ایران کے دوسرے رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای کو ان کی وفات کے چار ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بالآخر گذشتہ جمعہ کو مشہد میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ ایک سیاسی اور روحانی رہنما کی تدفین کے لیے یہ غیر معمولی طور پر طویل مدت تھی، تاہم کسی بڑی اور بنیادی تبدیلی کے لیے زیادہ طویل نہیں تھی جو ایک ایسے آمر کے مارے جانے کے بعد رونما ہوئی، جس نے 37 برس تک دنیا کے سب سے اثرانداز ممالک میں سے ایک کی باگ ڈور سنبھال رکھی تھی۔
ایران ایک وسیع و عریض ملک ہے جس کی جغرافیائی و تزویراتی اہمیت غیر معمولی ہے۔ یہ ملک وسطی ایشیا اور موجودہ مشرق وسطیٰ کے درمیان پل کی حیثیت رکھتا ہے، دنیا کے امیر ترین تیل اور گیس ذخائر میں سے بعض کا حامل ہے اور عالمی معیشت کی اہم ترین آبی گزرگاہ، آبنائے ہرمز، اس کے کنٹرول میں ہے۔
یہ زرخیز سرزمین چار موسموں، بے مثال قدرتی وسائل اور ایسے لوگوں کی حامل ہے جنہوں نے مشرقی تہذیب کی تاریخ رقم کی۔ ایسے اوصاف رکھنے والا ملک یقیناً ازل سے آج تک خصوصی توجہ، خواہش اور اہمیت کا مرکز رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔
اس طرح کی خصوصیات رکھنے والا ملک گذشتہ 47 برس سے جدید دور کی نایاب ترین اور انتہا پسند فرقہ وارانہ حکومتوں میں سے ایک کے اقتدار کے چیلنج سے دوچار ہے۔
معاشرے کا ایک حصہ، جو قاجاریہ دور سے ملاؤں اور ان کے پیروکاروں کی قدامت پسند میراث کا وارث تھا، پہلے اور دوسرے پہلوی دور میں گوشہ نشین ہو گیا تھا اور طاقت کے اظہار سے محروم تھا۔ تاہم 1979 کے انقلاب اور آیت اللہ خمینی سے وابستہ مذہبی قوتوں کے اقتدار میں آنے کے بعد، ایران کی دولت پر قبضہ کر کے انہوں نے بتدریج اپنی کمزور ہو چکی طاقت کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔
اسلامی انقلاب کے دوسرے رہنما کی تدفین، جو ایک ہفتے سے زیادہ جاری رہی اور تہران و قم سے شروع ہو کر نجف اور کربلا (جو تاریخی طور پر ایران کے زیر اثر مذہبی مراکز سمجھے جاتے ہیں) پہنچی اور پھر مشہد میں اختتام پذیر ہوئی، ایک اہم سیاسی اور سماجی پیغام لیے ہوئے تھی: ’ہماری حیثیت کو دیکھو!‘
اس حکومت کی حیثیت، جو ہزاروں مظاہرین کے قتل عام کے بعد ملک کے اندر اور باہر عوام کی نظر میں ختم ہو چکی تھی اور جو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ 40 روزہ جنگ میں اپنے اعلیٰ رہنماؤں کی موت کے بعد خاتمے کے قریب دکھائی دینے لگی تھی، اس جنازے کے ذریعے دوبارہ استوار کرنے کی کوشش کی گئی۔
سابق رہبر کے علاوہ درجنوں اعلیٰ سیاسی اور فوجی عہدیدار بھی پورے ایران میں اس مقصد سے قتل کیے گئے کہ نظام کو گرایا جا سکے۔
ایران نے سپاہ پاسداران نامی ادارے کی موجودگی کی وجہ سے اسرائیل اور امریکہ کے شدید حملوں کا مقابلہ کیا، جو ایران کے بنیادی ڈھانچے تک پھیل گئے تھے اور بالآخر 40 دن بعد امریکہ کے ساتھ جنگ بندی اور 60 روزہ مفاہمتی معاہدہ کیا۔
اس نظام کے لاکھوں حامیوں کی مختلف شہروں میں موجودگی ایک حقیقت تھی جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن وہ صرف اپنے رہنما کی تدفین کے لیے نہیں بلکہ اپنے مخالفین کو طاقت دکھانے کے لیے بھی سڑکوں پر نکلے تھے۔
البتہ اس قسم کا تقابل ایسے حالات میں درست نہیں جب ایرانی عوام کو آزادانہ اجتماع اور اظہار رائے کی اجازت حاصل نہیں، تاہم چونکہ حکومت اپنے حامیوں کی محفوظ شرکت کو یقینی بنا سکتی ہے، اس لیے ایک ہفتے تک جاری رہنے والی اس قسم کی سوگوار تقریبات دراصل ایک سیاسی طاقت کا مظاہرہ، داخلی وزن آزمائی اور نئے رہنما کی حکومت کے لیے بین الاقوامی سطح پر حیثیت قائم کرنے کی کوشش تھیں، ایسا رہنما جو اپنے والد کی موت کے بعد سے عوامی منظر سے تقریباً غائب رہا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سید علی خامنہ ای کی شان دار تدفین کو حکومت کے ایک سیاسی منصوبے کے طور پر منظم کیا گیا۔ نظام کے حامیوں اور اس سے وابستہ افراد کو سڑکوں پر بلایا گیا تاکہ نظام کے نئے سیاسی حکمرانوں اور اقتدار کے مرکز کے لیے عوامی حمایت کا تاثر پیدا کیا جا سکے۔
عوامی تحریکوں اور اس کے بعد 40 روزہ جنگ کے دوران سپاہ پاسداران نے حکومت کو سقوط کے خطرے سے بچایا۔ اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ خامنہ ای کے بعد کے ایران میں، نئے رہبر کی طاقت مکمل طور پر مستحکم ہونے تک فوجی عناصر داخلی اور خارجی معاملات میں نمایاں کردار ادا کریں گے۔
مصنف کے خیال میں موجودہ نظام خود کو ایک عبوری مرحلے میں دیکھ رہا ہے جہاں وہ نئی شناخت کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسی شناخت جو سابق رہبر کی موت، امریکہ کے ساتھ ایک بڑی جنگ اور نئی قیادت کے قیام کے بعد ابھری ہے۔ نئی صورت حال میں حکومت امریکہ کے ساتھ ایک جامع معاہدے اور جنگ کے خاتمے کے ذریعے خود کو مزید داخلی اور خارجی بحرانوں سے نکالنے کی کوشش کر رہی ہے۔
نئی ایرانی حکومت امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کی خواہش رکھتی ہے۔ اس کی علامات میں ایران کے جنوبی پانیوں میں سپاہ پاسداران کی براہ راست ملاقاتیں اور بھاری قیمت پر ہونے والی سودے بازی شامل ہیں۔ ایران اور امریکہ 1979 میں تہران میں امریکی سفارت کاروں کے یرغمال بنائے جانے کے بعد سے چار دہائیوں سے زائد عرصے تک مسلسل کشیدگی اور جنگی تیاری کی حالت میں رہے ہیں۔
امریکہ کے اس وقت کے صدر جمی کارٹر نے مئی 1980 میں یرغمال سفارت کاروں کو بچانے کے لیے ’آپریشن ایگل کلا‘ کا حکم دیا تھا۔ کارٹر نے اپنی یادداشتوں میں لکھا کہ ایران پر فوجی حملے اور حساس تنصیبات کی بمباری کے لیے وسیع منصوبے تیار تھے، لیکن ایران کے صوبہ جنوبی خراسان میں واقع ایک تاریخی اور وسیع صحرائی شہر طبس کے صحرا میں ریت کے طوفان اور ہیلی کاپٹروں کی فنی خرابی کے باعث یہ آپریشن تہران پہنچنے سے پہلے ہی منسوخ کر دیا گیا۔
اس کے بعد بھی ایران تین مرتبہ امریکہ کے ساتھ جنگ کے دہانے تک پہنچا۔
25 جون 1996 کو سعودی عرب کے شہر ظہران کے قریب الخبر ٹاورز دھماکے کے بعد ایران اور امریکہ آمنے سامنے آ گئے تھے۔ اس حملے میں 19 امریکی فوجی مارے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔
بعد کی امریکی تحقیقات اور فرد جرم میں ’حزب اللہ حجاز‘ نامی گروہ کے ارکان کو ذمہ دار قرار دیا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ سپاہ پاسداران اور ایرانی سکیورٹی اداروں کے بعض عناصر نے اس کارروائی کی حمایت کی تھی۔ تہران نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا، تاہم واشنگٹن میں اس وقت بھی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے امکانات پر غور کیا گیا۔
امریکی روایات کے مطابق بل کلنٹن کی حکومت ایسے شواہد کی تلاش میں تھی جو عدالت اور عوامی رائے دونوں کے سامنے قابل دفاع ہوں۔
اس معاملے میں سعودی عرب نے جنگ روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق، جن میں نیویارکر کی رپورٹ بھی شامل ہے، سعودی حکام، خصوصاً اس وقت کے ولی عہد اور بعد کے فرمانروا شہزادہ عبداللہ، امریکہ کے ایران پر براہ راست حملے کے نتائج کے بارے میں محتاط تھے اور انہوں نے فوجی کشیدگی بڑھانے کی بجائے انٹیلی جنس تعاون، بحران پر قابو پانے اور تہران سے رابطے کو ترجیح دی۔
جنگ کی گھنٹی ایک بار پھر اس وقت بجی جب 2001 میں جارج بش نے ایران کو افغانستان اور شمالی کوریا کے ساتھ ’محورِ شرارت (ایکسس آف ایول)‘ کا حصہ قرار دیا۔ 11 ستمبر کے حملوں اور نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں تین ہزار سے زائد افراد کی موت کے بعد افغانستان امریکہ اور اتحادی افواج کا ہدف بنا۔ اس دوران ایران کی تعاون پر مبنی پالیسی اور ایرانی فضائی حدود سے القاعدہ کے ٹھکانوں پر حملوں کی اجازت نے جارج بش کا مؤقف نرم کیا۔ بعد ازاں امریکہ نے 2003 میں عراق میں صدام حسین کے خلاف جنگ کا آغاز کیا۔
ایران نے بعد میں بھی عراق میں امریکی افواج کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر امریکہ کے ساتھ براہ راست جنگ سے گریز کی کوشش کی۔
ایران پر حملے کا آپشن باراک اوباما کے دورِ صدارت میں بھی زیر غور رہا اور گذشتہ 46 برسوں کے دوران یہ جنگی کیفیت ہمیشہ ایران کے لیے ایک بڑا خطرہ رہی ہے۔
گذشتہ موسم گرما کی 12 روزہ جنگ اور اس کے بعد سردیوں اور بہار میں ہونے والی 40 روزہ جنگ، ایران کے سیاسی اور فوجی حکام کے لیے کبھی غیر متوقع نہیں تھیں۔ اسی لیے وہ اپنے رہبر کی موت جیسے بدترین حالات میں بھی حکومت کو مکمل گرنے سے بچانے میں کامیاب رہے۔ آج بھی وہ امریکہ کے ساتھ 46 برس پر محیط کشیدگی کے خاتمے کے خواہاں ہیں تاکہ اس حقیقی بحران سے نکل سکیں جس کا انہیں جلد سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
خامنہ ای کی وفات کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ ایک مختلف اور زیادہ سخت گیر اسلامی جمہوریہ ابھری ہے، جس میں سپاہ پاسداران کا کردار اور طاقت ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اس تناظر میں وہ ایسی تبدیلیوں کی تلاش میں ہیں جن میں بڑا انحصار امریکہ کے ساتھ جنگ کا خاتمہ ہے۔
تاہم موجودہ ایرانی حکومت ایک کمزور حکومت کے طور پر باقی رہ گئی ہے، جو جنگ کے خاتمے کے بارے میں انتہائی پرامید اندازے کے باوجود بھی کروڑوں ناراض ایرانیوں کے ہوتے ہوئے طویل عرصے تک برقرار نہیں رہ سکے گی۔
داخلی حیثیت کے بحران، پیچیدہ معاشی اور سکیورٹی صورت حال، ہمسایہ ممالک اور دنیا کے ساتھ کشیدہ تعلقات اور ایک ایسے رہبر کی موجودگی جو منظر عام سے دور ہے، اس نظام کی عمر کو مختصر بنا سکتے ہیں۔ وہ امریکہ اور دنیا کے ساتھ اچھے تعلقات کے قیام کے لیے پہلے ہی 46 برس تاخیر کر چکے ہیں۔
کاملیا انتخابی فرد انڈپینڈنٹ فارسی کی ایڈیٹر ان چیف ہیں۔ یہ تحریر ان کی رائے پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
یہ تحریر انڈپینڈنٹ فارسی پر شائع ہوچکی ہے۔

