: امریکی وزیر خارجہ

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آبنائے ہرمز میں عالمی تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے دیگر ممالک پر زور دیا کہ وہ بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کریں، جبکہ ایران پر اس اہم آبی گزرگاہ میں جہازوں پر حملوں کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔

آسیان ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے فلپائن روانگی سے قبل پیر کو امریکہ وزیر خارجہ نے کہا کہ ’امریکہ صرف ان ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے جو عالمی تجارتی جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔‘

مارکو روبیو نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی راستہ ہے اور ایران اسی آبی گزرگاہ میں جہازوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

’امریکہ نہ صرف جہازوں کے تحفظ میں مصروف ہے بلکہ ان مقامات کو بھی نشانہ بنا رہا ہے جہاں سے میزائل اور ڈرون حملے کیے جاتے ہیں۔‘

روبیو نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو آزاد، محفوظ اور ہر قسم کی رکاوٹ یا حملے سے پاک رہنا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر ایران جہاز رانی سے متعلق کسی مفاہمتی انتظام کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس انتظام کا برقرار رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اب بھی سفارتی حل کے لیے تیار ہے۔ ’امریکہ ہمیشہ سفارتی حل کے حق میں ہے۔ ہم نے ایران کے ساتھ متعدد بار کوشش کی ہے اور اگر مذاکرات کا دروازہ دوبارہ کھلتا ہے تو ہم اس کا خیرمقدم کریں گے۔‘

مارکو روبیو نے ایران کے اندرونی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے اندر بھی اختلافات بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔

’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایرانی نظام کے اندر ایک بڑھتی ہوئی تقسیم موجود ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ معیشت شدید مشکلات کا شکار ہے اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے، جبکہ دوسری جانب ایسے عناصر ہیں جو سخت گیر مؤقف رکھتے ہیں اور میزائل حملے جاری رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔‘

روبیو کے مطابق ایران کو سنگین معاشی اور داخلی چیلنجز کا سامنا ہے، اور ان حالات میں سفارتی راستہ اب بھی بہترین حل ہو سکتا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *