خستہ عمارت میں قائم جم اور غزہ کے نوجوان کے حوصلے کی کہانی

خان یونس کی ایک تباہ شدہ عمارت کے تہہ خانے میں ایک چھوٹا سا جم قائم تھا، جسے دیکھ کر کوئی بھی اسے ورزش کے لیے مناسب جگہ نہیں کہہ سکتا تھا۔

دیواروں پر دراڑیں، چھت سے گرتا ملبہ، اور ہر لمحہ گرنے کا خطرہ، یہ سب کچھ وہاں موجود نوجوانوں کے حوصلے کو کم نہ کر سکا۔

اسی جگہ 26 سالہ احمد فرونہ بھی روزانہ آتے تھے۔ وہ ایک تن ساز تھے جنہوں نے جنگ کے سخت حالات میں نہ صرف اپنا وزن کم ہوتے دیکھا بلکہ اپنے خوابوں کو بھی ڈگمگاتے محسوس کیا۔

دو سال سے زائد جاری رہنے والی اس جنگ نے ان سے دس کلو سے زیادہ وزن چھین لیا، مگر ان کے ارادے کو نہیں ہلا سکی۔

جب شہر کے جم بند ہو گئے، تو احمد نے ہار نہیں مانی۔ وہ کنکریٹ کے ٹکڑوں سے خود ہی ڈمبلز بنا کر مشق کرتے رہے۔

ان کے لیے ورزش صرف مسل بنانے کا ذریعہ نہیں تھی بلکہ ذہنی سکون حاصل کرنے کا ایک راستہ بھی تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جم کا داخلی حصہ ملبے سے بھرا ہوا تھا، اور اندر موجود ہر فرد جانتا تھا کہ چھت کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔

مگر اس خطرے کے باوجود نوجوان وہاں جمع ہوتے، وزن اٹھاتے اور ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھاتے۔

احمد المجايدة جو وہاں تربیت لے رہے تھے کہتے ہیں کہ یہ منظر غزہ کی اصل تصویر ہے تباہی کے بیچ جینے کی امید۔

ہر پسینہ بہاتا لمحہ ان کے لیے صرف ورزش نہیں بلکہ بقا کی جنگ تھا۔

احمد فرونہ کی آنکھوں میں اب بھی ایک خواب زندہ تھا: آج ہم ملبے کے نیچے اپنے جسم بنا رہے ہیں، ان شااللہ ایک دن ہم غزہ کو بھی دوبارہ تعمیر کریں گے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *