ایس سی او کیا علاقائی سکیورٹی کو نئی شکل دے سکتا ہے؟

آج کا بین الاقوامی نظام اب کسی ایک طاقت کے گرد نہیں گھومتا۔ دنیا بتدریج ایک منتشر اور کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔

 ایک ایسا نظام جہاں سکیورٹی کے تصورات باہم متصادم ہیں، اتحاد مسلسل بدل رہے ہیں اور تنازعات زیادہ علاقائی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

اس تبدیلی کا سب سے واضح اظہار مغربی ایشیا میں دکھائی دیتا ہے۔

ایران، امریکہ اور خطے کے دیگر کرداروں کے درمیان حالیہ بحران نے ایک بار پھر خطے کے سکیورٹی ماحول کی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے۔

اس تنازعے نے نہ صرف جغرافیائی سیاسی تناؤ میں اضافہ کیا بلکہ توانائی کی منڈیوں کو بھی متاثر کیا، اہم سمندری راستوں کو خطرات سے دوچار کیا اور وسیع تر علاقائی کشیدگی کے خدشات کو جنم دیا۔

تاہم اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس بحران نے ایک بنیادی سوال کو دوبارہ سامنے لا کھڑا کیا ہے:

’کیا موجودہ علاقائی سکیورٹی انتظامات واقعی ایسے بحرانوں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، یا وہ خود مسئلے کا حصہ بنتے جا رہے ہیں؟‘

کئی دہائیوں سے مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی کا انحصار بڑی حد تک امریکہ کی قیادت میں قائم ایک ایسے فریم ورک پر رہا ہے جو فوجی موجودگی، سٹریٹجک شراکت داری اور ڈیٹرنس (روک تھام) کے اصول پر مبنی تھا۔

یہ پورا نظام چند اہم مفادات کے گرد تشکیل دیا گیا تھا: توانائی کی ترسیل کو محفوظ رکھنا، سمندری تجارتی راستوں کی حفاظت کرنا، علاقائی توازن برقرار رکھنا اور اتحادی ریاستوں کے درمیان سیاسی نظم قائم رکھنا۔

اگرچہ اس نظام نے بعض اوقات استحکام پیدا کیا، لیکن یہ بار بار پیدا ہونے والے تصادموں سے بھی جڑا رہا، خصوصاً ایران کے معاملے میں۔

حالیہ بحران نے ایک مرتبہ پھر یہ ظاہر کیا ہے کہ بیرونی ضمانتوں پر حد سے زیادہ انحصار کرنے والا سکیورٹی ڈھانچہ اپنی بنیادی کمزوریاں رکھتا ہے۔

کیا ایسا نظام واقعی کشیدگی کو قابو میں رکھ سکتا ہے؟ اور کیا یہ کسی تنازع کو پھیلنے سے روکے بغیر اس کے اثرات کو سنبھال سکتا ہے؟

خطے میں اب بہت سے حلقے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کہیں موجودہ فریم ورک ایک مستحکم قوت کے بجائے سٹریٹجک بوجھ تو نہیں بنتا جا رہا۔

اسی لیے اب متبادل یا تکمیلی سکیورٹی انتظامات پر سنجیدہ بحث تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔

اسی تناظر میں بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین یہ جائزہ لینے لگے ہیں کہ آیا شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) جیسی تنظیمیں مستقبل میں کسی نئے علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کے قیام میں کوئی کردار ادا کر سکتی ہیں۔

گذشتہ دو دہائیوں کے دوران ایس سی او نے نمایاں وسعت اختیار کی ہے۔ 2001 میں چھ ارکان کے ساتھ قائم ہونے والی اس تنظیم میں 2024 کے آستانہ سربراہی اجلاس کے بعد بیلاروس کی شمولیت سے مکمل ارکان کی تعداد دس ہو چکی ہے۔

اپنے بڑھتے ہوئے ڈائیلاگ پارٹنرز اور مبصرین کے نیٹ ورک کے ساتھ، ایس سی او آج جغرافیائی پھیلاؤ اور آبادی کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی علاقائی تنظیموں میں شمار ہوتی ہے، جبکہ مجموعی طور پر عالمی جی ڈی پی کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ بھی اس سے وابستہ ہے۔

چین، روس، انڈیا، پاکستان اور ایران جیسے اہم ممالک کے علاوہ مصر، سعودی عرب، ترکی اور متحدہ عرب امارات جیسے علاقائی شراکت داروں کی موجودگی اس تنظیم کو نمایاں جغرافیائی سیاسی وزن عطا کرتی ہے۔

اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ایس سی او علاقائی نظم کے ایک متبادل، یا کم از کم تکمیلی، تصور کو پیش کرتا ہے۔ یہ تصور خودمختاری، عدم مداخلت، کثیر جہتی تعاون اور یوریشیائی روابط پر زور دیتا ہے۔

دیکھا جائے تو یہ خصوصیات ایس سی او کو ایک زیادہ جامع علاقائی سکیورٹی فریم ورک میں کردار ادا کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہیں۔ تاہم محض صلاحیت ہونا کافی نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ تنظیم عملی سطح پر بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے؟

کیا ایس سی او واقعی ایران جیسے بحران کے دوران کوئی معنی خیز کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے؟ یا اس کے اپنے ڈھانچے، اصول اور اندرونی تضادات اس کے کردار کو محدود کر دیتے ہیں؟

ان سوالات کا جواب دینے کے لیے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایس سی او دراصل ہے کیا اور شاید اس سے بھی زیادہ اہم یہ کہ یہ کیا نہیں ہے۔

ایس سی او کو کبھی بھی ایک فوجی اتحاد کے طور پر تشکیل نہیں دیا گیا تھا۔ یہ نیٹو (NATO) کی طرح اجتماعی دفاعی ضمانتیں فراہم نہیں کرتا۔

اس کے برعکس، یہ اتفاقِ رائے اور خودمختاری کے اصول پر قائم ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس کی ابتدائی توجہ دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف تعاون پر تھی جبکہ بعد میں اس کا دائرہ اقتصادی تعاون، علاقائی روابط اور سیاسی ہم آہنگی تک وسیع ہوتا گیا۔

اس کے بنیادی اصول یعنی خودمختاری کا احترام، عدم مداخلت، اور رکن ریاستوں کے درمیان برابری متنوع ارکان کے درمیان اعتماد پیدا کرنے میں مددگار رہے ہیں۔

تاہم یہی اصول بین الریاستی بحرانوں کے دوران تنظیم کی فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی صلاحیت کو بھی محدود کرتے ہیں۔ حالیہ ایران بحران میں یہ حد واضح طور پر سامنے آئی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایران کے مکمل رکن ہونے کے باوجود، ایس سی او کا ردعمل زیادہ تر تحمل، خودمختاری کے احترام اور سیاسی مذاکرات پر زور دینے والے بیانات تک محدود رہا۔

تنظیم کے پلیٹ فارم سے نہ کوئی بڑا ثالثی اقدام سامنے آیا، نہ کوئی ہنگامی سفارتی میکنزم فعال ہوا، اور نہ ہی کسی مربوط اجتماعی ردعمل کی شکل دکھائی دی۔

یہ صورت حال ایک اہم حقیقت پسندانہ امتحان (Reality Check) بن کر سامنے آئی ہے۔ یہ بحران صرف علاقائی استحکام ہی کا امتحان نہیں بلکہ ایس سی او جیسی ابھرتی ہوئی کثیر جہتی تنظیموں کی عملی اہمیت کا بھی امتحان ہے۔

اس محدود کردار کے پیچھے کئی ساختی رکاوٹیں موجود ہیں۔

اول، تنظیم خود اندرونی جغرافیائی سیاسی تقسیم کا شکار ہے۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی، چین اور انڈیا کے تنازعات، اور ایران و خلیجی ریاستوں کے درمیان بڑھتا ہوا علاقائی مقابلہ کسی مشترکہ سٹریٹجک مؤقف تک پہنچنا مشکل بنا دیتا ہے، خصوصاً ایسے بحرانوں میں جہاں معاملات انتہائی حساس ہوں۔

دوم، ایس سی او کے اندر مکمل سٹریٹجک ہم آہنگی موجود نہیں۔ اگرچہ چین اور روس اس کے بنیادی ستون ہیں لیکن دونوں اپنی اپنی قومی ترجیحات اور جغرافیائی سیاسی مفادات کے مطابق چلتے ہیں۔ اسی وجہ سے تنظیم اکثر فیصلہ کن اجتماعی اقدامات کے بجائے محتاط اور بتدریج ردعمل کو ترجیح دیتی ہے۔

سوم، عدم مداخلت کا اصول جو کئی رکن ریاستوں کے لیے سیاسی طور پر نہایت اہم ہے مگر تنظیم کی اس صلاحیت کو محدود کرتا ہے کہ وہ اپنے ارکان یا امریکہ جیسی بڑی بیرونی طاقتوں کے درمیان تنازعات میں مؤثر ثالثی کر سکے۔

آخر میں، ایس سی او کو ادارہ جاتی حدود کا بھی سامنا ہے۔ اس کے پاس نہ تو مؤثر نفاذی طریقہ کار موجود ہیں، نہ ہنگامی بحرانوں سے نمٹنے کے واضح ڈھانچے اور نہ ہی آپریشنل سطح پر تنازعات کے انتظام کی مکمل صلاحیت۔ اسی لیے اس کا کردار عملی سے زیادہ مشاورتی نوعیت کا دکھائی دیتا ہے۔

تاہم اس کے باوجود ایس سی او کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔ اس کی اہمیت براہِ راست فوجی مداخلت میں نہیں بلکہ اس سیاسی اور سٹریٹجک گنجائش میں ہے جو یہ پیدا کرتا ہے۔

سب سے پہلے، ایس سی او ایک ایسا نایاب پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں خطے کے بڑے اور بعض اوقات حریف کردار بھی ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

حتیٰ کہ جب دوطرفہ تناؤ برقرار رہے، تب بھی اس نوعیت کی سفارتی وابستگی ایک تیزی سے منتشر ہوتے جغرافیائی سیاسی ماحول میں اپنی اہمیت برقرار رکھتی ہے۔ کم از کم، یہ سٹریٹجک رابطے، اعتماد سازی، اور غلط فہمیوں میں کمی لانے میں مدد دیتی ہے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ ایس سی او ایک متبادل سکیورٹی بیانیے کے ابھرنے میں کردار ادا کر رہا ہے۔ مغربی قیادت والے فریم ورکس کے برعکس، جو اکثر مداخلت پسندی اور اتحادی سیاست سے وابستہ سمجھے جاتے ہیں۔

ایس سی او خودمختاری، سیاسی مذاکرات اور سکیورٹی معاملات پر علاقائی ملکیت پر زور دیتا ہے۔ ایران جیسے ممالک کے لیے یہ نقطۂ نظر ان کی سیاسی حساسیت اور سٹریٹجک سوچ سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔

یوں ایس سی او کی اہمیت صرف مادی طاقت تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ بین الاقوامی سیاست کے اخلاقی اور فکری مباحث پر بھی اثر انداز ہوتی ہے خصوصاً اس بحث پر کہ یوریشیا میں سکیورٹی، جواز اور علاقائی نظم کو کس نظر سے دیکھا جائے۔

تیسری بات، یہ تنظیم علاقائی تنازعات کے ثانوی اثرات کو محدود کرنے میں بھی کردار ادا کر سکتی ہے۔

ایران سے متعلق طویل کشیدگی افغانستان کو غیر مستحکم کر سکتی ہے، علاقائی تجارتی راہداریوں کو متاثر کر سکتی ہے، وسطی ایشیا کی معیشتوں پر دباؤ ڈال سکتی ہے اور پورے یوریشیا میں سکیورٹی خطرات کو بڑھا سکتی ہے۔

انسدادِ دہشت گردی اور علاقائی تعاون کے موجودہ طریقہ کار کے ذریعے ایس سی او ان اثرات کو کم کرنے میں کسی حد تک مدد دے سکتی ہے۔

تو پھر اس تمام بحث سے کیا نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے؟

فی الحال ایس سی او نہ تو موجودہ سکیورٹی انتظامات کا متبادل ہے، اور نہ ہی ایسا فیصلہ کن سکیورٹی ادارہ جو بڑے علاقائی بحرانوں کو مؤثر طور پر سنبھال سکے۔ اس کا کردار محدود ضرور ہے، مگر غیر اہم نہیں۔

یہ تنظیم مذاکرات، سٹریٹجک ہم آہنگی اور علاقائی نظم کے متبادل طریقوں کو بتدریج فروغ دینے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے۔

ایس سی او ایک ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا کی وسیع تر امنگوں کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم اس کے اندر اب بھی وہ ادارہ جاتی ہم آہنگی، سیاسی اتحاد، اور عملی صلاحیت موجود نہیں جو بحران کے لمحات میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔

اسی لیے مستقبل میں اس کی اہمیت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا اس کے ارکان اپنے باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر اس تنظیم کو محض ایک علامتی فورم سے ایک مؤثر سٹریٹجک پلیٹ فارم میں تبدیل کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں یا نہیں۔

تب تک، ایس سی او علاقائی سلامتی سے متعلق مباحث میں ایک اہم آواز تو رہے گا، لیکن ابھی یہ خطے میں فیصلہ کن اور موثر کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتا۔

اس تحریر کے مصنف چین اور فرانس میں پاکستان کے سابق سفیر رہ چکے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے اور ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *